کورونا وبا جب دنیا بھر میں پھیل گئی تو تعلیمی ادارے بند ہو گئے۔ ہمارے گاؤں میں نہ کوئی کوچنگ سینٹر تھا اور نہ ہی کوئی پرائیویٹ تعلیمی ادارہ۔ ملک کے دیگر علاقوں میں تعلیم آن لائن کلاسز کے ذریعے جاری تھی، لیکن ہمارے پاس یہ سہولت میسر نہ تھی۔ اسی وجہ سے ہم نے یہ سوچ کر کیمل لائبریری کا آغاز کیا کہ ہمارے گاؤں کے بچے سماجی اور معاشرتی برائیوں سے بچ کر تعلیم یافتہ ماحول کی طرف راغب ہوں۔
یہ کہنا ہے اسماعیل یعقوب کا، جنہوں نے کورونا وبا کے دوران گوادر کے دیہی علاقوں میں کیمل لائبریری قائم کی۔ انہوں نے بتایا:
"ہم نے ایک اونٹ کرایہ پر لے کر یونین کونسل پلیری کے چھ گاؤں میں اپنی مہم شروع کی۔ لوگوں نے بڑی دلچسپی لی اور بچے، بڑے سبھی اس میں شامل ہو گئے۔ لاہور کے ادارے الف لیلیٰ نے ہمیں کتابیں فراہم کیں۔ یہ کتابیں ہم اونٹ پر لاد کر پلیری کے چھ گاؤں کے بچوں تک پہنچاتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ان خواتین کو بھی کتابیں فراہم کیں جو کبھی اسکول نہیں گئیں۔ ہماری یہ کوشش کامیاب رہی اور اب کئی خواتین پڑھنے لکھنے کے قابل ہو چکی ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال کیمل لائبریری چلانے کے بعد اسے وسعت دی گئی اور پشکان کے مزید چھ گاؤں کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا گیا۔ وہاں بھی یہ خدمت رضاکارانہ طور پر جاری رہی۔
اسماعیل یعقوب نے مایوس لہجے میں کہا:
"چونکہ ہم یہ کام کسی کے مالی تعاون کے بغیر محض رضاکارانہ طور پر کر رہے تھے، اس لیے چار سال بعد ہمارے وسائل ختم ہو گئے۔ اب ہم نے کیمل لائبریری کمیٹی تشکیل دی ہے اور انہی گاؤں کے اسکولوں میں کتابیں فراہم کر رہے ہیں، کیونکہ ہمارا مقصد یہی ہے کہ اپنے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں۔"
ان کے مطابق اب تک چھ سو سے زائد بچے اس لائبریری کے ساتھ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور اس سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔ کورونا کے بعد جب اسکول دوبارہ کھل گئے تو لائبریری کا مشن بند کرنے کے بجائے اسے اسکولوں کے ذریعے جاری رکھا گیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیمل لائبریری کا خیال کیسے آیا تو انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے سرحدی علاقے مند میں سابق وفاقی وزیر محترمہ زبیدہ جلال کی بہن تیمیہ جلال پہلے ہی اس آئیڈیا پر کامیابی سے کام کر رہی تھیں۔ ان سے متاثر ہو کر ہم نے بھی یہ آئیڈیا اپنایا اور یونین کونسل ہلیری کا انتخاب کیا، کیونکہ کورونا کے دوران تعلیمی ادارے بند تھے اور دیگر متبادل ذرائع دستیاب نہیں تھے۔
انہوں نے کہا:
"ہم نے ایک اونٹ کرایہ پر لے کر گاؤں گاؤں جا کر بچوں کو کتابیں فراہم کیں اور تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا تاکہ وہ منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے بچ کر تعلیم کی طرف راغب ہوں۔ ابتدا میں ہم اونٹ کے ذریعے کتابیں تقسیم کرتے تھے لیکن بعد میں مختلف اسکولوں کو منتخب کر کے یہ سلسلہ جاری رکھا۔"
اسماعیل یعقوب کے مطابق، اب تک چھ سو سے زائد طلبہ و طالبات اس لائبریری سے استفادہ کر چکے ہیں، جن میں طالبات کا رجحان نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا:
"ہم نے ان خواتین کو بھی کتابیں فراہم کیں جو پہلے اسکول نہیں گئیں، مگر ہماری کوششوں سے وہ اب لکھنے پڑھنے کے قابل ہو چکی ہیں۔ ہمارے علاقے میں نہ انٹرنیٹ ہے اور نہ کوئی جدید سہولت۔ ہم آج بھی دنیا سے ایک صدی پیچھے زندگی گزار رہے ہیں۔ آج تک ہمارے پاس کوئی باقاعدہ لائبریری یا ٹیوشن سینٹر موجود نہیں ہے۔"