Get Alerts

ایک خاموش ترمیم سے کراچی شہر کی رہائشی مکانیت تباہی کے دہانے پر

ان ترامیم کو دیکھ کر یہ واضح ہے کہ یہ تبدیلیاں بنیادی طور پر بااثر حلقوں کے مفاد میں کی گئی ہیں، جس سے کراچی کے ہزاروں غیر قانونی تجارتی مقامات و منصوبے قانونی حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔

ایک خاموش ترمیم سے کراچی شہر کی رہائشی مکانیت تباہی کے دہانے پر

پاکستان میں قوانین پر عمل درآمد صرف غریبوں اور کمزوروں کے لئے ناگزیر دکھائی دیتا ہے جب کہ طاقتور اور بااثر افراد قانون پر عمل درآمد تو ایک طرف اکثر اوقات قوانین کو اڑا دیتے ہیں یا ان میں اپنے مفاد کے تحت ترامیم کرا لیتے ہیں اور افسر شاہی ان چند طاقتور اور بااثر افراد کے آگے ہاتھ باندھے حکم کی تعمیل میں حاضر دکھائی دیتی ہے۔ یہاں یہ نہیں سوچا جاتا کہ 99 فیصد عوام کا کیا ہوگا اور ان پر ان ترامیم کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسی ہی حالیہ ترامیم سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے سامنے آئیں جو حقیقتاً کراچی کی زمینوں پر طاقتور اور بااثر افراد کے قبضے کی کوشش ہے۔ بجائے اس کے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جاتی محکمے نے خود ہی خاموشی سے بنیادی قانون میں تبدیلی کر دی جس سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی رہائشی مکانیت خطرے سے دوچار ہو گئی۔

ایک جانب سندھ حکومت 13 فروری 2025 کو شہر کراچی کے لئے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 کےآغاز کی افتتاحی تقریب کرتی ہے اور وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کہتے ہیں کہ کراچی میں کروڑوں لوگ آباد ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے پاس کوئی ماسٹر پلان نہیں ہے۔ کراچی شہر کے لئے ایک جامع ماسٹر پلان ضروری ہے، جس کے لئے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 کا آغاز کیا گیا۔ جب کہ محکمہ بلدیات سندھ اور کے ڈی اے نے کراچی کا ماسٹر پلان بنانے کے لئے انٹرنیشنل کنسلٹنٹ دارالہندسہ کے ساتھ لاہور کی ایک کمپنی ایشین کنسلٹنٹ کو منتخب کیا۔

وزیر بلدیات سندھ نے یہ بھی کہا کہ ماسٹر پلان کے حوالے سے ماضی کا تجربہ رہا ہے کہ اس میں مختلف سٹیک ہولڈرز کی جانب سے اعتراضات اور اصلاحات آتی رہتی ہیں اس لئے اس ماسٹر پلان جسے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 کا نام دیا گیا ہے، اس کو تمام فورمز پر اوپن رکھا گیا ہے تاکہ تمام کی تجاویز اور اصلاحات کو شامل کیا جا سکے۔ ساتھ ہی اس شہر کے تمام سٹیک ہولڈرز سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو بھی آن بورڈ لیے جانے کی بات کی گئی۔ یہ بھی وعدہ کیا گیا کہ اس ماسٹر پلان میں مکمل ہاؤسنگ، ٹرانسپورٹ، موسمیاتی تبدیلیوں، انفراسٹرکچر، پانی، سیوریج اور بڑھتی ہوئی آبادی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، جو آئندہ 20 سال تک ہمارے لئے آسانیاں پیدا کر سکے۔

اس ماسٹر پلان کو کراچی کے شہریوں کا ماسٹر پلان کا نام دیا گیا اور ایک ایسا صاف و شفاف اور تمام مشاورت سے بھرپور ماسٹر پلان بنانے کی بات کی گئی جو اس شہر، صوبے اور ملک کے لئے تاریخی ہوگا۔

مگر پھر ٹھیک ایک مہینے بعد ایسا کیا ہوا کہ 13 مارچ 2025 کو رات کے آخری پہر میں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا اور یکدم کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز - 2002(KBTPR)  میں ترمیم کر دی، جس میں کراچی میں رہائشی املاک کے تجارتی استعمال کو مؤثر طریقے سے قانونی تحفظ فراہم کیا گیا؟

اس کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے شہر کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بن گیا اور ملک کا معاشی حب جس کا انفراسٹرکچر پہلے ہی تباہ حال ہے اس کو مزید تباہ کرنے کے لئے ترامیم سامنے آئیں جن کے تحت کراچی میں رہائشی پلاٹ اور مکان کا تصور ختم ہو گیا۔ نئی ترامیم کے ذریعے ایس بی سی اے نے ناصرف ’ایمینیٹی پلاٹ‘ کی تعریف میں ترمیم کی بلکہ زمین کے استعمال کی ایک نئی اصطلاح ’تجارتی یا رہائشی مع تجارتی استعمال‘ بھی شامل کر دی، جو رہائشی پلاٹوں پر کام کرنے والے ہزاروں کاوباری اداروں کو مؤثر طریقے سے قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے۔

کے بی ٹی پی آر 2002 کے مطابق بلڈنگ ریگولیشنز کے باب 19 میں بیان کیا گیا ہے کہ ’ایمینیٹی پلاٹ‘ سے مراد وہ پلاٹ ہے جو خاص طور پر حکومت، صحت اور فلاح و بہبود، تعلیم، اجتماع، مذہبی عمارات، پارکوں اور کھیل کے میدانوں، قبرستانوں، نقل و حمل کے حق، پارکنگ اور تفریحی استعمال کے لئے مختص کیا گیا ہو۔ صحت اور بہبود کے زمرے میں ’صحت اور سماجی بہبود کی خدمات کے لئے استعمال ہونے والی زمین جیسے ہیلتھ سینٹر، میڈیکل اور ڈینٹل کلینک، ہسپتال، میٹرنٹی ہومز، طبی تحقیق کے ادارے، نرسریز، زچہ و بچہ کی دیکھ بھال کے مراکز، جسمانی طور پر معذور افراد کے لئے گھر یا دیگر ادارے، ذہنی ادارے، بزرگوں کے لئے گھر، اور ویٹرنری کلینک / اسپتال بشمول سبز علاقے اور کھلی جگہیں ایسے اداروں کے مناسب کام کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تعلیم کے استعمال کے زمرے میں ’نرسری سکولوں، کنڈرگارٹن، پرائمری سکولوں، سیکنڈری سکولوں، ہائی سکولوں، کالجوں، خصوصی کالجوں کے لئے استعمال ہونے والی تمام زمینیں شامل ہیں۔ ٹیکنیکل کالج، یونیورسٹیاں، تحقیقی ادارے، مدرسے، ایسے تمام ادارے جو تعلیمی مقاصد (میڈیکل کے علاوہ) سے متعلق ہیں، اور فائن آرٹس انسٹی ٹیوٹ، بشمول سبز اور کھلی جگہیں ایسے اداروں کے مناسب کام کرنے کے لئے ضروری ہیں۔

واضح رہے کہ کے بی پی ٹی آر 2002 کے باب 19 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تعلیم کے استعمال کے لئے مختص مقامات کو کسی دوسرے استعمال میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، کے بی پی ٹی آر (ترمیم) 2025 میں، ایس بی سی اے نے’صحت و بہبود اور تعلیم’ کے زمرے کو ’ایمینیٹی پلاٹ‘ کی تعریف سے ہٹا دیا اور تجارتی استعمال کے زمرے کو ’تجارتی/ رہائشی مع تجارتی استعمال‘ سے تبدیل کر دیا۔ ایس بی سی اے نے ’رہائشی استعمال‘ کے زمرے میں ترمیم کی اور اعلان کیا کہ رہائشی احاطے کو رہائشی سہولتوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی، صحت اور تفریحی سہولتوں کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایک نئی شق کے ذریعے ترمیم شدہ قواعد و ضوابط میں ’تفریحی استعمال‘ کی تعریف ایسی سرگرمیوں، سہولتوں اور جگہوں کے طور پر کی گئی ہے جو تفریح، سماجی تعامل اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود میں سہولت فراہم کرتی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس میں کھانے کی جگہ اور سماجی ادارے شامل ہیں، جیسے کیفے، فوڈ کورٹس اور اسی طرح کے مقامات، بشرطیکہ وہ پڑوس کے تفریحی اور اجتماعی تجربے میں حصہ لیں۔ اس کے علاوہ کے بی پی ٹی آر 2002 کے باب 18 میں ایک اور ترمیم کی گئی تھی جس کا عنوان تھا ’سب ڈویژن اور زمین کا انضمام اور زمین کے استعمال میں تبدیلی‘ تاکہ کم از کم 60 فٹ چوڑی سڑک پر واقع کم از کم 400 مربع گز کے رہائشی پلاٹ کو ’تعلیم، صحت یا تفریحی مقاصد‘ کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکے۔

جی ہاں یہ وہ ترامیم اور تبدیلیاں ہیں جو شہر کو بدل کر رکھ دیں گی اور رہائشی مکانات کا تصور ایک خواب ہی رہ جائے گا کیونکہ اس کے براہ راست اثرات شہری منصوبہ بندی، ٹریفک کی بھیڑ، اور زمین کے استعمال پر ہوں گے۔ ان ترامیم کو دیکھ کر یہ واضح ہے کہ یہ تبدیلیاں بنیادی طور پر بااثر حلقوں کے مفاد میں کی گئی ہیں، جس سے کراچی کے ہزاروں غیر قانونی تجارتی مقامات و منصوبے قانونی حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔

کیونکہ جب 60 فٹ کی سڑکوں پر جب مزید کمرشل منصوبے بننے شروع ہو جائیں گے تو رہائشی علاقوں میں ٹریفک جام کا عالم کیا ہوگا؟ ایسا نہیں کہ یہ منصوبے پہلے نہیں تھے مگر اب تو باقاعدہ طور پرغیر قانونی ریسٹورانٹس اور منصوبوں کو قانونی حیثیت دینے کے لئے انہیں “تفریحی” زمرے میں شامل کر کے رہائشی علاقوں میں قائم تمام غیر قانونی ریسٹورانٹس کو قانونی قرار دے دیا گیا ہے، جو مزید تجارتی سرگرمیوں کے بے قابو پھیلاؤ کا باعث بنے گا۔ اس کے ساتھ ان ترامیم کے بعد، بغیر اس بات کا جائزہ لیے کہ آیا وہاں بنیادی سہولیات موجود ہیں یا نہیں اب کہیں بھی سکول اور دیگر تعلیمی ادارے قائم کیے جا سکتے ہیں۔

یعنی گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 کے لئے عوامی مشاورت کے دعوے، انٹرنیشنل کنسلٹنٹ، سٹیک ہولڈرز، سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سب دھواں بن کر اڑ گئے اور ایک ادارے (ایس بی سی اے) نے ماسٹر پلاننگ کی ذمہ داری خود سنبھال لی ہے، جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی اور حد تو یہ کہ شہر کے وہ ادارے جو زمین کے مالکانہ ادارے گردانے جاتے ہیں جیسے کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے)، ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے)، اور لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، ان سے ہی مشاورت کر لی جاتی۔

کراچی کے شہری منصوبہ سازوں، معماروں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 میں حالیہ غیر مشاورتی ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اور شہر میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لئے سستی رہائش کی رسائی پر زور دیا، کیونکہ سستی رہائش نہ ہونے کے سبب بہت سے لوگ غیر رسمی رہائش یا کچی آبادیوں میں آباد ہونے پر مجبور ہوئے۔ ایک بات بالکل واضح ہے کہ کراچی کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کو کرنے دیا جائے نہیں تو یہ شہر مزید تباہ حالی کا شکار ہوگا کیونکہ ایک جانب موسمیاتی تبدیلیاں ہیں تو دوسری جانب ایسا انفراسٹرکچر جو مزید بوجھ کا متحمل نہیں۔ پھر اس پر یہ عوام دشمن فیصلے۔۔۔۔

اربن پلانر، ریسرچر کراچی اربن لیب آئی بی اے