چند سال قبل کی دنیا ایک جان لیوا موذی مرض کورونا کی لپیٹ میں تھی۔ 2020 کا پورا سال کورونا کی نظر ہو گیا۔ مارچ سے لے کر ستمبر تک پوری دنیا میں کرفیو نافذ رہا۔ عجیب سا ماحول تھا۔ سکول، تجارتی مراکز، سنیما گھر، کھیل کے میدان، عبادت گاہیں، شراب خانے، چائے خانے، پارک، ہر طرف تالہ بندی تھی۔ اگر کہیں رش تھا تو ہسپتالوں اور قبرستانوں یا شمشان گھاٹوں پر۔ لوگ اس جان لیوا مرض کورونا سے مر رہے تھے۔ جو بیماری کے بعد صحت مند ہو جاتے تھے وہ طویل عرصے تک ان دنوں کو یاد کر کے کانپ جاتے تھے جب وہ کورونا کس شکار ہوئے تھے۔ پوری دنیا یک زبان ہو کر کورونا کا مقابلہ کر رہی تھی۔ مذاہب، ذات پات، ہر قسم کے علاقائی تعصب سے بالاتر ہو کر ساری دنیا کی حکومتوں کے دماغوں میں کورونا کو شکست دینے کی دھن سوار تھی۔ ریاستوں کے باہمی اختلافات پس پشت جا چکے تھے۔ ایک دوسرے کے ملکوں میں آمد و رفت کے ذرائع، ہوائی اڈے، ریلوے سٹیشن، بڑی موٹر ویز سب بند تھیں۔ لوگ ایک دوسرے سے کٹ چکے تھے اور اپنے گھروں میں قید تھے۔ سب کی زبان پر ایک ہی سوال تھا کہ یہ کورونا کب ختم ہو گا۔ مولوی، پادری، پنڈت سب خدا کے حضور سجدہ ریز تھے۔
ایسے میں امریکہ، برطانیہ، چین اور روس کے ماہرین طب اپنے اپنے ملکوں کی تجربہ گاہوں میں سر جوڑ کر بیٹھے اور کورونا ویکسین کی تیاری میں جت گئے۔ کئی ماہ کی انتھک محنت کے بعد ان ملکوں کے ماہرین طب کورونا ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یوں دنیا کورونا کو ہرانے میں کامیاب ہو گئی۔
یوں لگا اس موذی مرض نے دنیا کو ایک کر دیا۔ تمام ممالک آپس کے اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کو کورونا ویکسین مفت بانٹ رہے تھے۔ ایسا لگنے لگا کہ کورونا کال نے دنیاوی اختلافات ختم کر دیے ہیں۔ اب دنیا میں کبھی جنگ نہیں ہو گی، اب دنیا کورونا کے بعد غربت، بھوک، افلاس اور جہالت کے خلاف یک زبان ہو کر جنگ کرے گی اور انسانیت کا بول بالا ہو جائے گا۔ کورونا کال نے جو سبق دنیا بھر کے انسانوں کو پڑھا دیا اب لوگ اسی کو تاقیامت دہراتے رہیں گے کیونکہ کورونا کی شکل میں قیامت دیکھ چکے ہیں۔
مگر افسوس ایسا نہ ہوا۔ دنیا کورونا کال کے خاتمے کے دو سال بعد ہی دست و گربیاں ہو گئی۔ پہلے وسطی ایشیا میں آذربائیجان اور آرمینیا کی جنگ ہوئی۔ پھر یورپ میں روس اور یوکرین کی جنگ لگ گئی۔ اس کے بعد مشرق وسطیٰ میں حماس اور اسرائیل کی جنگ ہوئی اور اب جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت جنگی جنون میں متبلا ہو گئے ہیں۔ پھر وہی گولہ باورد کی بارش۔ موت کا وحشیانہ رقص۔ نفرت اور تعصب کہیں بنام مذہب اور کہیں علاقائی خود مختاری کا یدھ۔ دنیا بھول گئی ہے چند سال قبل وہ یک زبان ہو کر صرف کورونا کال سے لڑ رہے تھے۔ قدرت نے اس دنیا کو انسانیت کے طابع ہونے کا ایک موقع دیا تھا مگر پھر یہ دنیا اس سبق کو بھلا کر انسانوں کے قتل عام میں لگ چکی ہے۔ حرف آخر گُرو دت کی فلم کا ایک گیت یاد آتا ہے 'مجھے ایسی دنیا نہیں چاہیے'۔