Get Alerts

آزاد کشمیر میں اعتماد کا قتلِ عام

آزاد کشمیر کے عوام تصادم نہیں چاہتے۔ وہ عزت، انصاف، روزگار، بہتر تعلیم، سستی بجلی، سستا آٹا اور اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل چاہتے ہیں۔ وہ اپنے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں، مگر ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم نہیں۔

آزاد کشمیر میں اعتماد کا قتلِ عام

آزاد جموں و کشمیر، جسے قدرت نے بے مثال حسن، سرسبز وادیاں، بہتے جھرنے اور بلند و بالا پہاڑ عطا کیے ہیں، ہمیشہ سے قربانی، وفاداری اور حب الوطنی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس کے باسیوں نے ہر دور میں اپنے تشخص، حقوق اور قومی مفادات کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ مگر افسوس کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران یہی خطہ سیاسی بے چینی، معاشی مشکلات، عوامی اضطراب اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے خبروں کی زینت بنا رہا ہے۔

آج مسئلہ صرف احتجاج، گرفتاریوں یا سیاسی اختلافات کا نہیں، بلکہ اس اعتماد کے بحران کا ہے جو عوام اور حکمرانوں کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔ جب عوام خود کو غیر محفوظ، غیر سنا اور محروم محسوس کرنے لگیں تو ریاستی ڈھانچے میں دراڑیں نمودار ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

2024 میں جب مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی، بجلی کے بل ناقابلِ برداشت ہو گئے اور آٹے جیسی بنیادی ضرورت بھی عام شہری کی پہنچ سے دور ہونے لگی تو آزاد کشمیر کے عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت میں ہونے والے ان احتجاجوں میں تاجر، وکلا، طلبہ، مزدور، ٹرانسپورٹرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ ان کا مطالبہ نہ کوئی غیر آئینی تھا اور نہ ہی غیر حقیقی؛ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ ان کے وسائل پر سب سے پہلا حق انہیں دیا جائے۔

ان کا سوال یہ تھا کہ اگر آزاد کشمیر کی سرزمین سے پیدا ہونے والی پن بجلی پورے ملک کو روشن کر سکتی ہے تو پھر اسی خطے کے عوام اندھیرے اور مہنگی بجلی کا بوجھ کیوں اٹھائیں؟ اگر ان کی زمینیں قومی ترقی کے منصوبوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں تو ان کے گھروں میں فاقے کیوں ہوں؟

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ احتجاج اور تصادم کے ان دنوں میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ مئی 2024 کے واقعات میں کم از کم تین شہری اور ایک پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے، جبکہ درجنوں نہیں بلکہ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ حالیہ کشیدگی میں بھی متعدد افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اعداد و شمار شاید اخبار کے ایک کالم یا رپورٹ کی زینت بن جائیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر عدد کے پیچھے ایک انسان تھا، ایک خاندان تھا، ایک ماں کی دعائیں تھیں، ایک باپ کی امیدیں تھیں، ایک بیوی کا سہارا تھا اور بچوں کے مستقبل کے خواب تھے۔ جب کوئی شخص سیاسی یا سماجی بحران میں جان گنواتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں مرتا بلکہ ایک پورا خاندان عمر بھر کے لیے غم اور محرومی کی داستان بن جاتا ہے۔

"جو خاک میں مل گئے، وہ چراغ بن گئے
جو خون بہا گئے، وہ سراغ بن گئے"

شدید عوامی دباؤ کے بعد وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کے لیے تقریباً 23 ارب روپے کے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا۔ آٹے کی قیمتوں میں کمی کی گئی، بجلی کے نرخ کم کیے گئے اور کئی اہم مطالبات تسلیم کیے گئے۔ مذاکرات کا آغاز بھی ہوا، جس سے وقتی طور پر حالات میں بہتری آئی۔

تاہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ کسی بھی بحران کا حل صرف مالی پیکیج یا وقتی رعایتیں نہیں ہوتیں۔ اگر بنیادی وجوہات کو جڑ سے ختم نہ کیا جائے تو مسائل وقتی طور پر دب تو جاتے ہیں، مگر ختم نہیں ہوتے، اور پھر کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ سر اٹھا لیتے ہیں۔

اس صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر اصل قصوروار کون ہے؟ کیا تمام ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے؟ کیا صرف احتجاج کرنے والے قصوروار ہیں؟ یا پھر کسی ایک ادارے یا سیاسی جماعت کو موردِ الزام ٹھہرا دینا کافی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ مسائل اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ عوام کا سب سے بڑا شکوہ حکومتی کارکردگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور فیصلہ سازی کے عمل میں اپنی آواز کو نظر انداز کیے جانے سے متعلق ہے۔ دوسری طرف بعض مواقع پر طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور سخت انتظامی اقدامات نے عوامی غصے کو مزید بڑھایا۔

ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر عوامی تحریک میں ایسے عناصر شامل ہو جاتے ہیں جو پرامن احتجاج کو تشدد اور انتشار کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے عناصر، خواہ کسی بھی سوچ، جماعت یا گروہ سے تعلق رکھتے ہوں، نہ صرف ریاست بلکہ عوام کے بھی دشمن ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے اقدامات سے سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو پہنچتا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ الزام تراشی کے بجائے حل کی طرف بڑھا جائے۔ سب سے پہلے ان تمام واقعات کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہئیں جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ایک آزاد عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو تمام شہدا اور متاثرین کے معاملات کا جائزہ لے اور ذمہ داران کا تعین کرے، تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔

اختلافِ رائے کو دشمنی اور بغاوت سمجھنے کے بجائے جمہوری معاشروں کی طاقت تصور کیا جانا چاہیے۔ حکومت، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی، تاجروں، طلبہ اور نوجوانوں کے درمیان مستقل اور بامقصد مکالمے کا نظام قائم کیا جائے تاکہ مسائل سڑکوں پر آنے سے پہلے میز پر حل ہو سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے قدرتی وسائل، خصوصاً پن بجلی اور معدنیات سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کا جائز حصہ یقینی بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے، تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا اور صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا ہوگا۔

کیونکہ امن صرف پولیس کی نفری بڑھانے یا سکیورٹی اقدامات سخت کرنے سے قائم نہیں ہوتا؛ امن اس وقت قائم ہوتا ہے جب لوگوں کو اپنے مستقبل سے امید وابستہ ہو، جب انہیں انصاف ملے اور جب انہیں یہ یقین ہو کہ ریاست ان کی محافظ ہے، مخالف نہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی جدید خطوط پر تربیت دینے کی ضرورت ہے تاکہ احتجاجی ہجوم کے انتظام، انسانی حقوق کے احترام اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں کو مزید مؤثر انداز میں اپنایا جا سکے۔

اسی طرح سیاسی رہنماؤں، میڈیا اور سوشل میڈیا کے فعال حلقوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اشتعال انگیز بیانات، نفرت انگیز زبان اور افواہوں پر مبنی بیانیے وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں، مگر معاشروں کو طویل المدت نقصان پہنچاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام تصادم نہیں چاہتے۔ وہ عزت، انصاف، روزگار، بہتر تعلیم، سستی بجلی، سستا آٹا اور اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل چاہتے ہیں۔ وہ اپنے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں، مگر ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم نہیں۔ ان کی آواز میں غصہ ضرور ہے، مگر اس غصے کی بنیاد محرومی اور ناامیدی ہے، دشمنی نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج سب سے بڑی ضرورت اعتماد کی اس دیوار کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ہے جو گزشتہ برسوں میں کمزور پڑ چکی ہے۔

"نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی"

آزاد کشمیر کے شہدا کا خون، زخمیوں کی تکلیف، ماؤں کی آہیں اور یتیم بچوں کی خاموش نظریں ہم سب سے ایک سوال پوچھ رہی ہیں: کیا ہم نے ان قربانیوں سے کوئی سبق سیکھا؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امن صرف خاموشی کا نام نہیں۔ امن انصاف، احترام، شفاف حکمرانی، عوامی حقوق کے تحفظ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا نام ہے۔ جب عوام کو انصاف ملے گا، نوجوانوں کو امید ملے گی، حکومت جوابدہ ہوگی اور اختلافِ رائے کو جمہوری حق سمجھا جائے گا، تب ہی آزاد کشمیر ایک بار پھر امن، ترقی، خوشحالی اور بھائی چارے کی روشن مثال بن سکے گا۔

اور یہی ان تمام شہدا کے خون کا حقیقی قرض بھی ہے، جو اس سرزمین کے بہتر مستقبل کی امید میں اپنے آج کو قربان کر گئے۔