Get Alerts

سفرِ ناتمام (3): گائوں ، بچپن اور بارش

مجھے وہ دن یاد آ گیا، جب سکینہ سرسوں کے انہی کھیتوں میں چھپ گئی تھی۔ اسے بڑی خواہش تھی کہ اس کا بھی کوئی انتظار کرے۔ میں سوچنے لگا، اب اسے دیکھنے کے لیے مجھے کتنا انتظار کرنا پڑے گا؟ معلوم نہیں، یہ انتظار کب ختم ہو گا۔

سفرِ ناتمام (3): گائوں ، بچپن اور بارش

عین شادی والے دن سکینہ نے شادی سے انکار کر دیا تھا۔ اس زمانے میں گاؤں میں کسی لڑکی کا شادی سے انکار ایک ان ہونی بات تھی، خاص کر جب شادی کے سارے انتظامات کر لیے گئے ہوں۔ گاؤں کی فضا میں یہ ایک دھماکا تھا۔ عورتوں نے اپنی انگلیاں دانتوں میں دبا لی تھیں۔ سرگوشیاں اب بلند آواز میں بدل گئی تھیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی لڑکی یہ جرأت کرے؟ آخر انکار کی وجہ کیا ہے؟ سب کے ہونٹوں پر ایک ہی سوال تھا۔ اس کا جواب صرف سکینہ کے پاس تھا۔

وہ شادی والے دن ہمارے گھر آ گئی تھی۔ اس نے ماں کو بتایا کہ انکار کی دو وجوہ ہیں۔ ایک تو لڑکا مجھ سے زیادہ خوبصورت ہے، اور دوسرا اس شادی کی وجہ میں نہیں، میری جائیداد ہے۔ اس فیصلے کی گونج گاؤں کے کھیتوں اور کھلیانوں میں دیر تک رہی۔ سکینہ نے سب کی باتیں سنیں، لیکن اپنی بات پر قائم رہی۔ آزادی کی محبت میں گرفتار پرندے نے شادی کے بندھن میں گرفتار نہ ہونے کا عہد کیا اور پھر ساری عمر اس عہد کو نبھایا۔

وعدہ کر کے بھول جانا اس کے لیے عام سی بات تھی۔ ایک دفعہ ہم گاؤں سے شہر آ رہے تھے۔ یہ سرسوں کے کھلنے کا موسم تھا۔ ان دنوں گاؤں سے ایک دو بسیں شہر کے لیے چلتی تھیں۔ ماں نے گاؤں سے پگڈنڈی پر اڈے کی طرف جاتے ہوئے سکینہ سے کہا: "سرسوں کا ساگ مل سکتا ہے؟"

سکینہ نے ہمیشہ کی طرح رضاکارانہ انداز میں کہا: "آپ اڈے پر پہنچیں، میں ابھی ساگ چن کر لاتی ہوں۔"

ہم اڈے تک پہنچے۔ بس آنے کا وقت ہو رہا تھا، لیکن سکینہ کا دور دور تک اتا پتا نہیں تھا۔ آخر بس آ گئی اور ہم سب پر بیٹھ کر شہر آ گئے۔ ماں ہمیشہ کی طرح پریشان تھیں، "خدا خیر کرے، سکینہ اڈے پر کیوں نہیں پہنچی؟"

ہم شہر آ گئے۔ اس زمانے میں موبائل تو کیا، عام فون بھی ناپید تھے۔ کچھ دنوں بعد ہی سکینہ اچانک کھلکھلاتی ہوئی شہر میں ہمارے گھر آئی، سرسوں کے ساگ کے ہمراہ۔ کہنے لگی: "اس روز میں کھیتوں میں چھپ کر آپ لوگوں کی بے چینی دیکھ رہی تھی۔ گاڑی رک کر چلی تو میں کھیتوں سے نکل آئی۔ میں نے سوچا، آج آپ میرا بھی تو انتظار کریں۔"

ماں اس کی بات سن کر ہنسنے لگیں۔

اب ہم مستقل شہر آ گئے تھے۔ سکینہ سال میں ایک دو مرتبہ ضرور آتی اور کچھ دن ہمارے گھر گزارتی۔ لیکن اب اس کی صحت خراب رہنے لگی تھی۔ پھر ایک روز وہ خبر آ گئی، جس کا تصور ہی میرے لیے تکلیف دہ تھا۔ وہ موسمِ سرما کا ایک ٹھٹھرتا ہوا دن تھا، جب مجھے اطلاع ملی کہ سکینہ اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ مجھے یوں لگا جیسے اچانک ایک پورے عہد سے میرا رشتہ ٹوٹ گیا ہے۔

اس روز میں سکینہ کے جنازے میں شرکت کے لیے گاؤں کے اڈے پر پہنچا تو ہلکی ہلکی بارش نے موسم اور سرد کر دیا تھا۔ بس اڈے کے قریب ہی میدان میں جنازے کے لیے لوگ اکٹھے ہو چکے تھے۔ میں نے چارپائی پر پڑے خاموش، بے حرکت جسم کو دیکھا، پھر میری نگاہ سکینہ کے چہرے پر پڑی۔ بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو چکی تھیں۔ بالوں میں کہیں سفیدی، کہیں مہندی تھی۔ چہرے کا گندمی رنگ زرد پڑ چکا تھا، بالکل سرسوں کے زرد پھولوں کی طرح۔

میں نے نگاہ اٹھا کر سڑک کے اُس پار دیکھا، جہاں دور دور تک سرسوں کے پھول بارش کی پھوار میں بھیگ رہے تھے۔ مجھے وہ دن یاد آ گیا، جب سکینہ سرسوں کے انہی کھیتوں میں چھپ گئی تھی۔ اسے بڑی خواہش تھی کہ اس کا بھی کوئی انتظار کرے۔ میں سوچنے لگا، اب اسے دیکھنے کے لیے مجھے کتنا انتظار کرنا پڑے گا؟ معلوم نہیں، یہ انتظار کب ختم ہو گا۔

گاؤں کے تصور سے میری بہت سی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ انہی یادوں کے پردوں سے مجھے گاؤں کی بارشوں کی چھم چھم سنائی دیتی ہے۔ بارش کی آمد کا سندیسہ کالی گھٹائیں لاتیں۔ گاؤں کے افق تا افق پھیلے ہوئے وسیع آسمان پر سیاہ بادلوں کی چھاؤنی تن جاتی۔ بارش سے پہلے اکثر تیز ہوا کے جھکڑ چلنا شروع ہو جاتے۔ بیری اور دھریک کے درختوں کی ٹہنیاں ہوا کے زور سے سر پٹخنے لگتیں۔ بیری کے درختوں سے پتے اور بیر ٹپ ٹپ گرنا شروع ہوتے۔ ہم بچے مختلف بیریوں کے درختوں کی طرف دوڑ لگاتے اور بیروں سے اپنی جیبیں بھر لیتے۔

گاؤں میں بارشوں کی اپنی اہمیت تھی۔ کسانوں کی فصلوں کا دار و مدار بارشوں پر تھا۔ ان کی آنکھیں آسمان پر بادلوں کو تلاش کرتیں اور ہاتھ دعاؤں کے لیے بلند ہوتے، لیکن جب فصلیں تیار ہونے کے قریب ہوتیں تو بارش کی آمد ان کی آنکھوں میں تشویش کے ڈیرے جما لیتی۔ مجھے یوں لگتا، جس طرح کہانیوں میں جادوگر کی جان ایک طوطے میں ہوتی تھی، اسی طرح میرے گاؤں کے کسانوں کی جان بارشوں میں تھی۔

کالی گھٹاؤں کو دیکھتے ہی لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھ جاتے اور کچی چھتوں میں سوراخ بند کرنا شروع کرتے۔ گھر کی چھتوں سے ہم اردگرد آندھیوں کی زد میں آئے درختوں کو دیکھتے، جن کی ٹہنیوں کے ساتھ کپڑوں کی لیریں لٹک رہی ہوتیں۔ تیز ہوا سے یہ لیریں بھی جھولتی جاتیں۔ گاؤں کے درختوں میں کانٹوں کے ساتھ لٹکی ہوئی یہ لیریں ایک عام سا منظر تھا۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے آسمان تاریک ہو جاتا اور زور کا مینہ برسنا شروع ہو جاتا۔ ایسے میں صحن میں بنے ہوئے لکڑیوں کے چولہے کو ڈھانپ دیا جاتا۔ اسی طرح صحن میں بنی تندوری کو بھی کسی چیز سے ڈھک دیتے۔ مرغیوں، بکریوں اور دوسرے جانوروں کو بارش سے محفوظ مقام پر پہنچا دیا جاتا، البتہ اکثر ایندھن میں استعمال ہونے والی لکڑیاں بارش میں گیلی ہو جاتیں۔ ایسے میں بارش میں نہانا ہم بچوں کا دل پسند مشغلہ ہوتا۔ گھروں کی چھتوں کے پرنالوں سے پانی زور و شور سے بہہ رہا ہوتا۔ مجھے یاد ہے، ہمارے گھر کے پرنالے کے نیچے زمین پر ایک چوڑا پتھر رکھا ہوتا تاکہ پانی پتھر پر گرے اور زمین پر گڑھا نہ پڑے۔ یہ پتھر تیز اور مسلسل پانی پڑنے سے درمیان سے ٹوٹ گیا تھا۔ برسوں بعد جب میں نے شکیب جلالی کا یہ شعر پڑھا تو مجھے سمجھنے میں ذرا مشکل نہ ہوئی۔

کیا کہوں دیدۂ تر، یہ تو مرا چہرہ ہے
سنگ کٹ جاتے ہیں پانی کی جہاں دھار گرے

ہمارے گھر کی قریبی مسجد کے صحن میں ایک گڑھا تھا، جہاں بارش کا پانی جمع ہو جاتا اور پھر وہیں سے لوگ برتنوں میں پانی بھر کر لے جاتے۔ دن کی بارشوں کا تجربہ ان بارشوں سے مختلف ہوتا، جو رات کو ہوتیں۔ ہم رات کو صحن میں سو رہے ہوتے تو بارش ہمیں گہری نیند سے جگا دیتی۔ ہم بچوں کو والد صاحب اٹھا کر کمرے میں لے جاتے۔ یہ ایک بڑا کمرہ تھا، جہاں چار چارپائیاں بچھی ہوتیں۔ صحن کی چارپائیوں کو دیواروں کے ساتھ کھڑا کر دیا جاتا۔ کچھ ہی دیر میں چھت دو تین جگہوں سے ٹپکنا شروع کر دیتی۔ ٹپکنے والی جگہوں کے عین نیچے فرش پر برتن رکھ دیے جاتے۔ برتن بھر جانے کے بعد انہیں خالی کر کے وہیں رکھ دیا جاتا۔

بعض اوقات تیز بارش کے ہمراہ اولے پڑنا شروع ہو جاتے اور ہمارے صحن میں جیسے سفید چادر بچھ جاتی۔ ہم ننگے پاؤں ان اولوں پر چلتے، اپنی مٹھیوں میں اولے اکٹھے کرتے۔ ٹھنڈے، یخ اولوں سے ہماری ہتھیلیاں سرخ ہو جاتیں، لیکن اُدھڑے بٹنوں والے گریبانوں، ننگے پاؤں اور سرخ ہتھیلیوں کے باوجود ہمیں سردی محسوس نہ ہوتی۔ کوئی غیر مرئی طاقت تھی، کوئی ناقابلِ بیان جذبہ تھا، جس نے ہمیں اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔

کبھی کبھی بارش شروع ہوتی تو کئی دن جاری رہتی۔ کئی دن جاری رہنے والی بارش کو ہم "جھڑی" کہتے۔ ہمارے گاؤں کے بزرگوں کا کہنا تھا کہ جمعرات کی جھڑی کم از کم سات دن تک چلتی ہے۔ بارشوں میں مختلف گھروں میں برسات کی مناسبت سے حلوہ بنایا جاتا۔ پکوڑے بنتے اور "مسی" روٹی پکائی جاتی، جو اس زمانے میں گاؤں کا پیزا ہوتا۔ بارش دن کی ہو یا رات کی، بارش رکنے کے بعد کے منظر مختلف ہوتے۔ تیز بارش کے بعد گاؤں کی گلیوں میں پانی کھڑا ہو جاتا۔ چلنے کے لیے مناسب فاصلوں پر پتھر رکھ دیے جاتے، جن پر قدم رکھ کر چلنا ہوتا۔ ہم بچوں کو پتھروں کے درمیان فاصلہ زیادہ لگتا۔ ہماری کوشش ہوتی کہ دیواروں کے ساتھ ساتھ چلیں، کیونکہ وہاں پانی کم ہوتا۔

بارشوں کے بعد کھلے آسمان پر سات رنگوں کی قوسِ قزح پھیل جاتی۔ گاؤں میں ہم قوسِ قزح کو "بڑھیا کی پینگ" (جھولا) کہتے تھے۔ ہم قوسِ قزح کے ان رنگوں کو پکڑنے کے لیے کھیتوں سے ہوتے ہوئے دور جنگل کی طرف ننگے پاؤں بھاگتے۔ دور سے جو قوسِ قزح جھکی ہوئی نظر آتی، جوں جوں اس کی طرف بھاگتے، وہ اوپر اٹھتی چلی جاتی۔ ہمارے قدموں کی رفتار اور تیز ہو جاتی۔ ہمارے سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگتے، لیکن ہماری آنکھوں کے آئینوں میں Old Man and the Sea کے رنگ ماند نہ پڑتے، بالکل بوڑھے مچھیریے سین تیاگو کی طرح، جس کا جذبہ کسی افتاد سے ہار نہیں مانتا اور جس کے خواب اس کی کشتی کے پتوار بن جاتے ہیں۔

(جاری)

ڈاکٹر شاہد صدیقی ممتاز ماہرِ تعلیم، محقق، متعدد کتابوں کے مصنف اور سابق وائس چانسلر، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ہیں۔ وہ تعلیم، زبان اور سماجی موضوعات پر اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ ویب سائٹ: www.drshahidsiddiqui.com