"لوگوں کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ہمیں ماحولیات کے قانون، محدود وسائل کے قانون کے مطابق زندگی گزارنے کی ضرورت ہے، اور اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں تو ہم معدوم ہو جائیں گے" -- پال واٹسن
جب خود پر چھوڑ دیا جائے تو فطرت (nature )میں بیرونی مداخلت کے بغیر اپنا توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اگر بنی نوع انسان کو کرہ ارض سے ہٹا دیا جائے، تو ہ جلد ہی نباتات اور حیوانات کے حوالے سے ماحولیاتی توازن دوبارہ قائم ہو جائے گا ۔ یقیناً، اس کا کوئی امکان نہیں ہے، کیونکہ بنی نوع انسان کو کرہ ارض پر اب رہنا ہی ہے ۔ بنی نوع انسان جو کرہ ارض پر قابض ہے، فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑکرنے کو ہمہ وقت تیار رہتی rehta ہے، تاکہ وہ اپنی دھماکہ خیز طور پر بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرسکے ۔ انیسویں صدی کے صنعتی انقلاب کے بعد سے مشینی کاشتکاری، جو بذات خود نقصان دہ نہیں تھی، لیکن عام زرعی طرز عمل سے اس کے انحراف نے کئی طرح کے مسائل کو جنم دیا ہے، جن میں سب سے اہم کرہ ارض کے فطری آبی سائیکل (water cycle) میں خلل ہے۔
ماہرین کے مطابق آبی سائیکل میں خلل ماحولیاتی آفات کی بنیادی وجہ ہے ،جس میں سیلاب، خشک سالی اور زیر زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح شامل ہے، جو سطح سے 20 سے 30 فٹ نیچے کی حد سے گر کر 300 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پانی کا ایک بڑا حجم جو زیر زمین رہنا چاہیے تھا اب فضا میں آزادانہ طور پر موجودہے، جس کی وجہ سے موسمی افراتفری (weather chaos) ظہور پذیر ہوئی ہے۔ زمین کی سطح کے نیچے پانی کی مناسب مقدار کی موجودگی قدرتی آب و ہوا (natural climate stability)کے استحکام کی ضمانت دیتی ہے۔
ان لوگوں کے لیے جو اس سے واقف نہیں ہیں، صنعتی زراعت (industrial agriculture) ایک بڑے پیمانے پر فصلوں اور مویشیوں کی پیداوار کاہائی ٹیک نظام (high-tech system) ہے، جس کا بنیادی مقصد مونو کلچر، کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات، جینیاتی تبدیلیوں وغیرہ کے ذریعے پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہے۔ اس نظام کےبل بوتے پر مٹھی بھر صعنتی اداروں کی پورے زرعی شعبے پر اجارہ داری قائم ہے۔ چھوٹے کسانوں اور غریب ممالک کے لیے زیادہ لاگت اور کم پیداوار کے ساتھ، ان گروہوں نے انھیں پیسہ کمانے کے اپنے مذموم نیٹ ورکس کا یرغمال بنا رکھا ہے اور یہ ماحولیاتی انحطاط، جانوروں کے استحصال اور صحت کے ممکنہ خطرات کے لیے بھی ذمہ دار ہیں۔
اس موڑ پر قدرتی آبی سائیکل کو سمجھنا ضروری ہے جو کہ صنعتی زرعی پاگل پن (industrial agricultural insanity) سے پہلے موجود تھا۔ جیسا کہ اس شُعبہ کے ماہرین نے وضاحت کی ہے کہ مٹی (soil) محض گرد (dirt)نہیں تھی، یہ ایک زندہ، سانس لینے والے سپنج (sponge) کی ماند تھی، جس میں مکمل حیاتیاتی سرگرمی (biological activity) نامیاتی مادے سے بھرپور جاری و ساری تھی۔ بارش کا ہر قطرہ زیر زمین وسیع آبی ذخائر تک پہنچ جاتا تھا۔
زمین کے اوپر پودوں نے زمینی درجہ حرارت کو کم رکھنے میں مدد کی جبکہ چشموں، ندیوں اور جھیلوں کو زیر زمین وسیع ذخائر نے پانی فراہم کیا ۔ اس آبی سائیکل نے ماحول کو مناسب نمی برقرار رکھنے میں مدد کی ، تاکہ کسانوں کو اعتماد کے ساتھ فطرت کے متوقع رویے پر، خاص طور پر کاشت کاری کے حوالے سے، انحصار کرنے کی سہولت حاصل ہو جائے۔
انتہائی غیر سائنسی طریقوں کا سہارا لے کر، انسانوں نے بنیادی طور پر مٹی کے اوپر کی تہہ اور پودوں کے ڈھکن کو تباہ کر دیا ہے ،جس سے زمین کو دہکتی ہوئی شمسی تابکاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے درجہ حرارت اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ وہ زیر زمین پانی کو بخارات میں تبدیل کر دیتا ہے، جو زمین کو نمی سے محروم کر دیتا ہے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، جب کہ اسے دور دراز کی زمینوں میں بارش کے طوفان (rainstorm) کا حصہ بننے دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، سب سے اوپر کی مٹی کی نرم پارگمیتا (permeability) کو بھاری وزن والی فارم مشینری جیسے ٹریکٹروں کے ذریعے سخت بنا دیا گیا ہے، جو نمی کو جذب کرنے سے روکتا ہے جو فصلوں کی افزائش کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بے گھر پانی (displaced water) جو بالآخر بخارات میں تحلیل ہو جاتا ہے ایک بے رحم طوفان (torrential rains) بن جاتا ہے کیونکہ یہ ہزاروں سالوں پر مشتمل اپنے متوقع نرم کردار کو برقرار رکھنے کی بجائے موسلادھار بارشوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ آج لوگ طوفانوں اور سیلابوں کے تباہ کن اثرات سے واقف ہیں جو قدرتی نکاسی آب کے نظام کی نفی کرتے ہیں، انسانوں کے بنائے ہوئے ڈھانچے کو تباہ کرتے ہیں، قیمتی جانیں لے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف کبھی یہ زرخیز زمینوں کو خشک اور غیر پیداواری بنا دیتے ہیں۔
کیا اس پریشان کن صورت کا کوئی حل ہے؟ پی کیو این کے (PQNK) یا قدرتی فصلوں کی افزائش کے نظام کے بانی اور پاکستان کی زراعت کو اپنے زبردست علم سے مالا مال کرنے کے لیے ایک بے لوث جنگجو آصف شریف کے مطابق: "PQNK مٹی کو دوبارہ تخلیق کرتا ہے، آب و ہوا کے چیلنجوں کو کم کرتا ہے کیونکہ فصلوں کی صحت مند حالت کی وجہ سے، 8 فیصد سے زیادہ پانی کی بچت ہوتی ہے۔ %80 اخراج اور CO2 کو مٹی میں ایس ایس سی (پائیدار مٹی کاربن) کے طور پر ذخیرہ کرتا ہے"۔
ایک تفصیلی پاور پوائنٹ پریزنٹیشن (PowerPoint presentation ) میں،آصف شریف زیر زمین پانی کے قدرتی سائیکل کو بحال کرنے کے لیے مندرا ذیل چار اہم اقدامات تجویز کرتے ہیں:
- ہارڈ پین (hardpan)کو خصوصی آلات سے توڑیں جو 18 سے 24 انچ گہرا کاٹتا ہے۔ یہ ان ناقابل تسخیر تہوں کو توڑ سکتے ہیں جو اس وقت مٹی کو گھٹا رہی ہیں۔ جیسے ہی یہ ٹولز زمین کو ٹکڑوں میں کاٹتے ہیں، وہ پانی کے واپس بہنے کے راستے بحال کرتے ہیں، جیسا کہ فطرت کا تقاضا ہوتا ہے۔
- کھیت میں مستقل اٹھائے ہوئے راہ گزر (permanently raised beds) بنائیں جو زیرِ زمین سیلابی کیفیت اور پانی جمع ہونے کو روکیں۔ یہ اٹھائے ہوئےراہ گزر (beds) ،جن کو پنجابی میں وٹیں کہتے ہیں، متعدد کام انجام دیتے ہیں: یہ مٹی کی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے بھاری بارش کے دوران مناسب نکاسی کو یقینی بناتے ہیں، مستقبل کے سامان (equipment ) کی آمدورفت سے سکڑاؤ کو روکتے، اور پانی کی دراندازی (infiltration) اور حصول (retention) ، دونوں عوامل کو منظم کرکے افزائش بڑھنے کے بہترین حالات پیدا کرتے ہیں۔
- زندہ ملچ (living mulch )کے لیے ڈھکنے والی فصلیں لگائیں، جس سے وہ تقریباً چھ فٹ کی پوری اونچائی تک بڑھ سکتی ہیں، جڑوں کا ایک وسیع نیٹ ورک تیار کرتا ہے جو قدرتی طور پر مٹی کے چھیدوں کو بحال کرتا ہے، جو پانی کے اخراج، تحلیل اور مائکروبیل (microbial) سرگرمی کے لیے ضروری ہے۔
- پہلی کور (core)فصل کو ملچ (mulch)کرنے کے بعد، نقدی فصلوں کو ایک کے بعد ایک، براہ راست وٹوں ( raised beds) پر زمین کی ساخت کو کبھی بھی تبدیل (disturb) کیے بغیر لگایا جا سکتا ہے۔
(بحوالہ PQNK، چار قدمی قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی)
یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم آصف شریف جیسے لوگوں کے علم، حکمت اور تجربے سے استفادہ کرنے سے قاصر ہیں، جب کہ وہ فصلوں کی پیداوار کو بہتر کرنے میں افراد، نجی شعبہ اور حکومتوں کی مدد کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی توازن کو بہتر بنانے میں بھی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
ایک ایسا قدرتی نظام کاشتکاری جو زرعی زمین کو تبدیل کر سکتا ہے اور اسے سرسبز فصلوں اور پودوں کی نشوونما کے لیے موزوں درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے پانی کو جذب کرنے کے قابل بنا سکتا ہے ،شاید اربوں سالوں سے موجود زمین کے اندر آبی سائیکل کو دوبارہ تخلیق کرنے کا واحد حل ہے۔