Get Alerts

جامعات میں اعلیٰ تعلیم، کیا ہمارا ڈاکٹریٹ پروگرام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟

پی ایچ ڈی صرف ایک سند یا نام کے ساتھ ’’ڈاکٹر‘‘ لگانے کا ذریعہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا اصل مقصد ایسے محققین تیار کرنا ہے جو سوال اٹھانے، دلیل تلاش کرنے، شواہد کا تجزیہ کرنے اور نئے علم کو دنیا کے سامنے لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایک حقیقی محقق کی پہچان اس کی ڈگری سے زیادہ اس کے تحقیقی کام، علمی دیانت، حوالہ جات کے درست استعمال اور اپنے شعبے میں کیے گئے اصل کام سے ہوتی ہے۔

جامعات میں اعلیٰ تعلیم، کیا ہمارا ڈاکٹریٹ پروگرام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟

ہم تو یہ سنتے ہیں اور اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ فلاں بندے نے پی ایچ ڈی کی ہے یا کر رہے ہیں، لیکن ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ آئیے، آج کے کالم میں اپنے قارئین کو پی ایچ ڈی کے بارے میں تفصیلی رپورٹ وضاحت کے ساتھ لکھتا ہوں، تاکہ پی ایچ ڈی کے بارے میں اپنے قارئین کو پتا ہو کہ پی ایچ ڈی کیا ہے اور کیسے کہتے ہیں۔

پی ایچ ڈی، جسے انگریزی میں Doctor of Philosophy (PhD) کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں اعلیٰ ترین تحقیقی اور علمی ڈگریوں میں شمار ہوتی ہے۔ عام طور پر جب کسی شخص کے نام کے ساتھ ’’ڈاکٹر‘‘ لکھا ہوا نظر آتا ہے تو اکثر لوگ اسے طبیب یا میڈیکل ڈاکٹر سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ پی ایچ ڈی کرنے والے شخص کا ڈاکٹر ہونا طبی علاج سے نہیں بلکہ علم، تحقیق اور کسی مخصوص شعبے میں غیر معمولی مہارت سے متعلق ہوتا ہے۔ پی ایچ ڈی مختلف شعبہ ہائے علم میں کی جا سکتی ہے، جن میں اردو، انگریزی، تاریخ، سیاسیات، معاشیات، تعلیم، عمرانیات، اسلامیات، قانون، طبیعیات، کیمسٹری، حیاتیات، کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ اور دیگر بے شمار شعبے شامل ہیں۔ اس لیے ’’Doctor of Philosophy‘‘ کا نام سن کر یہ سمجھنا درست نہیں کہ پی ایچ ڈی صرف فلسفے کے مضمون میں حاصل کی جاتی ہے۔

PhD کی اصطلاح بنیادی طور پر قدیم علمی روایت سے نکلی ہے اور اس کے لغوی مفہوم کو ’’علم اور دانائی سے محبت رکھنے والا ڈاکٹر‘‘ کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں فلسفہ کا لفظ صرف فلسفے کے ایک مخصوص مضمون کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ وسیع تر معنوں میں علم، غوروفکر، تحقیق اور دانائی کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص تاریخ میں پی ایچ ڈی کرکے تاریخ کا ماہر بن سکتا ہے، کوئی اردو ادب میں تحقیق کرکے اردو کا اسکالر بن سکتا ہے، کوئی طبیعیات میں نئی تحقیق کرکے فزکس کا ماہر بن سکتا ہے اور کوئی کمپیوٹر سائنس میں تحقیق کرکے اس شعبے میں علمی مقام حاصل کرسکتا ہے۔

پی ایچ ڈی کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ محض کتابیں پڑھنے یا امتحانات پاس کرنے کی ڈگری نہیں بلکہ تحقیق کے ذریعے علم میں نیا اضافہ کرنے کا عمل ہے۔ عام تعلیمی مراحل میں طالب علم زیادہ تر پہلے سے موجود علم کو پڑھتا، سمجھتا اور امتحانات کے ذریعے اپنی قابلیت ثابت کرتا ہے، لیکن پی ایچ ڈی کی سطح پر طالب علم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے منتخب کردہ شعبے میں ایسا تحقیقی کام کرے جس سے پہلے سے موجود علمی ذخیرے میں کوئی نیا اضافہ ہو۔ یہی ’’نیا اضافہ‘‘ پی ایچ ڈی کی اصل روح سمجھا جاتا ہے۔

مثلاً اگر کوئی شخص تاریخ میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے تو اس سے صرف یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ تاریخ کی کتابیں پڑھ کر ان کا خلاصہ پیش کرے، بلکہ اسے کسی مخصوص تاریخی مسئلے، واقعے، شخصیت یا دور کے بارے میں نئے شواہد تلاش کرنے، پرانے شواہد کا نئے انداز سے تجزیہ کرنے یا کسی موجودہ علمی رائے کو تحقیق کی بنیاد پر چیلنج کرنے کی کوشش کرنا ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی طالب علم اردو ادب میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے تو اس سے محض شاعروں اور ادیبوں کے حالاتِ زندگی یاد کرنے کی توقع نہیں ہوتی بلکہ اسے کسی ادبی رجحان، شخصیت، صنف، متن یا نظریے پر گہری اور اصل تحقیق پیش کرنا ہوتی ہے۔

پی ایچ ڈی کا سفر عام طور پر موضوع کے انتخاب سے شروع ہوتا ہے۔ طالب علم اپنے شعبے میں ایک ایسا موضوع تلاش کرتا ہے جو علمی اعتبار سے اہم ہو، جس پر مزید تحقیق کی گنجائش موجود ہو اور جس کے ذریعے کوئی نیا سوال یا مسئلہ سامنے لایا جا سکے۔ اس کے بعد وہ اپنے تحقیقی موضوع کے حوالے سے پہلے سے ہونے والی تحقیق کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے یہ جاننا ہوتا ہے کہ اس موضوع پر پہلے کیا کام ہو چکا ہے، کن محققین نے کیا نظریات پیش کیے، کہاں اختلاف موجود ہے اور تحقیق کے کون سے پہلو ابھی تک تشنہ ہیں۔

اس مرحلے کے بعد تحقیقی منصوبہ یا ریسرچ پروپوزل تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں تحقیق کا بنیادی سوال، مقاصد، طریقۂ تحقیق، متعلقہ لٹریچر اور متوقع نتائج وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی اور متعلقہ شعبہ اس منصوبے کا جائزہ لیتا ہے اور منظوری کے بعد باقاعدہ تحقیقی کام شروع ہوتا ہے۔ اس پورے سفر میں ایک سپروائزر یا تحقیقی نگران طالب علم کی رہنمائی کرتا ہے، تاہم پی ایچ ڈی کے طالب علم سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ آزادانہ سوچ، تجزیے اور تحقیق کی صلاحیت پیدا کرے۔

پی ایچ ڈی کے دوران طالب علم کو بے شمار کتابوں، تحقیقی مقالوں، دستاویزات، رپورٹس، تاریخی ریکارڈز، سروے، انٹرویوز یا تجربات کا مطالعہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ تحقیق کے شعبے کے مطابق طریقۂ کار مختلف ہوتا ہے۔ سائنسی مضامین میں تجربات اور لیبارٹری تحقیق اہم ہو سکتی ہے، سماجی علوم میں سروے، انٹرویو اور اعداد و شمار کا تجزیہ ضروری ہو سکتا ہے، جبکہ تاریخ اور ادب جیسے شعبوں میں قدیم دستاویزات، کتابیں، خطوط، اخبارات، مخطوطات اور دیگر بنیادی ماخذ تحقیق کا حصہ بن سکتے ہیں۔

اس پورے عمل کا نتیجہ ایک تفصیلی تحقیقی مقالے یا PhD Thesis/Dissertation کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ عام مضمون یا کتاب سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ اس میں تحقیق کا واضح طریقۂ کار، بنیادی سوال، سابقہ تحقیق کا جائزہ، شواہد، تجزیہ، نتائج اور حوالہ جات شامل ہوتے ہیں۔ ایک اچھی پی ایچ ڈی تھیسس صرف معلومات کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں محقق کی اپنی علمی سوچ، تجزیہ اور اصل تحقیقی contribution نمایاں ہوتی ہے۔

پی ایچ ڈی مکمل کرنے کا ایک اہم مرحلہ مقالے کا دفاع، جسے عام طور پر وائیوا کہا جاتا ہے، بھی ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں ماہرین محقق سے اس کی تحقیق کے بارے میں سوالات کرتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ محقق نے اپنے موضوع کو کس حد تک سمجھا ہے، اس کے نتائج کی بنیاد کیا ہے، اس کی تحقیق میں نیا پن کیا ہے اور اس کے کام کی علمی اہمیت کیا ہے۔ کامیاب دفاع اور دیگر مقررہ تقاضے مکمل ہونے کے بعد یونیورسٹی طالب علم کو پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کرتی ہے۔

یہ بات بھی خاص طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پی ایچ ڈی اور میڈیکل ڈاکٹر میں بنیادی فرق ہے۔ میڈیکل ڈاکٹر مریضوں کی تشخیص، علاج اور طبی نگہداشت کے لیے مخصوص طبی تعلیم حاصل کرتا ہے، جبکہ پی ایچ ڈی کا ’’ڈاکٹر‘‘ کسی مخصوص علمی یا تحقیقی شعبے میں اعلیٰ درجے کی تحقیق مکمل کرنے کے بعد یہ علمی اعزاز حاصل کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’ڈاکٹر آف ہسٹری‘‘، ’’ڈاکٹر آف اردو‘‘ یا ’’ڈاکٹر آف فزکس‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ یہ افراد مریضوں کا علاج کر سکتے ہیں، بلکہ ان کی ڈاکٹری ان کے علمی اور تحقیقی مقام کی نشاندہی کرتی ہے۔

پی ایچ ڈی صرف ایک سند یا نام کے ساتھ ’’ڈاکٹر‘‘ لگانے کا ذریعہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا اصل مقصد ایسے محققین تیار کرنا ہے جو سوال اٹھانے، دلیل تلاش کرنے، شواہد کا تجزیہ کرنے اور نئے علم کو دنیا کے سامنے لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایک حقیقی محقق کی پہچان اس کی ڈگری سے زیادہ اس کے تحقیقی کام، علمی دیانت، حوالہ جات کے درست استعمال اور اپنے شعبے میں کیے گئے اصل کام سے ہوتی ہے۔

اسی وجہ سے پی ایچ ڈی کے لیے نقل، سرقہ یا کسی دوسرے شخص کی تحقیق کو اپنے نام سے پیش کرنا انتہائی سنگین علمی بددیانتی سمجھا جاتا ہے۔ پی ایچ ڈی کی اصل قدر اسی وقت برقرار رہتی ہے جب تحقیق محقق کی اپنی ہو، اس میں علمی دیانت موجود ہو اور نتائج شواہد کی بنیاد پر اخذ کیے گئے ہوں۔ ایک پی ایچ ڈی اسکالر کو صرف یہ ثابت نہیں کرنا ہوتا کہ وہ بہت کچھ پڑھ چکا ہے بلکہ اسے یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ نئی تحقیق پیدا کرنے اور علم کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دنیا بھر کی جامعات میں پی ایچ ڈی کے بعد فارغ التحصیل افراد یونیورسٹیوں میں تدریس، تحقیقی اداروں، سرکاری و غیر سرکاری اداروں، صنعت، ٹیکنالوجی اور پالیسی سازی سمیت مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ بہت سے پی ایچ ڈی اسکالرز اپنے تحقیقی مقالے بین الاقوامی جرائد میں شائع کرتے ہیں اور اپنے شعبے میں مزید تحقیق کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔

یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر پی ایچ ڈی ایک ہی مدت میں مکمل ہو۔ اس کی مدت ملک، یونیورسٹی، شعبے، تحقیق کی نوعیت اور طالب علم کی پیش رفت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ بعض تحقیقات نسبتاً جلد مکمل ہو جاتی ہیں جبکہ بعض موضوعات میں کئی سال لگ سکتے ہیں، خصوصاً ایسی تحقیق جس کے لیے وسیع پیمانے پر فیلڈ ورک، تجربات، تاریخی دستاویزات یا بڑے پیمانے پر ڈیٹا درکار ہو۔

پاکستان میں بھی پی ایچ ڈی اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کی ایک اہم سطح ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات نے پی ایچ ڈی پروگراموں کے لیے مختلف تعلیمی و تحقیقی تقاضے مقرر کیے ہیں تاکہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ معیاری تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔ ایک مضبوط تحقیقی نظام صرف ڈگریاں دینے سے نہیں بنتا بلکہ اس کے لیے معیاری جامعات، قابل اساتذہ، جدید تحقیقی سہولیات، لائبریریاں، تحقیقی جرائد، مالی معاونت اور علمی آزادی بھی ضروری ہوتی ہے۔

آخر میں پی ایچ ڈی کو ایک جملے میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ کسی مخصوص شعبۂ علم میں اعلیٰ درجے کی آزادانہ اور اصل تحقیق کے ذریعے علم میں نیا اضافہ کرنے والی تحقیقی ڈگری ہے۔ پی ایچ ڈی کرنے والا شخص صرف زیادہ ڈگریوں والا فرد نہیں بلکہ اپنے مخصوص شعبے میں تحقیق کرنے، سوال اٹھانے، شواہد کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنے اور نئی علمی سمتیں متعارف کرانے کی صلاحیت رکھنے والا محقق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک حقیقی پی ایچ ڈی کی سب سے بڑی پہچان اس کے نام کے ساتھ ’’ڈاکٹر‘‘ نہیں بلکہ اس کی تحقیق، علم، کردار اور علمی دیانت ہونی چاہیے۔

نعمان خان ضلع باجوڑ سے تعلق رکھتے ہیں، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز سے ابلاغیات میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ فنِ مباحثہ اور مذاکرہ میں اپنی کامیابی کا لوہا منوا چکے ہیں۔