Get Alerts

سفرِ ناتمام (2): میرے بچپن کے کردار

ہم گاؤں کے بچے اس انتظار میں تھے کہ سکینہ کی شادی کے موقع پر، جب اس کی ڈولی پر پیسے لٹائے جائیں گے، کیسے ہم بچے بھاگ کر ہوا میں اڑتے ہوئے سکوں اور نوٹوں کو پکڑیں گے، لیکن ہمارا یہ خواب، خواب ہی رہا۔ عین شادی والے دن سکینہ نے کہا: وہ شادی نہیں کرے گی۔

سفرِ ناتمام (2): میرے بچپن کے کردار

اس دن والد صاحب نے میرے کہنے پر دوسرے گاؤں جانے کا سفر موقوف کر دیا۔ اور ہم ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ کر واپس گھر آ گئے۔ گھر آ کر انہوں نے میری کتابوں کی بائنڈنگ کر کے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ اس بات کو ایک عمر بیت گئی ہے، لیکن مجھے اب تک وہ دن یاد ہے کہ کس طرح میری خاطر دوسرے گاؤں کا سفر چھوڑ میرے ساتھ گھر واپس آ گئے تھے، اور کس طرح میرے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا کیا۔ یہ مہربان رویہ ان کی شخصیت کا جزوِ خاص تھا۔

والد صاحب عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قادرالکلام شاعر بھی تھے۔ شعر کہنے کے لیے انہیں زیادہ کوشش نہ کرنا پڑتی۔ فارسی، اُردو اور پنجابی میں وہ یکساں سہولت کے ساتھ شعر کہتے تھے۔ پاکستان سے انہیں جنون کی حد تک محبت تھی، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے ذہن میں قیامِ پاکستان کے وہ منظر تازہ تھے، جب ہزاروں مسلمانوں نے اپنے نئے وطن کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے اور اپنی جان اور مال کی قربانی دی۔

والد صاحب کو فارسی، عربی، اُردو، پنجابی کے بہت سے شعرا کا کلام ازبر تھا۔ ہمیں کسی بھی مشکل لفظ کا معنی پوچھنا ہوتا تو ڈکشنری کی بجائے ان سے پوچھتے، اور ہمیں کبھی مایوسی نہ ہوتی۔ ان کی اپنی پسندیدہ لغت "عزیز اللغات" تھی۔

والد صاحب کو خطاطی کا شوق تھا، جو انہیں لاہور لے گیا، جہاں اس وقت خطِ نستعلیق کے موجد عبدالمجید پرویں رقم اپنی کتابت کے جوہر دکھا رہے تھے۔ وہی پرویں رقم، جنہوں نے علامہ اقبال کی کتابوں کی کتابت کی۔ کہتے ہیں ایک دفعہ پرویں رقم نے کتابت ترک کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ خبر علامہ اقبالؔ تک پہنچی، تو انہوں نے پرویں رقم سے کہا: "اگر آپ کتابت چھوڑیں گے، تو میں شاعری چھوڑ دوں گا۔" یوں پرویں رقم نے کتابت چھوڑنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

والد صاحب بتاتے ہیں کہ ایک بار پرویں رقم نے ایک کتاب کے پروف دکھانے کے لیے مجھے علامہ اقبال کے پاس بھیجا۔ علامہ اقبال ایک دھوتی اور بنیان میں ملبوس، ایک تکیے کے سہارے نیم دراز تھے اور ان کے سامنے حقہ رکھا تھا۔ والد صاحب اکثر ہمارے ساتھ اس یادگار منظر کا ذکر کرتے اور ہمیں زندگی میں سادگی کی تلقین کرتے۔


" سفرِ ناتمام" کی پہلی قسط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے


ایک اور منظر بھی والد صاحب کی یادوں کی البم میں ہمیشہ روشن رہا۔ وہ بڑے فخر سے بتایا کرتے کہ ایک بار انہوں نے قائداعظم کی تقریر سنی تھی۔ لوگوں کا ایک اژدہام تھا، جو اپنے محبوب قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے امڈا آیا تھا۔ والد صاحب بتاتے ہیں کہ انہوں نے وہ تقریر ایک درخت پر چڑھ کر سنی۔ وہ یہ واقعہ اکثر ہم بچوں کو سنایا کرتے اور بتاتے کہ ایک لیڈر کا بنیادی وصف اس کا اخلاص ہوتا ہے۔ قائداعظم کا لباس، زبان، رہن سہن کا طریقہ عام لوگوں سے مختلف تھا، لیکن ایک عام آدمی کا بھی ایمان تھا کہ ان کا قائد اپنے مشن کے ساتھ مخلص ہے اور کوئی ترغیب اور تحریص انہیں اپنے راستے سے نہیں ہٹا سکتی۔

پرویں رقم سے فنِ کتابت سیکھنے کے بعد والد صاحب نے خود بھی کئی کتابوں کی کتابت کی۔ ہمارے گاؤں کی مسجد کی تزئین کا سارا کام والد صاحب نے خود کیا۔ خوبصورت گل بوٹے اور ڈیزائین، رنگوں کا حسین امتزاج۔ اس سارے کام میں سب سے متاثر کن کام مسجد کے مستطیل چھت پر سورۃ یٰسین کی کتابت تھی۔ ہم حیران ہوتے، کیسے سورۃ یٰسین کا آغاز ہو کر اختتام اسی نقطے کے قریب ہو رہا ہے۔ یہ سارا کام انہوں نے لکڑی کے ایک معلق تختے پر لیٹ کر کیا۔

والد صاحب پانچ وقت کے نمازی تھے۔ مجھے یاد نہیں، انہوں نے کبھی تہجد کی نماز نہ پڑھی ہو۔ کبھی کبھار رات کو رونے کی آواز سے آنکھ کھل جاتی تو میں ڈر جاتا۔ دیکھتا تو رات کی تاریکی میں والد صاحب جائے نماز پر بیٹھے ہیں، اور روتے ہوئے ان کی گھگھی بندھ گئی ہے۔ انہیں اس طرح بچوں کی طرح روتے دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی، کیوں کہ وہ عام زندگی میں ہمیشہ ہنستے کھیلتے رہتے۔ ان کی طبیعت میں ظرافت کا پہلو غالب تھا۔ ان کے ساتھ ہماری بے تکلفی تھی۔ ان کے سمجھانے کا انداز جدا تھا۔ کبھی سختی نہ کرتے، یوں ان کے حصے کا کام بھی والدہ کو کرنا پڑتا۔

میرے بچپن کا ایک کردار میرے گاؤں کی سکینہ تھی۔ نام تو اس کا سکینہ تھا، لیکن گاؤں میں سب اسے کینو کے نام سے پکارتے تھے۔ بڑی بڑی خوبصورت سیاہ آنکھیں، جو سرمے سے اور بڑی لگتیں، سیاہ گھنے بال، ناک میں کوکا اور پاؤں میں کھسہ۔

اماں بتاتی تھیں، جب ان کی شادی ہوئی اور وہ ایک اجنبی گاؤں میں آئیں، تو زندگی اتنی آسان نہیں تھی۔ سولہ سال کی عمر میں تو کھیلنے کی عمر ہوتی ہے۔ اس عمر میں ماں گھر داری میں پڑ گئیں۔ اب میں سوچتا ہوں، تو حیران ہوتا ہوں کہ ماں اتنے سارے کام کیسے کرتی تھی؟ کھانا پکانا، چکی پیسنا، گھر کی صفائی، کپڑوں کی دھلائی اور بچوں کی نگہداشت۔ ایسے میں انہیں سکینہ مل گئی۔ اس وقت اس کی عمر آٹھ دس سال ہوگی۔ شوخ و شنگ سکینہ، میری ماں کی ہم جولی بن گئی۔ وہ ہر روز آتی اور اپنے ساتھ ڈھیروں باتیں لاتی۔ یوں ایک اجنبی گاؤں کے اجنبی ماحول میں ماں کے لیے سکینہ تازہ ہوا کا ایک جھونکا ثابت ہوئی۔ وہ چھوٹے موٹے کاموں میں ہاتھ بٹاتی اور ہم بہن بھائیوں کو اٹھاتی، بہلاتی اور مصروف رکھتی۔ ایسے میں سکینہ کا ساتھ ایک غنیمت ہوتا۔

سکینہ کی زندگی کا پہلا دن اس کی ماں کی زندگی کا آخری دن تھا۔ سکینہ کی ماں اپنی بیٹی کا چہرہ نہ دیکھ سکی۔ یوں پہلے دن سے ہی سکینہ کو اس کی پھوپھی نے گود لے لیا۔ اگلے زمانے کی محبتیں بھی کیسی محبتیں تھیں! پھوپھی نے اپنی زندگی سکینہ کے لیے وقف کر دی اور ساری عمر شادی نہیں کی۔

سکینہ اس لحاظ سے خوش قسمت تھی کہ اس کے پاس جائیداد کی کمی نہیں تھی۔ گاؤں میں زمین کسان کا زیور ہوتی ہے۔ سکینہ کے پاس یہ زیور وافر مقدار میں موجود تھا۔ سکینہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ یوں وہ ساری جائیداد کی بلا شرکتِ غیرے مالک تھی۔

اب اس کی عمر اتنی ہوگئی تھی، جب ماں باپ لڑکیوں کی شادی کا سوچنے لگتے ہیں۔ کئی بار پھوپھی نے شادی کا ذکر چھیڑا، لیکن ہر بار سکینہ طرح دے جاتی۔ وہ پارہ صفت تھی؛ پل میں یہاں، پل میں وہاں۔ اس زمانے میں لڑکیوں کو اختلافِ رائے کی اجازت نہ تھی، لیکن سکینہ اس کے برعکس تھی۔ اپنی مرضی دھڑلے سے کرتی، اور جس چیز کو صحیح سمجھتی، اس پر ڈٹ جاتی۔

اس کے شوق بھی عجیب تھے؛ مٹی کھانے میں اسے مزا آتا۔ ان دنوں گاؤں کے اکثر مکانوں پر مٹی کا لیپ ہوتا۔ مٹی کی دیواروں پر تیز دھوپ جب دراڑیں ڈالتی، تو کئی جگہوں سے مٹی اکھڑ جاتی۔ مٹی کے یہ ٹکڑے سکینہ کی پسندیدہ خوراک تھی۔ مٹی کے علاوہ وہ کوئلے بھی کھاتی۔ معلوم نہیں مٹی اور کوئلے اس کے جسم پر کیسے اثرات ڈالتے ہوں گے؟ لیکن اس کے خوبصورت سفید دانت کوئلوں کے استعمال سے جگ مگ جگ مگ کرتے تھے۔

ماں نے اسے کئی بار سمجھایا اور ڈرایا کہ اس کی صحت کے لیے مٹی اور کوئلے کتنے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ بات سنتی، بظاہر مان بھی جاتی، وعدہ بھی کر لیتی اور کچھ دن اس وعدے پر عمل بھی کرتی، لیکن مٹی اور کوئلے اس کی Addiction بن چکے تھے۔ کبھی کبھی میں نے اسے حقہ بھی پیتے دیکھا، اور کبھی سگریٹ کے کش لگاتے بھی۔

یہ سکینہ تھی، جسے اردگرد کے لوگوں کی پروا نہیں تھی۔ وہ ان کی باتوں کو ہنسی میں اڑا دیتی۔ اس کے خیال میں لوگوں کی اکثریت منافقت کی چادر اوڑھے ہوئے تھی۔ وہ کہتی تھی، کیوں نہ اندر اور باہر کی دنیا ایک جیسی ہو؟ کہنے کو بہت سے لوگ یہ بات زبانی کہتے ہیں، لیکن عملی طور پر اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ معاشرے کا دباؤ فرد کی شخصیت کو اپنی مٹھی میں لے لیتا ہے، اور معاشرے کے رسوم و رواج سے بغاوت کی صورت میں فرد کو الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے۔

ہاں تو میں ان دنوں کی بات کر رہا تھا، جب سکینہ شادی کی عمر کو پہنچ گئی تھی۔ وہ گلیوں، کھیتوں، کھلیانوں میں بے دھڑک گھومتی نظر آتی۔ پھر ایک روز وہ خبر آ ہی گئی، جس کا سب کو انتظار تھا۔ سکینہ کی شادی کی خبر گاؤں میں ہر گھر کو جیسے موضوع مل گیا۔ گاؤں کی دو بھٹیوں، جہاں ہم دانے بھنوانے جاتے، وہاں اس روز سکینہ کی شادی کا ذکر تھا۔ اسی طرح گاؤں میں تین چار ہٹیوں (دکانوں) میں بھی سب کی گفتگو کا موضوع یہی تھا۔

پتا چلا کہ سکینہ کی شادی اس کے کزن سے ہو رہی ہے۔ میں چھوٹا سا تھا، لیکن آتے جاتے گلیوں میں، میں نے سکینہ کا کزن دیکھا تھا۔ وہ ایک دراز قد، وجیہہ نوجوان تھا۔

گاؤں میں شادی کے انتظامات میں سب سے بڑا event لوگوں کو دعوت کا ہوتا ہے۔ اس کے لیے سکینہ کے والد نے بھرپور اہتمام کیا تھا۔ سودا سلف خرید لیا گیا۔ لکڑیوں کا انتظام کر لیا گیا۔ گاؤں کی کسی بھی شادی میں پورا گاؤں مہمان ہوتا ہے۔ سکینہ کی پھوپھی اور والد چاہتے تھے، دعوت اتنے بڑے پیمانے پر ہو کہ لوگ یاد رکھیں۔ پھوپھی کے ذہن پہ یہ بات بھی تھی کہ سکینہ کو یہ احساس نہ ہو کہ اس کی ماں زندہ نہیں، تو شادی کے انتظامات میں کمی رہ گئی۔

سکینہ ایک جنگلی پرندے کے مانند تھی، آزاد ہواؤں کی عادی، جس کی پرواز کھلی فضاؤں میں تھی۔ سب سوچ رہے تھے کہ یہ پرندہ جب شادی کے پنجرے میں آئے گا، تو کیسے کھلے آسماں کے لیے پھڑپھڑائے گا۔

ہم گاؤں کے بچے اس انتظار میں تھے کہ سکینہ کی شادی کے موقع پر، جب اس کی ڈولی پر پیسے لٹائے جائیں گے، کیسے ہم بچے بھاگ کر ہوا میں اڑتے ہوئے سکوں اور نوٹوں کو پکڑیں گے، لیکن ہمارا یہ خواب، خواب ہی رہا۔ عین شادی والے دن سکینہ نے کہا: وہ شادی نہیں کرے گی۔

(جاری)

ڈاکٹر شاہد صدیقی ممتاز ماہرِ تعلیم، محقق، متعدد کتابوں کے مصنف اور سابق وائس چانسلر، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ہیں۔ وہ تعلیم، زبان اور سماجی موضوعات پر اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ ویب سائٹ: www.drshahidsiddiqui.com