سقوطِ پاکستان 1971 ایک خونریز اور قومی ضمیر کو زخمی کرنے والا سانحہ تھا اور ہے، اور اس سے بھی بڑا ستم یہ تھا اور ہے کہ اس کے بعد ایک اور نہ ختم ہونے والا سانحہ جنم لیتا ہے۔ اس سانحے کے کردار وہ لاکھوں اردو بولنے والے پاکستانی، غیر بنگالی/ بہاری مسلمان ہیں جو اچانک، آناً فاناً پاکستانی شہری سے بے وطن، دربدر اور بے گھر ہو گئے۔
جن کا قتلِ عام ہوا، جن کے جینو سائیڈ کو چھپایا گیا، اور جو زندہ بچ گئے وہ بنگلہ دیش میں “کیمپوں” میں چھوڑ دیے گئے—بغیر شہریت، بغیر تحفظ اور بغیر کسی ریاستی اخلاقیات کے سہارے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں پاکستان برسوں تک اپنا شہری کہتا رہا، جو پاکستان کے لیے لڑے، مگر شکست کے بعد اجتماعی یادداشت سے خارج کر دیے گئے۔
میں نے حال ہی میں ایک نئی ڈیجیٹل مونوگراف کا ڈرافٹ مکمل کیا ہے، جس میں 16 دسمبر 1971 سے 16 جنوری 2026 تک کی ان پالیسیز کی سبک رفتار میپنگ کی گئی ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ تقریباً 324,000 “محصورین/لاپتہ/گم شدہ/متروک/رضاکارِ پاک فوج کے/عشاقِ پاکستان”، یعنی بہاری یا غیر بنگالی اردو بولنے والے، کیوں پاکستان منتقل نہ ہو سکے۔ اس ضمن میں کئی دستاویزات اور ان سے منسلک تحقیقی مواد کا بغور جائزہ لیا گیا۔
ایک اہم ترین ڈاکومنٹ سہ فریقی مذاکرات کے حوالے سے اگست 1973 کے دہلی معاہدے کا ہے، جو اپریل 1974 میں اپ ڈیٹ ہوا۔ 1973 سے 1977 تک پاکستان کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ یہی وہ دور تھا جب ریاست اپنی خارجہ پالیسی، عالمی ساکھ اور “آگے بڑھنے” کے بیانیے کی تشکیل میں مصروف تھی۔ عزیز احمد اسی عرصے میں خارجہ پالیسی کے سب سے طاقتور منصب پر فائز رہے۔ یہ کوئی ثانوی کردار نہیں تھا؛ یہ وہ مقام تھا جہاں فیصلے محض فائلوں میں نہیں بلکہ انسانوں کی تقدیر میں ڈھلتے ہیں۔
آج اسی حوالے سے ایک کردار پر بات کرنا چاہوں گی، جسے الزام تراشی نہ جانا جائے بلکہ تلف شدہ، تلخ اور تاریک تاریخ کے اس باب کو سمجھنے کی ایک کاوش سمجھا جائے—یہ ہیں سلیبریٹڈ عزیز احمد، سرد جنگ کے دور کے ایک تربیت یافتہ سفارت کار، پاکستان کے تیرہویں وزیرِ خارجہ۔
عزیز احمد کا عہد اور سہ فریقی پیکٹ
عزیز احمد—ایک ایسا نام جسے ریاست آج بھی وقار، شائستگی اور “حقیقت پسندانہ سفارت کاری” کی علامت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ مگر تاریخ صرف یہ نہیں دیکھتی کہ کسی نے کیا کہا، بلکہ یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ طاقت کے مقام پر بیٹھ کر کسی نے کیا نہیں کہا—اور بعض اوقات کیا کہا۔
1972 میں شملہ معاہدہ ہوا۔ 1973 میں دہلی معاہدہ طے پایا، اور اپریل 1974 میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ دہلی میں جمع ہوئے تاکہ 1971 کے بعد کے زیرِ التوا مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔
28 اگست 1973 کو ہونے والا دہلی معاہدہ ایک سہ فریقی، انسانی ہمدردی پر مبنی پیکٹ تھا، جس کا مقصد جنگی قیدیوں اور پھنسے ہوئے شہریوں کی واپسی تھا۔ یہ معاہدہ 28 اگست 1974 کو اپنی مدت پوری کر کے ختم ہو گیا۔
اس دوران پاکستان سے تقریباً 121,000 بنگالی واپس بنگلہ دیش گئے، جبکہ بنگلہ دیش سے تقریباً 108,744 (یا 108,000) غیر بنگالی پاکستان منتقل ہوئے۔ بھارت نے بھی پاکستانی جنگی قیدی رہا کیے، مگر اردو بولنے والے “پھنسے ہوئے پاکستانی” ( بہاری) اس عمل سے بڑی حد تک باہر رہ گئے۔
فرق واضح تھا: 121,695 بنگالی شہری پاکستان سے واپسی کر کے بنگلہ دیش پہنچائے گئے، جہاں وہ مکمل وقار کے ساتھ اپنی جائیداد، اثاثے اور قیمتی سامان لے کر یا فروخت کر کے واپس گئے۔ وہیں بہاری قتل ہوئے، بے عزت کیے گئے، ان کے گھر لوٹے گئے، اور کاروبار ضبط کر لیے گئے۔ پاکستان پر تنقید کی گئی کہ اس نے باقی رہ جانے والی بہاری کمیونٹی کو آباد کرنے کے وعدے سے پیچھے ہٹ کر انہیں بے شہریت چھوڑ دیا۔
مذاکرات میں کیا ہوا؟
پاکستان کی نمائندگی وزیرِ خارجہ عزیز احمد اور بنگلہ دیش کی جانب سے ڈاکٹر کمال حسین کر رہے تھے۔ بات چیت رات گئے تک جاری رہی۔ ان مذاکرات کے دو سب سے "متنازع نکات" تھے:
1. بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے باقی ماندہ پاکستانی شہریوں (بہاریوں) کی واپسی
2. جنگی جرائم کے مقدمات
پورا پس منظر بنگلہ دیشی صحافی عمران چودھری نے اپنے مضمون “Parleys with Pakistan” میں بیان کیا ہے، جو 27 مارچ 2024 کو ڈھاکہ ٹریبیون میں شائع ہوا۔ متنازع جملہ اور اس کا حوالہ بھی اسی مضمون سے لیا گیا ہے۔ یہ بیان کسی سرکاری پاکستانی ریکارڈ میں موجود نہیں، بلکہ بنگلہ دیشی فریق کے بیانیے میں نقل ہوا، جسے بعد ازاں صحافتی تحریروں میں محفوظ کیا گیا۔
مضمون کے مطابق، جب بہاریوں کی واپسی کے مسئلے پر عزیز احمد پر زور دیا گیا تو انہوں نے جواباً کہا:
“انہیں بھارت میں کیوں نہیں دھکیل دیتے؟”
جب بنگلہ دیشی فریق نے کہا کہ یہ ممکن نہیں، تو ان کا جواب تھا:
“تو پھر انہیں خلیجِ بنگال میں دھکیل دیا جائے۔”
(حوالہ: عمران چودھری، “Parleys with Pakistan”، ڈھاکہ ٹریبیون، 27 مارچ 2024)
مضمون میں یہ بھی لکھا گیا کہ بہاری اس وقت پاکستانی حکومت کے لیے ایک اندرونی سیاسی مسئلہ (“domestic headache” / سر درد) بن چکے تھے۔
کیا یہ طنز تھا؟
اور اگر تھا تو؟ کچھ لوگ اس جملے کو طنز، جھنجھلاہٹ یا لمحاتی ردِعمل قرار دے سکتے ہیں۔ مان لیا جائے کہ ایسا ہی ہو، تب بھی اصل سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے: کیا انسانی المیے پر طنز سفارتی زبان کہلا سکتا ہے؟ سفارت کاری کی بنیادی زبان احتیاط، ابہام اور کم از کم انسانی وقار کی پابند ہوتی ہے۔ طاقت کے منصب پر بیٹھے شخص کا بے وطن اور کیمپوں میں محصور انسانوں کے بارے میں اس نوعیت کی زبان استعمال کرنا—چاہے وہ طنز ہو یا سنجیدہ—ریاستی اخلاقیات کی شکست کو ظاہر کرتا ہے۔
طاقت کے عدم توازن میں کہا گیا طنز، طنز نہیں رہتا؛ وہ تحقیر بن جاتا ہے۔ اہم تر بات یہ ہے کہ اگر یہ محض طنزیہ جملہ تھا تو اس کے بعد کوئی حل کیوں سامنے نہ آیا؟ خاموشی کیوں برقرار رہی؟ تاخیر کیوں معمول بنی؟ جب الفاظ کے بعد عمل نہ بدلے تو الفاظ ذہنیت کی عکاسی بن جاتے ہیں۔ یہی وہ اخلاقی سوال ہے جو باقی رہ گیا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ بہاریوں کے المیے کی تمام ذمہ داری ایک فرد پر ڈال دی جائے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ طاقتور مناصب پر بیٹھے افراد کی خاموشی اور زبان پورے نظام کا رویہ بن جاتی ہے۔ عزیز احمد اس رویے کے معمار نہ سہی، نمائندہ ضرور تھے۔ یہاں ایک گہری اخلاقی لغزش سامنے آتی ہے: جس ریاست نے اردو کو اپنی شناخت کا ستون بنایا، اسی ریاست نے اردو بولنے والوں کو سب سے پہلے تاریخ سے خارج کیا۔ یہ محض ایک تلخ تضاد نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا اخلاقی انحراف تھا جس پر خاموشی نے مہر ثبت کی۔
احتشام ارشد نظامی کا موقف
احتشام ارشد نظامی صاحب غیر بنگالی اردو بولنے والے/ بہاری المیے سے بخوبی واقف صحافی اور بہاری برادری کے فرد ہیں۔ وہ گزشتہ چون برسوں سے اس برادری کی پاکستان منتقلی کے لیے سرگرم ہیں۔ ان کے مطابق یہ جملہ کسی سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں، اور اگر آف دی ریکارڈ کہا بھی گیا تو منظرِ عام پر نہیں آیا۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بہاریوں کی واپسی کی تجویز خود عزیز احمد نے مسترد کی تھی، جس سے مسئلہ سبوتاژ ہوا۔
ان کا تفصیلی جواب ان کے الفاظ میں درج ذیل ہے:
"پاکستان کے سیکریٹری خارجہ عزیز احمد نے بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر کمال حسین سے یہ کہا کہ ‘بہاریوں کو اگر بھارت نہیں لیتا تو انہیں خلیجِ بنگال میں پھینک دو۔’ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ نہ تو یہ بات ریکارڈ پر ہے اور نہ ہی یہ کہیں رپورٹ ہوئی ہے۔ اگر نجی ملاقات میں آف دی ریکارڈ کوئی بات ہوئی ہو تو وہ منظرِ عام پر نہیں آئی۔
ویسے عزیز احمد نے ہی اس انسانی مسئلے کو سبوتاژ کیا تھا۔ جب 1973 میں سہ فریقی مذاکرات دہلی میں ہوئے، جن میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش نے شرکت کی، تو بہاریوں (غیر بنگالیوں) کی پاکستان واپسی کی بنگلہ دیش کی تجویز عزیز احمد نے مسترد کر دی اور کہا کہ وہ لوگ بھارت سے مشرقی پاکستان آئے تھے، اس لیے وہ بنگلہ دیشی شہری ہیں۔ اس پر مذاکرات میں تعطل ہوا۔
جہاں تک تعلق ہے کہ کیمپوں سے بہاری پاکستان کیوں نہیں آ سکے، اس سلسلے میں مکمل طور پر پاکستان ذمہ دار ہے۔ بنگلہ دیش کی ہر حکومت—چاہے وہ شیخ مجیب کی 1972 کے بعد کی حکومت ہو، جنرل ارشاد کی، شیخ حسینہ کی، حتیٰ کہ محمد یونس کی—سب پاکستان سے یہی مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ بہاریوں نے آزادی کی جنگ میں پاکستان کا ساتھ دیا تھا اور وہ وہیں جانا چاہتے ہیں، اس لیے آپ انہیں لے جائیں۔
خالدہ ضیا نے اپنے دورِ حکومت میں اپنے کاؤنٹرپارٹ میاں نواز شریف سے اسلام آباد میں مذاکرات کیے تھے اور طے پایا تھا کہ کیمپوں میں محصور تمام لوگوں کو پاکستان منتقل کیا جائے گا۔ جنرل ضیا الحق نے 1988 میں مسلم ورلڈ لیگ سے ایک سرکاری معاہدہ کیا تھا کہ کیمپوں سے تمام لوگوں کو منتقل کیا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے رابطہ ٹرسٹ میں پچیس کروڑ روپے دیے گئے جبکہ مسلم ورلڈ لیگ نے پانچ کروڑ دیے۔ اسی معاہدے کے تحت نواز شریف نے علامتی طور پر تقریباً 63 خاندانوں کو پنجاب میں لا کر آباد بھی کیا تھا، مگر پھر وہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔"
احتشام ارشد نظامی، ٹیکسٹ میسج، 17 جنوری 2026
عمران چودھری نے کیا بتایا؟
ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مطابق، عمران چودھری ڈھاکہ میں مقیم ایک قانون دان، مؤرخ اور عوامی دانشور ہیں، جو بین الاقوامی قانون اور جنوبی ایشیائی سیاست پر لکھتے ہیں۔ وہ ڈھاکہ ٹریبیون اور ڈھاکہ کوریئر سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر کالم اور تجزیے شائع کرتے رہے ہیں اور ڈاکٹر کمال حسین اینڈ ایسوسی ایٹس کے ساتھ تحقیقی معاونت بھی انجام دے چکے ہیں۔
میں نے عمران چودھری کو 17 جنوری 2026 کو سوشل میڈیا اور ای میل کے ذریعے رابطہ کیا اور اس مضمون کے حوالے سے عزیز احمد سے منسوب جملوں کے ریفرنس کی درخواست کی۔ ان کا فوراً ہی جواب آ گیا، جس کے مطابق یہ حوالہ/بیان ڈاکٹر کمال حسین کی کتاب “Bangladesh: Quest for Freedom and Justice” کے صفحہ 238 پر درج ہے۔
ڈاکٹر کمال حسین اور ان کی کتاب — مختصر معلومات
کمال حسین (پیدائش: 20 اپریل 1937)، جو عام طور پر ڈاکٹر کمال کے نام سے جانے جاتے ہیں، بنگلہ دیش کے بانی رہنماؤں میں شامل، ممتاز قانون دان اور سیاست دان ہیں۔ انہیں “آئینِ بنگلہ دیش کا معمار” کہا جاتا ہے اور برصغیر میں سیکولر جمہوریت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کمال حسین اس وقت ڈھاکہ میں اپنی ذاتی قانونی فرم کے سربراہ ہیں۔
ان کی کتاب 2013 میں شائع ہوئی۔ یہ ایک عینی اور اندرونی شہادت ہے جو آزادیٔ بنگلہ دیش، بعد از آزادی ریاست سازی اور سیاسی جدوجہد کا تفصیلی احاطہ کرتی ہے۔ یہ کتاب اُن سیاسی ارتقاؤں کو بیان کرتی ہے جن کے نتیجے میں آزاد بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ کمال حسین اس میں سیاسی جدوجہد کے مختلف مراحل میں اپنی ذاتی شمولیت کا زندہ اور براہِ راست مشاہداتی بیان پیش کرتے ہیں۔
وہ خصوصاً ساٹھ کی دہائی میں آزادیٔ صحافت اور ریاستی جبر کے شکار افراد کے قانونی دفاع میں اپنے کردار کا ذکر کرتے ہیں، بالخصوص اگرتلہ سازش کیس کے تناظر میں۔ بعد ازاں ایوب خان کی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں عوامی لیگ کی ٹیم کے ساتھ ان کی وابستگی اور 1971 میں یحییٰ خان کے ساتھ ان کے روابط “جنگِ آزادی” تک پہنچنے والے واقعات پر اہم تاریخی بصیرت فراہم کرتے ہیں۔
آزادی کے بعد، بطور وزیرِ قانون، چیئرمین دستور ساز کمیٹی (1972)، بعد ازاں وزیرِ خارجہ اور وزیرِ پیٹرولیم و معدنیات (1973–1975) کے طور پر، وہ ریاست سازی اور سیاسی تبدیلی کے درپیش چیلنجز پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
سچ، خاموشی اور اخلاقی سوال
ایک طرف ایک اندرونی کمیونٹی گواہ کا انکار ہے، اور دوسری طرف ایک تحریری، شائع شدہ تاریخی ماخذ—اور ان دونوں کے درمیان وہ ریاستی خاموشی کھڑی ہے جس نے سوال کو آج تک معلق رکھا ہوا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام ذمہ داری ایک فرد پر ڈال دی جائے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ طاقتور مناصب پر بیٹھے افراد کی زبان اور خاموشی پورے نظام کا رویہ بن جاتی ہے۔ جس ریاست نے اردو کو شناخت بنایا، اسی نے اردو بولنے والوں کو تاریخ سے خارج کیا۔
میرے حساب سے یہاں سچ اور جھوٹ کی بحث میں الجھنے کے بجائے یہ سوال اٹھانا خطرناک مگر ناگزیر ہے کہ پاکستان نے اس دعوے کا کیا جواب دیا؟ اگر یہ سچ ہے تو اس کا اثر (impact) کیا ہے؟ شاید جواب سے ہم سب واقف ہیں، مگر سب پورا سچ بولنے سے—تو کیا—سوچنے، پڑھنے اور سننے سے بھی گریزاں ہیں، اور اس گریز کو پراگمیٹزم کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
آج اگر چند لوگ اس زخم کو چھیڑتے ہیں تو ہمیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے۔ لکھنے سے کچھ نہیں ہوتا، ویڈیوز بناؤ، سفرنامے سناؤ، تفریح پیدا کرو—تب شاید سنا جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ تفریح کے اصولوں پر لکھی جاتی ہے؟ کیا گواہی دینے کے لیے اداکار بننا ضروری ہے؟
قومیں صرف جنگوں سے نہیں ٹوٹتیں، وہ اپنے لوگوں کو بھول کر بھی بکھر جاتی ہیں۔ بہاریوں کو بھلا دینا ایک انتظامی کوتاہی نہیں تھا؛ یہ ایک اخلاقی فیصلہ تھا جس پر خاموشی نے مہر ثبت کی۔ میڈیا اور ادب کی خاموشی بھی اسی انحراف کا حصہ ہے۔ بہاریوں کی کہانی نہ کسی قومی بیانیے میں فٹ آتی ہے، نہ کسی رومانوی مزاحمت کا حصہ بن سکتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ 1971 صرف سیاسی اور عسکری شکست نہیں تھی، بلکہ اس کے بعد ایک مسلسل اخلاقی شکست بھی جاری رہی جس میں سفارت کار، حکمران اور دانشور سب شریک تھے۔
میں نے سنا ہے کہ عزیز احمد اپنی یادداشتیں ترتیب دینا چاہتے تھے، مگر ان کی کوئی معروف اشاعت شدہ سوانحِ حیات یا یادداشت (memoir) موجود نہیں ہے جسے تحقیق یا دستاویز کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
عزیز احمد کی یادداشتیں شاید کبھی مکمل نہ ہو سکیں، مگر جن لوگوں کو ریاست نے یادداشت سے خارج کیا، ان کی گواہی آج بھی زندہ ہے—“کیمپوں” کی مٹی میں، وطن میں جلاوطنی میں، ادھوری شہریت میں، اجتماعی خاموشی میں، اور شاید ہمارے اجتماعی ضمیر کی کلینیکل ڈیتھ میں۔
سوال یہ نہیں کہ ہم نے کیا کھویا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے کس کو چھوڑ دیا، کس کو بے رحمی سے بھلا دیا، کس کو ادب کے حافظے سے، میڈیا کے حافظے سے، نصاب کے حافظے سے اور سفارت کاری کے حافظے سے مٹا دیا۔
تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تری رہبری کا سوال ہے