Get Alerts

خواتین و حضرات کے لئے الگ الگ اوقات

موصوف جس آفس میں کام کرتے ہیں، وہاں خواتین و حضرات کے لیے بھی الگ الگ اوقات مقرر کریں۔ پھر اگر کسی خاتون کو انٹرویو وغیرہ دینا ہو تو اس کے الگ الگ اوقات کیسے مقرر ہوں گے؟

خواتین و حضرات کے لئے الگ الگ اوقات

منیر نیازی صاحب نے جب ارشاد فرمایا تھا کہ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے، تو نہیں معلوم ان کے ذہن میں کس آسیب کا سایہ تھا، مگر ہمارے بچپن سے لے کر پچپن تک جس آسیب کا سایہ کسی نہ کسی شکل میں چلا آ رہا ہے، وہ مردِ مومن مردِ حق کا ڈالروں والا جہاد کلچر، ہیروئن کلچر، کلاشنکوف کلچر سے لے کر شٹل کاک پردہ کلچر ہے۔

پہلی دفعہ اس کا اندازہ تب ہوا جب بہت ہی بچے تھے۔ حسبِ معمول ایک روز قریبی جنرل اسٹور پر بسکٹ لینے گئے تو کیا دیکھا کہ اسٹور کا جو بیکری والا حصہ ہے، وہاں ایک سیاہ پردہ لہرا رہا تھا۔ بھولپن سے دکاندار سے پوچھا:

“کیا بسکٹ، پیسٹریوں کا بھی پردہ ہوتا ہے؟”

دکاندار نے فوراً جواب دیا:

“او بچے، تمہیں نہیں پتا؟ رمضان کا مہینہ شروع ہو چکا ہے، روزے کے اوقات میں کھانے پینے کی اشیاء کی خرید و فروخت منع ہے۔”

میں نے کہا کہ میں تو بچہ ہوں، روزے فرض نہیں ہیں۔ میری والدہ صوم و صلوٰۃ، روزے اور پردے کی پابند ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اپنے لیے دکان سے کچھ لے آؤ کیونکہ دوپہر میں کھانا نہیں بنے گا۔

دکاندار نے جھڑک کر کہا:

“شام سے پہلے نہیں ملے گا، چلو نکلو۔”

گھر آ کر سارا ماجرا والدہ کو بتایا تو خالصتاً دیہاتی بیک گراؤنڈ کی والدہ نے خالصتاً دیہاتی انداز اور لب و لہجے میں “کچھ الفاظ” ادا کیے، حاکمِ وقت اور اس کے پیروکار دکاندار کے لیے، جو ظاہر ہے میری سمجھ میں نہیں آئے کیونکہ میں تو بچہ تھا۔ بالفرض سمجھ میں آ بھی جاتے تو یہاں لکھ تو نہیں سکتا، اب اتنا بھی بچہ نہیں!

مردِ حق کے ماڈرن نظریاتی پیروکار، موصوف کا فرمان سوشل میڈیا کے توسط سے پڑھا کہ جم میں مردوں اور عورتوں کے الگ الگ اوقات مقرر کرو۔

حکم تو نظریں نیچی رکھنے کا ہے، موصوف نظریں ترچھی رکھنا چاہتے ہیں، اس لیے فرما دیا کہ بند کرو یہ کاروبار۔ میرا چونکہ کوئی دیہاتی بیک گراؤنڈ نہیں، اس لیے وہ والے “کچھ الفاظ” ادا نہیں کر سکتا۔

موصوف جس آفس میں کام کرتے ہیں، وہاں خواتین و حضرات کے لیے بھی الگ الگ اوقات مقرر کریں۔ پھر اگر کسی خاتون کو انٹرویو وغیرہ دینا ہو تو اس کے الگ الگ اوقات کیسے مقرر ہوں گے؟

As they say, charity begins at home

تو کیوں نہ آغاز گھر سے ہی کیا جائے؟ گھر کی خواتین و حضرات کے لیے الگ الگ کھانے کے اوقات مقرر ہوں۔

دو دن میں “اوقات” نہ پتا چل گئی تو میرے لیے بھی وہی “کچھ الفاظ”۔۔۔

اچھا، تو پھر اسٹیڈیم میں کرکٹ میچ کے تماشائیوں کے الگ الگ اوقات بھی ہونا چاہئیں۔

خواتین لنچ کے وقفے تک میچ دیکھ سکیں گی اور مرد حضرات لنچ کے وقفے سے لے کر ٹی بریک تک، اور ٹرانسجینڈر ٹی بریک سے اینڈ تک۔

موصوف مرد و خواتین کے اوقات مقرر کرتے ہوئے ٹرانسجینڈر بھول گئے، میں نے یاد کرا دیا۔

آج کل ایران میں بالخصوص، اور دوسرے کئی اسلامی ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں مخلوط مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان میں سے مرد، خواتین اور ٹرانسجینڈر چھانٹی کر کے احتجاج کے الگ الگ اوقات مقرر فرما دیں، عین نوازش ہوگی۔

موصوف کے پاس کروڑوں رینج کی ایس یو وی ہے، اس لیے یہ قرینِ قیاس نہیں کہ وہ گروسری وغیرہ کے لیے اتوار بازار، کورڈ مارکیٹ وغیرہ جاتے ہوں گے۔ وہاں بھی مخلوط شاپنگ ہوتی ہے۔ مرد، عورتیں اور ٹرانسجینڈر ایک ہی اوقات میں خریداری کے لیے آتے جاتے ہیں۔ کیوں نہ عورتوں کے لیے رات کے اوقات، یعنی سورج غروب ہونے کے بعد جب اچھی طرح اندھیرا ہو جائے، ٹرانسجینڈر کے لیے صبحِ صادق سے پو پھٹنے تک، اور مرد سارا دن دندناتے شاپنگ کرتے رہیں، جب تک رات کے سائے گہرے نہ ہو جائیں۔

آگے چل کر موصوف اگر یہی اوقات بسوں، ٹرینوں اور خاص طور پر جہازوں کے لیے مقرر کر دیں کہ خواتین ایئرپورٹس پر صرف مخصوص اوقات میں ہی آ سکیں گی کیونکہ وہاں مرد حضرات بڑے ہی واہیات قسم کے کپڑے زیبِ تن کیے اکثر ٹیڑھے میڑھے ہو کر لیٹے ہوتے ہیں، اور کئی ادھیڑ عمر حضرات سر، سینے، ٹانگوں وغیرہ پر خارش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح کے فحش مناظر سے بچنے کے لیے بہتر ہے خواتین کے لیے الگ ایئرپورٹس اور الگ فلائٹس مقرر کی جائیں۔ خاتون پائلٹ بھی نہیں ہو سکتی، اپنا الگ جہاز اڑائیں۔

بے حیائی سے بس اسی صورت بچا جا سکتا ہے۔

موصوف تھوڑا سا اور آگے بڑھیں، خواتین و حضرات کے لیے الگ الگ اوقات میں سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس مقرر کروائیں۔ مخلوط اجلاس سے وہی کچھ ہونے کے شدید خطرات ہیں جن کا ذکر اوپر ہو چکا۔

میری معلومات اور علم خاصا ناقص ہے، یہ جو مختلف قسم کی پریڈز وغیرہ ہوتی ہیں، وہ بھی الگ الگ اوقات میں ہوتی ہیں یا ایک ہی وقت میں؟

یہاں تک لکھا تھا کہ ایک غیبی آواز آئی:

“بلاگر بھائی، اپنی ‘اوقات’ میں رہو۔”

کرنٹ افیئرز ٹی وی پروڈیوسر کے لیے بڑی آزمائش آنے والی ہے۔ لیڈیز اینکرز مرد مہمانوں کے ساتھ الگ الگ اوقات میں کیسے پروگرام ریکارڈ کروائیں گی؟ موصوف تربیتی کورس کروائیں گے؟

زندگی میں چند ایک ایسے مواقع آئے جن میں واقعی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اور آتے ہی چلے گئے۔

ان میں سے ایک، چند دن پہلے کی وہ وائرل ویڈیو تھی جس میں ایک ماں جیسی خاتون، سر اور چہرہ دوپٹے سے ڈھانپے، کسی موبائل شاپ کے اونر سے بات کر رہی تھیں کہ:

“بیٹا، میرا یہ موبائل بیچ دو، میں نے بچے کے لیے چار سو روپے کا نمونیا کا انجکشن خریدنا ہے۔”

دکاندار کہہ رہا تھا:

“ماں جی، ایک تو آپ کا موبائل اتنا پرانا ہے، دوسرا اس کی بیٹری خراب ہے۔”

نورانی چہرے والی ماں جیسی خاتون بار بار دوپٹے سے اپنے آنسو صاف کر رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں:

“بیٹا، کسی طرح بھی بیچ دو، بچے کے لیے نمونیا کا چار سو روپے کا انجکشن خریدنا ہے۔”

خدا کی قسم، وہ دکاندار ایسے ہزاروں بلکہ لاکھوں موصوفوں سے کروڑوں درجے بہتر تھا، جس نے رونے والی آواز میں کہا:

“ماں جی، روئیں تو نہ۔ یہ لیں اپنا موبائل، میں نے اس میں نئی بیٹری ڈال دی ہے، اور یہ لیں پانچ سو روپے، اپنے بچے کے لیے نمونیا کا انجکشن خرید لیں۔”

ویڈیو میں اس دکاندار کا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا، لیکن اس ماں جیسی خاتون کے چہرے کے تاثرات میں اس دکاندار کا چہرہ صاف نظر آ رہا تھا۔

اگر وہ موبائل شاپ والا بھی کوئی موصوف ہوتا تو کہتا:

“جا مائی، یہ مردوں کا ٹائم چل رہا ہے، عورتوں والے اوقات میں آنا، تو پھر تمہارے بچے کی بیماری والی کہانی سنیں گے۔”

چند روز پہلے کے دو اور مناظر۔۔۔

کسی اسپتال میں ایک باریش شخص ایک خاتون کو تھپڑ اور گھونسے مار مار کر لہولہان کر دیتا ہے۔

دوسرا، شاید چیچہ وطنی کی ایک چلتی سڑک پر، دن دہاڑے ایک برقع پوش خاتون کو جانے کس جرم میں موقع پر گولی مار کر “انصاف” کر دیا گیا۔

کیا یہ سب “حیا” والے کام ہیں؟ اگر ہیں، تو پھر ان کے “اوقات” مقرر کریں۔۔!