Get Alerts

انقلاب کے بعد انتخاب، کس کو چنیں گے بنگلہ دیشی عوام؟

بنگلہ دیش کی اہم ترین سیاسی جماعت، حسینہ واجد کی عوامی لیگ، اس انتخابی عمل سے باہر ہے۔ وہ خود بھارت میں سیاسی پناہ لے چکی ہیں اور ان کی جماعت کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ عوامی لیگ کا ووٹر خاموش رہے گا اور گھر سے نہیں نکلے گا۔ اگر تھوڑا بہت نکلا بھی تو اس کا ووٹ جنرل ارشاد کی سیاسی جماعت کو پڑے گا۔

انقلاب کے بعد انتخاب، کس کو چنیں گے بنگلہ دیشی عوام؟

12 فروری کو بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ یہ انتخابات بنگلہ دیشی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں کیونکہ چند ماہ قبل برپا ہونے والی عوامی تحریک کے بعد یہ پہلے عام انتخابات ہیں۔ جنوبی ایشیا کا مشرقی خطہ چند سالوں سے عوامی تحریکوں کا مسکن بنا رہا ہے۔ نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں انقلابی صورتحال رہی۔ ان تین ممالک کے تقریباً 28 کروڑ انسانوں نے اپنے حکمران طبقات کے خلاف طبلِ جنگ بجا دیا، جو لوٹ کھسوٹ، بدعنوانی اور آمریت کی علامت تھے۔

اسی علاقے کے دوسرے اہم ترین ممالک، بھارت اور پاکستان، اس عوامی لہر سے محفوظ رہے۔ بھارت میں چونکہ 1947 کے بعد سے اب تک جمہوریت تسلسل سے قائم ہے، لہٰذا وہاں ہر پانچ سال کے بعد عوامی سوچ الیکشن کے نتیجے میں عیاں ہو جاتی ہے۔ پاکستانی عوام مزاجاً انقلابی نہیں بلکہ انتخابی ہیں۔ وہ آمریت اور بدعنوانی کے خلاف مسلح مزاحمت نہیں کرتے، کیونکہ مزاحمتی مزاج نہیں رکھتے۔ جو مزاحمت کرنا چاہتے ہیں ان کی تعداد کم ہے؛ اکثریت ووٹ کے ذریعے تبدیلی کی خواہاں ہے، جس کا اظہار دو سال قبل 8 فروری 2023 کو کیا گیا۔ مگر پاکستان میں طاقت کے اصل مراکز نے عوامی پسند کو جوتے کی نوک پر رکھ کر فارم 47 کے حکمران مسلط کر دیے، جبکہ عوام کی اکثریت خاموش رہی اور اپنے ووٹ کی چوری پر احتجاج نہیں کیا۔

اس وقت بنگلہ دیش میں جن دو سیاسی جماعتوں میں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے، ان میں ایک جماعتِ اسلامی اور دوسری مرحومہ خالدہ ضیا، سابق وزیرِ اعظم بنگلہ دیش، کی سیاسی جماعت ہے۔ خالدہ ضیا کے بیٹے، طارق ضیا، اب اس جماعت کے لیڈر ہیں۔ بنگلہ دیش سے آنے والی اطلاعات کے مطابق ان دونوں میں سے جو بھی جماعت فاتح ہو گی، اس کے پاس واضح اکثریت نہیں ہو گی اور اسے ایک بہت توانا حزبِ اختلاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بنگلہ دیش کی اہم ترین سیاسی جماعت، حسینہ واجد کی عوامی لیگ، اس انتخابی عمل سے باہر ہے۔ وہ خود بھارت میں سیاسی پناہ لے چکی ہیں اور ان کی جماعت کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ عوامی لیگ کا ووٹر خاموش رہے گا اور گھر سے نہیں نکلے گا۔ اگر تھوڑا بہت نکلا بھی تو اس کا ووٹ جنرل ارشاد کی سیاسی جماعت کو پڑے گا۔

عوامی لہر کے بعد جو نوجوان طبقہ ہے، ڈھاکہ شہر کی حد تک، اس کی پاکستان سے ناراضگی کم ہو چکی ہے، مگر پچاس سال سے اوپر کے لوگوں میں ناراضگی برقرار ہے۔ بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی کے 300 حلقے ہیں جبکہ ایوانِ بالا، سینیٹ، کا وجود ہی نہیں۔ اب الیکشن کے بعد نئی قومی اسمبلی سینیٹ کی تشکیل کرے گی۔

عام تاثر ہے کہ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات شفاف ہوں گے۔ آزادی سے لے کر اب تک بنگلہ دیش کے بھارت سے تعلقات اچھے رہے، مگر اس عبوری حکومت کے دور میں خراب ہوئے ہیں۔ عبوری حکومت نے پاکستان سے تعلقات بہتر کیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کے بعد وجود میں آنے والی سیاسی قیادت بھارت کے ساتھ تعلقات کو عبوری حکومت کے فیصلوں کے برعکس ماضی کی طرح ٹھیک کرتی ہے یا کشیدہ ہی رہنے دیتی ہے۔ اگر مرحومہ خالدہ ضیا کی پارٹی الیکشن جیت گئی تو وہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرے گی۔

اب 12 فروری کو پتا لگے گا کہ نوجوان نسل، جو انقلابی تحریک کی سرخیل تھی، جماعتِ اسلامی یا خالدہ ضیا کی جماعت — جسے ان کا بیٹا طارق ضیا لیڈ کر رہا ہے — کس کا ساتھ دیتی ہے۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔