Get Alerts

166مراد بہاولنگر میں مشتعل ہجوم کے دباؤ پر احمدیہ عبادت گاہ کے مینار مسمار

دو گروہوں میں لڑائی جھگڑے کے دوران ایک شخص کی وفات کو جواز بنا کر احمدیوں کے خلاف کارروائی کی گئی، شرپسندوں نے احمدی گھروں کے دروازوں کو توڑ کر لوٹ مار بھی کی،واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کر کے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں: ترجمان جماعت احمدیہ

166مراد بہاولنگر میں مشتعل ہجوم کے دباؤ پر احمدیہ عبادت گاہ کے مینار مسمار

ضلع بہاولنگر کے گاؤں 166مراد میں مشتعل ہجوم کے دباؤ پر پولیس نے ہیوی مشینری سے جماعت احمدیہ کی عبادتگاہ کے میناروں کو مسمار کر دیا۔ عرصہ سے  جماعت احمدیہ کے مخالفین اور شر پسند عناصر اس کوشش میں تھے کہ احمدیہ بیت الذکر کے مینار گرائے جائیں  ۔مؤرخہ 8 مارچ بروز ہفتہ مخالفین کے دو گروہوں کا کسی معاملہ پرآپس   میں جھگڑا ہو گیا  ۔ان کی آپس میں تلخ کلامی  اور گالم گلوچ  کے دوران  امجد نامی فرد کی طبیعت خراب ہونے پر اسےہسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ راستہ میں اس کی وفات ہو گئی۔مذکورہ معاملہ کے وقت قرب وجوار میں کوئی احمدی موجود نہ تھا ۔تاہم  تحریک لبیک نے مذکورہ شخص کی وفات کو جواز بنا کر ڈاہرانوالہ میں احتجاج شروع کردیااور سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں  کواشتعال دلایا گیا کہ  اسے احمدیوں نےقتل کردیا ہے اور پھر اس کو جواز بنا کرمطالبہ کیا  گیاکہ احمدیہ بیت الذکر چک نمبر 166  کو منہدم کیا جائے اور احمدیوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

مشتعل ہجوم نےاس موقع پر ٹائر وغیرہ بھی جلائے ۔پولیس نےمشتعل ہجوم کے ان مطالبات کو تسلیم کر نے میں عافیت جانی کہ    متوفی کی تدفین سے پہلے احمدیہ بیت الذکر کے مینار  منہدم کئے جائیں  اور ان کے مطالبات کے مطابق مقدمہ درج کیا جائے۔  مخالفین کے مطالبے پر پولیس نے  2احمدیوں کے علاوہ 7 دیگر مقامی افرادکے خلاف مقدمات درج کر لئے  ۔بعد ازاں رات کے اندھیرے میں احمدیہ عبادت گاہ کے میناروں کو ہیوی مشینری سے مسمار کر دیا۔اس کارروائی کے دوران احمدیوں کے گھروں کے دروازے توڑ کر لوٹ مار بھی کی گئی۔ 

ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان عامر محمود نے   مشتعل ہجوم کے بے بنیاد مطالبات اور احمدیہ عبادت گاہ کے میناروں کی مسماری پر اور 2احمدیوں کے خلاف  مقدمہ قائم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ  محض ایک گروہ  کی خوشنودی کے لئے احمدیہ عبادت گاہ کے مینار  غیر قانونی طور پرمسمار کرنا  قابل افسوس ہے ۔مذہب کے مقدس نام پر مذموم مفادات کے لئے شر پسند عناصر پاکستان میں احمدیوں کے خلاف اپنی کارروائیوں میں  شدت لا رہے ہیں اور انتظامیہ احمدیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ترجمان نے  مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے اور جو بھی اس معاملہ میں ملوث ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔