Get Alerts

کیا واقعی بنگال میں اردو زبان کوئی بول اور سمجھ نہیں سکتا تھا؟

بنگالی ریڈیو کے ایک صحافی حسن مسعود نے اردو کرکٹ ٹیسٹ میچ کے حوالے سے انٹرویو بھی کیا۔ میں نے کہا یہ انٹرویو جب ڈھاکہ ریڈیو پر چلے لگا تو لوگوں کو سمجھ آئے گی تو بنگالی صحافی نے کہا کہ سب کو سمجھ آئے گی۔

کیا واقعی بنگال میں اردو زبان کوئی بول اور سمجھ نہیں سکتا تھا؟

قائد اعظم محمد علی جناح ذہنی طور پر اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانے کے حوالے سے بالکل تیار تھے۔ وہ جانتے تھے کہ پنجاب، سندھ، خبیر پختوان خوا (اس وقت سرحد) بلوچستان، کشمیر، گلگت بلتستان اور بنگال پر مشتمل جن علاقوں پر وہ ایک نئے ملک کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں وہاں رابطے کی زبان صرف اور صرف اردو ہی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اردو کو ہی قومی زبان ہونا چاہیے، کیونکہ بنگالی، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور دیگر زبانیں ملک گیر زبانیں نہیں۔ قومی و رابطے کی زبان صرف اردو ہی مناسب رہے گی۔

اردو بانی پاکستان کی زبان نہیں تھی۔ وہ گجراتی تھے۔ مگر اردو بول اور سمجھ لیتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد جب اعلان کر دیا گیا کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے تو مغربی پاکستان نے اس فیصلے پر لبیک کہا مگر مشرقی پاکستان میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں قائد اعظم کی تقریر کے دوران اردو زبان کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

خیر، وقت گزرتا گیا۔ مشرقی پاکستان کے سیاست کار اردو کے خلاف اپنی سیاست کرتے رہے۔ وہ الگ بات ہے کہ سقوط مشرقی پاکستان کے وقت بھی سنیما گھروں میں اردو فلمیں چل رہی تھیں اور کھڑکی توڑ رش لے رہی تھیں۔ مشرقی پاکستان کے بنگالی بولنے والے اداکار رحمان اور شبنم اردو فلموں کے مایہ ناز ستارے تھے۔ روبن گھوش اردو فلموں کے کامیاب موسیقار تھے۔

1971 میں عوامی لیگ نے بنگہ دیش کے قیام کے بعد اردو زبان کا بائیکاٹ جاری رکھا۔ ہم تک خبریں آتی رہیں کہ وہاں سے اردو کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ راقم جب صحافت میں آیا تو بنگالی صحافیوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ تین بار بنگالی صحافیوں سے طویل گفتگو رہی۔ پہلی بار لاہور میں جب بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے طویل دورے پر آئی تو لاہور میں ایک ٹیسٹ میچ اور ایک ون ڈے تھا، بنگلہ دیشی ٹیم لاہور میں 7 روز تک رہی۔ ان کے ساتھ بنگلہ دیشی صحافی بھی آئے تھے۔ ان صحافیوں سے گفتگو رہی۔ تمام کے تمام اردو بول اور سجھ سکتے تھے۔ راقم سے ایک بنگالی ریڈیو کے ایک صحافی حسن مسعود نے اردو کرکٹ ٹیسٹ میچ کے حوالے سے انٹرویو بھی کیا۔ میں نے کہا یہ انٹرویو جب ڈھاکہ ریڈیو پر چلے لگا تو لوگوں کو سمجھ آئے گی تو بنگالی صحافی نے کہا کہ سب کو سمجھ آئے گی۔

میرے لئے یہ جواب بہت حیران کن تھا۔ پھر لگ بھگ دس سال بعد مجھے اور شریک حیات گونیلا (وہ بھی لاہور کی اردو صحافت کا نمایاں نام ہیں) کو ایک صحافیوں کے فیلوشپ پروگرام کے تحت چار پانچ ملکوں میں گھومنے کا موقع ملا۔ نیپال، سنگا پور اور عرب امارات میں پھر بنگلہ دیشی صحافیوں سے طویل ملاقاتیں رہیں۔ شوکت شاہ، حسین گلفام اور دو ایک اور تھے۔ ان سب سے گفتگو اردو میں ہی رہی۔ ایک صحافی ایسا بھی تھا جو اردو سمجھ رہا تھا مگر بات انگلش میں کرتا تھا۔ مجھے لگا کہ وہ جان بوجھ کر اردو نہیں بول رہا۔

ایک بات تو طے تھئ کہ وہ سب صحافی پاکستان سے خوش نہیں تھے اور کوئی اچھی رائے بھی نہیں رکھتے تھے مگر اردو زبان بول اور سمجھ لیتے تھے۔

اب یہ بات بھی عیاں ہے کہ بنگلہ دیش میں پاکستانی اردو ڈرامے بہت شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ بالی ووڈ فلمیں بھی اس لئے دیکھی جاتی ہیں کہ ہندی زبان دراصل اردو بن چکی ہے۔ اس میں سے سنسکرت غائب ہے۔ اردو بہت زیادہ ہے۔

بولی ووڈ کے نامور گیت نگار اور سکرپٹ رائٹر منوج منتشر کہتے ہیں کہ ہندی دراصل اب اردو بن چکی ہے۔ میرے نام منوج کے ساتھ اگلا لفظ منتشر اردو زبان کا لفظ ہے۔ اگر آج ہم پرانی ہندی میں گیت نگاری یا فلم کا سکرپٹ لکھیں تو ہماری فلم نہیں چلے گی۔ آج دنیا بھر میں بولی ووڈ فلموں کی مقبولیت اردو کی وجہ سے ہے۔ بے شک ہم ان فلموں کو ہندی فلم کہتے ہیں مگر درحقیت یہ اردو زبان کی فلمیں ہیں۔

حرف آخر، بھارت اور بنگلہ دیش کی حکومتوں کے اردو زبان سے امتیازی رویے کے باوجود اردو کی افادیت قائم ہے۔ بھارت میں تو اردو کے حالات بنگلہ دیش سے بہت بہتر ہیں۔ وہاں کئی ریاستوں میں اردو اخبارات، جرائد اور کتابیں شائع ہوتی ہیں۔ سٹرکوں اور ریلوے سٹیشںز کے بورڈ ہندی کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھے ہوتے ہیں مگر نہ جانے بنگلہ دیشی حکومت اردو سے بیر کی حکمت علمی پر کیوں عمل پیرا ہے۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔