Get Alerts

ایک ممنوعہ محبت کی کہانی - مہارشٹرا میں زبان، مذہب اور انتہا پسندی کے درمیان کشمکش کی روداد بیان کرتا ایک جدید ناول

اردو زبان کا مذہبی زبان بن جانا بسا اوقات ایک مسلم کردار کے دل میں اس زبان سے نفرت کا باعث بن جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ زبان اس کو اس کی مٹی مہاراشٹرا سے دور کر رہی ہے کیونکہ اسے جب یہ کہا جاتا ہے کہ مراٹھی ہندوؤں کی زبان ہے، تم مت بولو تو اسے برا لگتا ہے

ایک ممنوعہ محبت کی کہانی - مہارشٹرا میں زبان، مذہب اور انتہا پسندی کے درمیان کشمکش کی روداد بیان کرتا ایک جدید ناول

اردو ناول اپنی ابتدا سے لے کر اب تک بے حساب فکشن تخلیق کر چکا ہے۔ اگر اردو فکشن کا جس میں افسانہ اور ناول دونوں شامل ہیں موزانہ عالمی ادب سے کیا جائے تو کسی طرح بھی اردو فکشن کا قد کم یا چھوٹا مسحوس نہیں ہو گا۔ پاکستان میں تو تواتر سے اردو ناول پر کام جاری ہے مگر بھارت جو اردو کی جنم بھومی ہے وہاں اردو فکشن پر کیسا کام ہو رہا ہے؟ جو سنگ میل قرۃ العین حیدر جیسی عظیم لکھاری نے وضع کیے تھے اب بھارت کے اردو ادیب کیا کر رہے ہیں؟

اردو کا جنم لکھنؤ، دہلی میں ہوا مگر ترویج پنجاب میں ہوئی تھی لہٰذا اتر پردش، پنجاب کے علادہ حیدرآباد میں اردو پر کام ہوا ہے۔ مگر جس ناول نگار کے ناول پر میں تبصرہ کر رہا ہوں وہ رحمان عباس ہیں جو مہاراشٹرا سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کا ناول ( ایک ممنوعہ محبت کی کہانی) پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت میں اردو فکشن کا مستقبل محفوط ہاتھوں ہے۔ کیا کمال کا ناول ہے۔ پہلے صفحے کے پہلے جملے سے ہی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اردو مراٹھی مسلمانوں کی بھاشا نہیں ہے۔ ان کی زبان مراٹھی ہے۔ مگر چونکہ اردو کا مسلم تہذیب و ثفاقت سے بہت گہرا تعلق ہے لہٰذا یہ زبان مسلم زبان ہی کہلائی جیسے ہندی بھاشا ہندو زبان بن گئی۔

یہ زبانوں کا المییہ بھی بن جاتا ہے کہ ان کو کسی مذہب کے ساتھ منسوب کر دیا جائے۔ ییی اس ناول کا موضوع ہے۔ رحمان عباس نے کمال مہارت سے اس موضوع کے ساتھ کہانی کا تانا بانا بنا ہے۔ مہا راشٹرا کے مسلمانوں کی ثفافتی زندگی غربت، پھر خوشحالی اور پھر مذہبی جنونیت میں کیسے بدلی یہ سب کچھ اس ناول میں ہے۔ اردو زبان کا مذہبی زبان بن جانا بسا اوقات ایک مسلم کردار کے دل میں اس زبان سے نفرت کا باعث بن جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ زبان اس کو اس کی مٹی مہاراشٹرا سے دور کر رہی ہے کیونکہ اسے جب یہ کہا جاتا ہے کہ مراٹھی ہندوؤں کی زبان ہے، تم مت بولو تو اسے برا لگتا ہے کیونکہ وہ سکول میں مراٹھی ہی بولتا چلا آیا ہے۔ دھیرے دھیرے جب وہ کرادر اردو ادب سے روشناس ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ وہ اردو کے بارے میں غلط سوچتا رہا۔

زبان کی سیاست اور ادب کی ثفافت میں واضح فرق ہوتا ہے اور اردو شاعری کسی بھی دوسری زبان میں لکھے گئے فکشن کے مقابلے میں کسی طرح بھی کم روشن خیال نہیں۔ یہی اس ناول کی خوبصورتی ہے۔ جب کوئی زبان مذہبی مبلغ کے ہاتھ لگ جائے تو اس کی خوبصورتی ختم کر کے مذہبی اور لسانی شاخت دے دی جاتی ہے۔ ناول کے آخر میں جس مسلم شدت پسندی کو دکھایا گیا وہ کلاسیک ہے۔ رحمان عباس کا ناول ( ایک ممنوعہ محبت کی کہانی) اردو فکشن میں گراں قدر اضافہ ہے۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔