مجھے زندگی میں اپنے خود نوشت لکھنے کا کبھی خیال نہیں آیا ۔ اگر کوئی دوست اس طرف توجہ بھی دلاتا تو میں طرح دے جاتا ۔ عزیز دوست اور میری کتابوں کے پبلشر امر شاہد نے کئی بار ترغیب دی لیکن میں ٹال گیا۔ دن گزرتے رہے پھر ایک دن لاہورکے ایک ریستوران میں یار ِعزیز رضا رومی نے کافی پیتے ہوئے پنی یادداشتوں کی ویڈیو سیریز کا ذکر کرنے کے بعد مجھے کہا آپ کی یادداشتیں کب ا ٓرہی ہیں میں نے ہمیشہ کی طرح ہنس کر بات ڈال دی ۔ تب ایک روز شام ڈھلے جب لاہور کا آسمان بادلوں سے بھر گیا تھا اور ہلکی ہلکی پھوا ر برس رہی تھی اور میں منیر نیازی کو پڑھ رہا تھا تو میری نظر ایک نظم پر رک گئی.
میں نے دل چسپی سے نظم پڑھنا شروع کی۔
بچوں جیسی باتیں۔
آج کا کام نہ کل پر ٹالو
جو کچھ لکھنا ہے لکھ ڈالو
اِدھر اُدھر کی جھوٹی باتیں
ذرا ذرا سی جیتیں ماتیں
جانے پھر کب موت آ جائے
دل کی دل ہی میں رہ جائے
پتہ نہیں وہ موسم کا افسوں تھا، اس لمحے کا سحر تھا یا منیر نیازی کےنظم کا جادو جب میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے مجھے اپنی یادداشتیں قلم بند کرنی چا ہییں ۔ یہ ایک عام شخص کی عام سی یادیں ہیں شاید اس میں کسی کی دلچسپی کا سامان ہو۔
اس کہانی کا آغاز ولپنڈی سے تیس کلومیٹر دور چک بیلی خان روڈ پر ایک گاؤں ڈہوک بدھال سے ہوتاہے جہاں 21 دسمبر کو میری پیدائش ہوئی۔ مجھ سے بڑے تین بھائی تھے اور ایک بہن۔ میرا چھوٹا بھائی پانچ برس بعد پیدا ہوا ۔ یوں ہم پانچ بھائی اور ایک بہن تھے۔ میرے بچپن کے ابتدائی ماہ و سال اسی گاوئں میں گزرے۔ وہ بھی کیسے دن تھے۔اب میں آنکھیں بندکرکے ان دنوں کا تصور کروں تولگتا ہے کسی اور جنم کاقصہ ہے اپنے گائوں کی تصویر ذہن میں لاتا ہوں تو منیرنیازی کی نظم کی ابتدائی سطریں یادآجاتی ہیں ؎
چھوٹا سا اک گائوں تھا جس میں
دیے تھے کم اور بہت اندھیرا
بہت شجر تھے تھوڑے گھر تھے
جن کو تھا دُوری نے گھیرا
بالکل ایسا ہی گائوں تھا میراجہاں گھرکم تھے اور دیے ان سے بھی کم ۔لیکن آسمان کے افق بہت بڑے تھے۔یاشاید مجھے ایسالگتا تھا ۔ گائوں کے مکان زیادہ تر کچے تھے۔ گائوں میں اس وقت بجلی نہیں پہنچی تھی۔ سرِ شام ہم لالٹینوں کے شیشے صاف کرتے۔لالٹینوں کا تیل چیک کرتے۔کبھی کبھار لالٹین کا شیشہ لو تیز ہونے کی وجہ سے تڑخ جاتا۔ ہمارے گھر کے بائیں ہاتھ مرز ا نائی کا گھر تھا اس زمانے میں نائی کا کام صرف بال کاٹنا نہ ہوتا بلکہ وہ دور نزدیک غمی خوش کے پیغام بھی دینے جاتا تھا خوشی کی تقریب میں دعوت کو سدا کہا جاتا مرزا نائی پیدل دوسرے گاؤں میں سدّا دینے جاتا اس کی بیوی کا نام سلطانہ تھا کبھی کبھار ان کی آپس میں لڑائی ہوتی تو ٓاوازیں ہمارے گھر تک آتیں۔ ہمارے گھر کے دائیں طرف کا گھر کمہاروں کا تھا جن کا چھوٹا بیٹا محمود میرا دوست تھا ان کے گھر کا ایک وسیع صحن تھا جس کے آخر میں وہ جگہ تھی جہاں غفور کمہار مٹی کے برتن بنایا کرتا تھا گرمیوں کے دنوں میں جب میں محمود سے ملنے جاتا تو دیر تک مٹی کے برتن بننے کا عمل دیکھتا رہتا ۔گاؤں میں ناموں سے زیادہ پیشوں کے حوالے سے گھروں کا یاد رکھا جاتا ہے جیسے لوہاروں کا گھر کمہاروں کا گھر جو لاہوں کا گھر ۔ گاؤں میں سب ایک دوسرے کو جانتے تھے کسی کے گھر جانے سے پہلے وقت لینے کی ضرورت نہیں تھی جب جی چاہا کسی بھی گھر میں چلے گئے ۔ بہت سادہ و معصوم زندگی تھی
ماں نے سکول کی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی تھی‘ لیکن اخبارات، رسائل اور کتابیں شوق سے پڑھتی تھیں۔ انہیں سلطان باہو، بلھے شاہ اور میاں محمد کے بہت سے اشعار یاد تھے۔ گھر کے کام کرتے ہوئے وہ اکثر کوئی نہ کوئی شعرگنگنا رہی ہوتیں۔ ماں کے والد قیامِ پاکستان سے پہلے ایک سکول میں ریاضی کے استاد تھے۔ ماں بڑے فخر سے اپنے والد کی ریاضی دانی کے قصے ہمیں سناتیں۔ ان میں ایک قصہ اپنے شاگردوں کے ساتھ ان کے تعلق کا تھا۔ ایک بار گرمیوں کی تعطیلات میں وہ شاگردوں کو اپنے گھر لے آئے‘ جہاں ساری چھٹیوں میں ان کو امتحان کی تیاری کرائی۔ ماں بھی گائوں کے بچوں کو بلا معاوضہ قرآن پاک پڑھایا کرتیں۔ اب میں سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ گھر کے سارے کاموں کے ساتھ ساتھ وہ گائوں کے بچوں کو قرآن پاک پڑھانے کے لئے کیسے وقت نکالتی تھیں۔
آج کل ماحولیات کے حوالے سے ہونے والی بحثوں کا مرکز وسائل کو ضیاع سے بچانا ہے۔ ماں کی کوئی رسمی تعلیم نہ تھی‘ نہ ہی وہ ماحولیات کے جدید نظریات سے آگاہ تھیں‘ مگر مجھے یاد ہے‘ ہمارے گھر کبھی روٹی پھینکی نہ جاتی۔ ایک وقت کی پرانی روٹی وہ بچوں کو نہ دیتیں‘ بلکہ خود کھا لیتیں۔ ہمارے منع کرنے پر وہ کہتیں‘ میں نہیں چاہتی روٹی ضائع ہو۔ اسی طرح پانی کے ضائع کرنے پر بھی پابندی تھی۔ ہمیں سختی سے تاکید تھی کہ بچا ہوا پانی ضائع کرنے کے بجائے پھولوں اور پودوں کی کیاریوں میں ڈالیں۔
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ماں نے ہم بہن بھائیوں کی کبھی پٹائی کی ہو۔ انہوں نے کبھی اپنی پریشانی کو ہم تک منتقل نہ کیا۔ بہت مشکل حالات میں بھی کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر کبھی قدغن نہیں لگائی‘ البتہ ایک بات کی سختی سے تاکید تھی کہ گالم گلوچ کرنے والے بچوں کے ساتھ نہ کھیلیں۔ وہ زبان کی شائستگی کی قائل تھیں۔ ہم بچوں کو بھی ادب سے بلاتیں۔ ہمیشہ دوسروں کی عزت کی تلقین کرتیں۔ انہوں نے ہمیں ایک سادہ اصول سمجھایا کہ ہم دوسروں کی عزت کریں گے تو لوگ ہماری عزت کریں گے۔ اسی طرح دوسروں کی کامیابیوں پر بہت خوش ہوتیں۔ تعریف میں کبھی بخل سے کام نہ لیتیں۔ ہمیں بھی ہمیشہ نصیحت کی کہ اچھائی کہیں بھی ہو تو تعریف میں کنجوسی نہ کریں۔
میں آنکھیں بندکرکے بچپن کے دنوں کاتصور کروں‘تو اپنے والد کاشفیق اورروشن چہرہ میرے سامنے آتا ہے۔ وہ ہم بچوں کوتم کی بجائے آپ کہہ کر بلاتے۔ انہوں نے مالی وسائل کی کمی اپنی محبت اورشفقت سے پوری کی تھی۔والدصاحب کو مطالعے کا جنون تھااوران کااپناکتب خانہ تھا۔ ان کے کتب خانے میں زیادہ تر مذہبی کتابیں تھیں۔ان میں بہت سی کتابوں کی جلدسازی بھی انہوںنے خود ہی کی تھی۔ایک دفعہ کاذکر ہے کہ مجھے خیال آیا‘ والدصاحب سے کہوںمیری سکول کی کتابوںکی بائنڈنگ کردیں۔اس وقت رات ہورہی تھی‘ گائوں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے یوں لگتا تھا‘ رات جلدی شروع ہوجاتی ہے۔والدصاحب نے کہا: اب تو رات ہورہی ہے‘ کیوں نہ یہ کام کل کرلیں۔ میں راضی ہوگیا۔ اگلے روزجاگا‘ تووالدہ نے بتایا والد صاحب کو دوسرے گائوں جاناتھا اوروہ روانہ ہوگئے ہیں۔مجھے سمت کا اندازہ تھا۔ میں ننگے پائوں گائوں کی آڑھی ترچھی گلیوں میں سرپٹ بھاگنے لگا۔ میرا سانس دھونکنی کی طرح چل رہاتھا‘ اچانک دور‘ بہت دور ایک انسانی ہیولا دکھائی دیامیں اورتیز بھاگنے لگا ۔ فاصلہ کم ہونے پرمجھے یقین ہوگیا ‘وہ والدصاحب ہیں۔ ہمیشہ کی طرح اجلا سفید لباس ‘سرپرپگڑی ‘ اورپائوں میں شان موچی کے بنے ہوئے کھسے۔ قریب پہنچ کر میں نے زورزورسے انہیں آوازیں دینا شروع کردیں۔آواز سن کر وہ رک گئے ‘ مڑے اورمجھے دیکھا۔ان کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ میں ان سے لپٹ گیااورناراض لہجے میں کہا: آپ نے تو وعدہ کیا تھا۔ انہوںنے جھک کر میرے چہرے کواپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اوربولے اوہ! میں بھول گیاتھا۔چلو واپس چلتے ہیں۔