Get Alerts

تاریخی ناول: ماضی کے بھیس میں حال کی کہانی!

کسی بڑے تاریخی کردار کو ناول میں شامل کر لینا بذات خود اسے تاریخی ناول نہیں بنا دیتا۔ ایسے ناول جن میں کوئی معروف بادشاہ، فاتح یا سپہ سالار مرکزی کردار ہو، بنیادی طور پر رومانوی یا مہماتی ناول بھی ہو سکتے ہیں۔ تاریخی ناول کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب ایک پورا عہد اپنی سماجیات، تہذیب اور انسانی تجربے کے ساتھ فکشن میں داخل ہوتا ہے۔

تاریخی ناول: ماضی کے بھیس میں حال کی کہانی!

حال ہی میں "دی بلیک ہول" اسلام آباد میں تاریخی ناول کے حوالے سے ایک ایسی نشست ہوئی جس نے اس صنف کے بارے میں میرے کئی تصورات نئے سرے سے ترتیب دیے۔ موضوع حمزہ حسن شیخ کا ناول "کیول رام کا کافر کوٹ" تھا، مگر گفتگو جلد ہی ایک کتاب سے نکل کر اس بنیادی سوال تک پہنچ گئی کہ آخر تاریخی ناول ہوتا کیا ہے، اس کی فنی ذمہ داری کیا ہے اور ہمارے ہاں تاریخی ناول کے نام پر جو کچھ لکھا جا رہا ہے، اسے ادب کے پیمانے پر کیسے پرکھا جائے۔

نشست میں ڈاکٹر صنوبر الطاف، ڈاکٹر روش ندیم اور ڈاکٹر صلاح الدین درویش شریک تھے۔ میں عام طور پر اس قسم کی علمی اور ادبی محفلوں میں جانے سے گریز کرتا ہوں۔ میرا تجربہ کچھ ایسا رہا ہے کہ ایسی نشستوں میں علمیت کا رعب زیادہ ہوتا ہے اور اصل بات کم۔ بھاری بھرکم اصطلاحات، فلسفیانہ زبان اور مصنوعی سنجیدگی کے ذریعے ایک سادہ بات کو اتنا پیچیدہ بنا دیا جاتا ہے کہ آخر میں سامع کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ گفتگو کا بنیادی نکتہ کیا تھا۔

اس نشست میں معاملہ مختلف تھا۔ تینوں مقررین نے مشکل موضوعات کو قابل فہم انداز میں بیان کیا۔ صنوبر الطاف نے گفتگو کے لیے خوب صورت پٹڑی بچھائی اور روش ندیم اور صلاح الدین درویش نے اس پر بہترین گاڑی چلائی۔ میرے جیسے کم علم آدمی کے لیے اس نشست کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ گفتگو ختم ہونے کے بعد یوں محسوس ہوا کہ کچھ نیا سمجھا بھی ہے، نہ کہ صرف کچھ مشکل اصطلاحات سن لی ہیں۔

گفتگو کا سب سے اہم سوال تھا تاریخی ناول آخر ہوتا کیا ہے؟

عام طور پر ہمارے ہاں تاریخی ناول کا تصور بہت سادہ ہے۔ کسی پرانے زمانے کو پس منظر بنا لیجیے، ایک بادشاہ یا سپہ سالار کو مرکزی کردار بنا دیجیے، جنگیں، حملے، فتوحات، دربار، سازشیں اور عشق شامل کر دیجیے اور پھر اسے تاریخی ناول کہہ دیجیے۔ لیکن اس تعریف میں تاریخی ناول اور تاریخی قصے کے درمیان فرق تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔

تاریخی ناول صرف ماضی میں ہونے والی کسی کہانی کا نام نہیں۔ اگر کسی ناول میں کسی خاص عہد کی سماجی تاریخ فکشن کا حصہ بنتی ہے تو وہاں تاریخی ناول کی اصل بنیاد پیدا ہوتی ہے۔ اس عہد کے لوگ کیسے رہتے تھے، ان کے تعلقات کی نوعیت کیا تھی، ان کی ذہنی ساخت کیا تھی، وہ مذہب، محبت، طاقت، خوف، خاندان اور روزمرہ زندگی کو کس طرح محسوس کرتے تھے۔ یعنی تاریخی ناول کا سوال صرف یہ نہیں کہ اس زمانے میں کیا ہوا؟ بلکہ یہ بھی ہے کہ اس زمانے میں انسان ہونا کیسا تھا؟

اسی لئے کسی بڑے تاریخی کردار کو ناول میں شامل کر لینا بذات خود اسے تاریخی ناول نہیں بنا دیتا۔ ایسے ناول جن میں کوئی معروف بادشاہ، فاتح یا سپہ سالار مرکزی کردار ہو، بنیادی طور پر رومانوی یا مہماتی ناول بھی ہو سکتے ہیں۔ تاریخی ناول کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب ایک پورا عہد اپنی سماجیات، تہذیب اور انسانی تجربے کے ساتھ فکشن میں داخل ہوتا ہے۔

یہ فرق اس لیے بھی اہم ہے کہ ہمارے ہاں تاریخی ناول کے نام پر معلومات کا ایک بڑا ذخیرہ پیش کر دینا بھی کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔ مصنف نے بڑی محنت سے تحقیق کی، اسے معلوم ہے کہ فلاں زمانے میں لوگ کیا کھاتے تھے، کیا پہنتے تھے، کون سی سگریٹ پیتے تھے، کون سا گانا سنتے تھے یا ان کے گھروں میں کس نوعیت کا فرنیچر ہوتا تھا۔ یہ سب چیزیں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ناول صرف تاریخی معلومات کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ ناول کا اصل کمال احساس پیدا کرنا ہے۔

قاری کو کتاب ختم کرنے کے بعد صرف یہ معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ اس زمانے میں کیا چیز کہاں استعمال ہوتی تھی؛ اسے یہ محسوس بھی ہونا چاہیے کہ وہ کچھ دیر کے لیے اسی عہد میں زندہ رہا ہے۔ اسے کرداروں کے ساتھ چلنے، ان کے خوف کو محسوس کرنے، ان کی خواہشات کو سمجھنے اور ان کی زندگی کے تضادات میں شریک ہونے کا تجربہ ہونا چاہیے۔

یہاں ایک جملہ پوری بحث کا نچوڑ بن سکتا ہے: تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ ماضی میں کیا تھا، فکشن ہمیں محسوس کرا سکتا ہے کہ ماضی میں ہونا کیسا تھا۔

تاریخی ناول کے حوالے سے دوسرا اہم مسئلہ اس کا نظریاتی استعمال ہے۔ آج کل فرقہ واریت، مذہبیت، قوم پرستی اور لسانیت کو بھی تاریخی ناول کے ذریعے پیش کیا جا رہا ہے۔ تاریخ کے کسی دور کو لے کر ایک گروہ کو مکمل ہیرو اور دوسرے کو مکمل ولن بنا دینا آسان ہے۔ اس طرح کی تحریر جذبات کو فوری طور پر متحرک کرتی ہے اور اسی وجہ سے مقبول بھی ہو سکتی ہے، لیکن مقبولیت اور ادبی معیار ایک چیز نہیں۔

اگر ناول نگار ماضی میں جانے سے پہلے ہی فیصلہ کر لے کہ کون اچھا ہے اور کون برا، کون مظلوم ہے اور کون ظالم، تو تاریخ دریافت ہونے کے بجائے ایک موجودہ نظریے کی تصدیق کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ایسے میں کردار بھی انسان کم اور نظریاتی نمائندے زیادہ محسوس ہونے لگتے ہیں۔

یہاں تاریخی ناول کا ایک بنیادی مسئلہ سامنے آتا ہے کیا مصنف ماضی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے یا ماضی کو اپنے موجودہ نظریے کے حق میں استعمال کر رہا ہے؟

یہ فرق معمولی نہیں۔ تاریخ میں بڑے کردار بھی ایک ہی رنگ کے نہیں ہوتے۔ ان کے سیاسی، مذہبی، معاشی اور ذاتی محرکات ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ انہیں صرف ہیرو یا ولن میں تبدیل کر دینا تاریخ کو آسان تو بنا دیتا ہے، مگر لازماً زیادہ سچا یا زیادہ ادبی نہیں بناتا۔

اس نشست میں ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ بعض تاریخی ناول دراصل موجودہ ذہنیت کو ماضی کے لباس میں پیش کرتے ہیں۔ زمانہ کئی صدیوں پرانا ہوتا ہے، مگر کردار آج کے انسان کی طرح سوچتے اور گفتگو کرتے ہیں۔ مصنف پرانے کپڑے، پرانے نام اور تاریخی مقامات تو لے آتا ہے، لیکن اس عہد کی ذہنی دنیا تخلیق نہیں کر پاتا۔

یہ مسئلہ صرف لباس یا زبان کا نہیں۔ تاریخی ناول نگار کو یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے کا انسان دنیا کو کس نظر سے دیکھتا تھا۔ اس کے لیے عزت کا مطلب کیا تھا؟ خوف کیا تھا؟ خاندان کی حیثیت کیا تھی؟ مذہب اس کی روزمرہ زندگی میں کس طرح موجود تھا؟ طاقتور اور کمزور کے درمیان تعلق کیا تھا؟ عورت اور مرد کے تعلقات کس سماجی ڈھانچے کے تحت تشکیل پاتے تھے؟

اگر ان سوالات کے جواب کرداروں کی زندگی میں نہیں ملتے تو پھر تاریخی ماحول صرف سجاوٹ رہ جاتا ہے۔

اسی لیے کبھی کبھی ایسے ناول سامنے آتے ہیں جن کے بارے میں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے زمانہ بدل دیا ہے، انسان نہیں۔ کرداروں کے کپڑے پرانے ہیں، عمارتیں پرانی ہیں، شہر پرانے ہیں، لیکن ان کی سوچ آج کی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخی ناول کی فنی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔

گفتگو کا ایک اہم حصہ موجودہ سوشل میڈیا ماحول سے بھی متعلق تھا۔ ماضی میں ایک مخصوص قسم کا عوامی ادب ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں اور لاری اڈوں پر بکتا تھا۔ لوگ سفر کے دوران اسے پڑھتے اور منزل آنے پر وہیں چھوڑ دیتے۔ آج ذریعہ بدل گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس طرح کے فوری اور جذباتی ادب کی تشہیر کو کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔

اب مصنف خود اپنی کتاب کا ناشر بھی ہے، تشہیر کار بھی اور بعض اوقات اپنا نقاد بھی۔ چند جذباتی اقتباسات، ایک دو نظریاتی جملے اور مسلسل سوشل میڈیا تشہیر کسی کتاب کو بہت جلد مقبول بنا سکتی ہے۔ اس ماحول میں نقاد کا کردار کمزور پڑتا ہے اور مقبولیت کو ادبی معیار سمجھنے کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔

فرقہ وارانہ یا نفرت انگیز مواد اس ماحول میں خاص طور پر آسانی سے پھیلتا ہے، کیونکہ وہ قاری کے جذبات کو براہ راست مخاطب کرتا ہے۔ لیکن ادب کا کام صرف جذبات کو بھڑکانا نہیں؛ ادب کا کام انسانی تجربے کو پیچیدگی کے ساتھ سمجھنا بھی ہے۔ جو ناول کسی تاریخی واقعے کو موجودہ نفرت کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ شاید فوری مقبولیت حاصل کر لے، مگر اسے ادبی قدر کے لیے الگ پیمانوں پر پرکھنا ہوگا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ تاریخی ناول میں مذہب، قوم، جنگ، فتح یا شکست کے موضوعات نہیں ہونے چاہییں۔ یقیناً ہونے چاہییں۔ مسئلہ موضوع کا نہیں، برتاؤ کا ہے۔ ایک بڑا ناول انہی موضوعات کو انسانی پیچیدگی کے ساتھ پیش کر سکتا ہے، جب کہ کمزور ناول انہیں محض نعرے میں تبدیل کر دیتا ہے۔

تاریخی ناول نگار کے لیے سب سے مشکل کام شاید یہی ہے کہ وہ تاریخ کو جانتا بھی ہو اور تاریخ کے بوجھ تلے اپنے فکشن کو دبنے بھی نہ دے۔ اسے تحقیق بھی چاہیے، مگر تحقیق کو کہانی میں تحلیل کرنے کا ہنر بھی۔ اسے تاریخی صداقت چاہیے، مگر ساتھ ہی انسانی صداقت بھی۔

کیونکہ صرف یہ جان لینا کہ کسی زمانے میں کیا ہوا تھا، کافی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس واقعے نے انسانوں کی زندگی کو کیسے بدلا؟ لوگوں نے اسے کیسے محسوس کیا؟ ایک عام آدمی، ایک عورت، ایک سپاہی، ایک مزدور، ایک تاجر یا ایک بچے کے لیے اس تاریخ کا مطلب کیا تھا؟

تاریخ اکثر بادشاہوں کے نام محفوظ کر لیتی ہے، ادب کو ان لوگوں کی آواز بھی تلاش کرنا ہوتی ہے جن کے نام تاریخ میں محفوظ نہیں رہتے۔

شاید اسی لیے تاریخی ناول کو محض ماضی کا ناول کہنا کافی نہیں۔ یہ دراصل ماضی کی انسانی دنیا کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش ہے۔ جہاں صرف واقعات ہوں وہاں تاریخ ہے، جہاں صرف نظریہ ہو وہاں پروپیگنڈا کا خطرہ ہے، جہاں صرف معلومات ہوں وہاں تاریخی لغت بن سکتی ہے؛ لیکن جہاں واقعات، سماج، کردار، احساس اور فکشن ایک دوسرے میں جذب ہو جائیں، وہاں تاریخی ناول جنم لیتا ہے۔

آج کی نشست سے میرے لیے سب سے اہم بات یہی نکلی کہ تاریخی ناول کا معیار اس بات سے نہیں طے ہونا چاہیے کہ اس میں کتنے تاریخی نام ہیں، کتنے صفحات تحقیق پر صرف ہوئے یا اس میں کتنے بڑے واقعات شامل ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ناول قاری کو اس عہد میں لے جاتا ہے جس کے بارے میں وہ لکھا گیا ہے؟

اگر کتاب ختم کرنے کے بعد ہمارے پاس صرف معلومات کا ڈھیر ہو اور یہ احساس نہ ہو کہ ہم نے کچھ دیر اس دنیا میں زندگی گزاری ہے، تو شاید تاریخ موجود ہے، مگر ناول ابھی پیدا نہیں ہوا۔

Contributor

محمد شہزاد اسلام آباد میں مقیم آزاد صحافی، محقق اور شاعر ہیں۔ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ طبلہ اور کلاسیکی موسیقی سیکھتے ہیں۔ کھانا پکانے کا جنون رکھتے ہیں۔ ان سے اس ای میل Yamankalyan@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔