Get Alerts

ڈی چوک احتجاج کیس: بشریٰ بی بی کی 13 مقدمات میں ضمانت منظور،جج سے سخت مکالمہ

دوران سماعت وکلا نے بشریٰ بی بی کے سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوایا جس پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر جگہ کہتے ہیں وی آئی پی پروٹوکول ملے، ایسا نہیں ہو سکتا جب عدالتی حکم نامہ نکلےگا اس پر ملزمہ کے دستخط اور انگوٹھا لگے گا

ڈی چوک احتجاج کیس: بشریٰ بی بی کی 13 مقدمات میں ضمانت منظور،جج سے سخت مکالمہ

نیا دور نیوز ڈیسک:۔

عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت منظوری کے کیس میں دورانِ سماعت جج کے ساتھ مکالمہ ہوا، جس میں انہوں نے سخت باتیں بھی کہیں۔
ڈی چوک احتجاج کے کیس میں  عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور جج کے مابین بات چیت کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ تھوڑا وقت لگ گیا ہے لیکن قانونی ضابطے پورے کیے گئے ہیں۔بشریٰ بی بی نے کہا کہ نہیں کوئی بات نہیں،  ہمارا عدالتوں پر سے اعتماد اُٹھ گیا ہے۔

جج طاہر عباس سپرا نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ہر جگہ سے ٹرسٹ نہیں اُٹھا۔ جسٹس سسٹم جیسا بھی چل رہا ہے، اگر ختم ہو گیا تو سوسائٹی ختم ہو جائے گی۔ آپ میرے پاس کچہری میں بھی پیش ہوتی رہی ہیں۔

بشریٰ بی بی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ہمارے ساتھ جو ہوا ہے،ا س کے بعد قانون سے یقین ختم ہو گیا ہے۔ ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ہوتا اور  کانپتے ہوئے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جج صاحب کا بلڈ پریشر 200 پر گیا لیکن انہوں نے ہمیں سزا سنانی تھی اور وہ سنائی۔

دوران سماعت  وکلا کی جانب سے بشریٰ بی بی کے سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوانے پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر جگہ کہتے ہیں وی آئی پی پروٹوکول ملے، ایسا نہیں ہو سکتا،  میں نےآپ کو انتظار نہیں کرایا، میں فیصلہ لکھوا رہا تھا وہ چھوڑ کر آپ کی ضمانتوں پر سماعت کررہا ہوں، جب عدالتی حکم نامہ نکلےگا اس پر ملزمہ کے دستخط اور انگوٹھا لگے گا۔

عدالت میں بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 13 مقدمات درج ہیں، تھانہ سیکرٹریٹ میں 3، تھانہ مارگلہ میں 2 اور تھانہ کراچی کمپنی میں 2 مقدمات درج ہیں۔ 

اس کے علاوہ بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ رمنا میں 2، تھانہ ترنول،کوہسار،آبپارہ اور کھنہ میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔ بعد ازاں عدالت نے 5،5 ہزار روپے مچلکوں پر بشریٰ بی بی کی7 فروری تک عبوری ضمانتیں منظور کرلیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس کو ریکارڈ سمیت پیش ہونےکا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔عمران خان کی اہلیہ نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ملک میں قانون ہے لیکن انصاف نہیں۔ بانی پی ٹی آئی جیل میں آئین کی بالادستی کے لیے قید ہیں۔جج نے کہا کہ ہم سب نے مل کر کر ملک کے لیے ساتھ چلنا ہے۔بعد ازاں جج نے بشریٰ بی بی کو ہدایت کی کہ آپ تمام مقدمات میں شامل تفتیش ہو جائیں۔