میرے شہر کے اس شخص کا اصل نام تو معلوم نہیں لیکن لوگ اسے شاستری کہہ کر بلاتے تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ اس کی شکل بھارت کے سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری سے ملتی جلتی تھی۔ اس شخص پر یہ نام 1965 کی پاکستان بھارت جنگ کے دنوں سے پڑا تھا۔
مجھے 1965 والی جنگ زیادہ یاد تو نہیں بس اتنا یاد ہے کہ میری ماں اور دادی شام کا اندھیرا ہونے سے پہلے کھانا وغیرہ تیار کر لیتی تھیں اور چولہا اچھی طرح بجھا لیتیں۔ اس طرح کہ چولہے میں کوئی چنگاری بھی دہکتی نہ رہ جائے کہ بھارت کے طیاروں کو وہ نظر آ جاتی ہے۔ ابھی شاید بلیک آئوٹ کا لفظ اتنا زبان زد عام نہیں تھا۔ بس یہ تھا کہ اندھیرا کیا جائے اور ہر چمکتی چیز پر ملتانی مٹی یا گارے کا لیپ کیا جاتا۔ ابھی ٹی وی تو کیا ریڈیو بھی عام نہیں تھا لیکن گھروں میں میرے بڑے، یعنی دادا اور والد حر مجاہدوں کی بہادری کے قصے کرتے۔
میرا شہر پاکستان - بھارت کی سرحد پر ہے۔ سندھو دریا اور صحرا کے صفا نزدیک۔ یہ کھینجو سے زیادہ دور نہیں جہاں اب دونوں قریبی پڑوسی ہیں۔ لیکن ایک دوسرے کی جان، مال، عزت کے دشمن ملکوں کے بیچ حالیہ جھڑپوں میں انڈین ڈرون گرا جس سے کھیتوں میں کام کرنے والا ایک کسان 'جاں بحق' ہو گیا ہے۔ سندھی کسان ہندوستانی حملے میں مرے تو 'جاں بحق'، بہاولپور میں بدنام زمانہ مسعود اظہر کی مسجد اور مدرسے پر حملے میں ہلاک ہونے والے 'شہید'۔ خیر۔
تو بات کر رہے تھے میرے شہر کے شاستری کی۔ یہ بھی کہ اس پر شاستری نام کیسے پڑا۔
سنہ 65 کی پاکستان بھارت جنگ میں میرے شہر کے تمام محب وطن لوگوں نے بھارتی جارحیت کے خلاف جلوس نکالنے کی ٹھانی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ٹرکوں کے پیچھے اور قربانی کے دنبے کی پسلیوں پر مہندی سے لکھا جاتا تھا 'پاک فوج کو سلام'۔ گھر گھر ایوب خان کے دبنگ صدر ہونے کے قصے تھے۔ بھٹو اب شہرت پکڑ رہا تھا۔ تو ایسے میں میرے شہر کے لوگوں نے پاک فوج سے یکجہتی میں اور بھارتی جارحیت کے خلاف جلوس نکالنے کا سوچا۔
سابقہ سؤویت یونین یا روس بھارت کا دوست تھا لیکن ہمارے ملی نغمے میں لاہور پاک سرزمین کا سٹالن گراڈ تھا۔ ایسے نغمے دن رات لائوڈ سپیکروں پر بجتے رہتے۔ جن کی آوازیں ہمارے گھر بھی آتی رہتیں۔
ایسے میں ستمبر کی ایسی جنگی دوپہر ایسے جلوس میں میرے شہر کے اس بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری لگتے معصوم محب وطن شخص نے رضا کارانہ طور خود کو شاستری بننے کے لئے پیش کیا۔ سر پر نہرو کیپ۔ سفید پاجامہ، سفید اچکن، پورا لال بہادر شاستری لگتا۔ اس ہمارے لال بہادر شاستری کو پرانے جوتوں کا ہار پہنایا گیا، گدھے پر الٹا بٹھایا گیا۔ منہ پر شاید (توے سے) سیاہی ملی گئی۔ اور پھر جلوس اللہ اکبر، پاکستان پائندہ باد، پاک فوج زندہ باد، صدر ایوب زندہ باد، اسلام زندہ باد، بزدل ہندو مردہ باد، ہندوستان کا منہ کالا جیسے نعرے لگاتا اور شاستری پر لعن طعن کرتا شہر میں گشت کرتا رہا۔ اس دن سے آج تک اس شخص کا نام شاستری پڑا رہا (اب پتہ نہیں بقید حیات ہے بھی کہ نہیں)۔ میرے شہر کا شاستری زندہ باد۔