نوجوان سہیل افریدی نے جس طرح سیاسی طور پر تحریکِ انصاف کو متحرک کر دیا، وہ علی امین گنڈاپور جیسا جہاں دیدہ سیاست کار بھی نہ کر سکا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف انہوں نے اپنی وزارتِ اعلیٰ کھو دی بلکہ پارٹی کے اندر اپنی ساکھ بھی داؤ پر لگا دی۔ مجھے ان کی نیت پر کبھی شبہ نہیں رہا، مگر ان کا طرزِ سیاست انہیں رسوا کر گیا۔ جس طرح وہ کارکنوں کو تنہا چھوڑ کر چلے جاتے تھے، اس سے شکوک و شبہات جنم لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
اس کے برعکس نوجوان سہیل افریدی—جسے کل تک اس کے حلقۂ انتخاب کے لوگوں کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا—آج پورے ملک میں ایک ہر دل عزیز سیاست کار بن چکا ہے۔ پہلے لاہور اور اب کراچی میں ملنے والی عوامی پذیرائی کی بنیادی وجہ، ایک تو عمران خان کی سیاسی سوچ پر من و عن عمل ہے، اور دوسرا کارکنوں کے ساتھ مضبوط جڑت۔ سہیل افریدی ایک کارکن وزیرِ اعلیٰ ہے؛ اسے دیکھ کر تحریکِ انصاف کا ہر کارکن خود کو وزیرِ اعلیٰ سمجھتا ہے، اور سہیل کا ہاتھ کارکن کی نبض پر ہے۔
پنجاب کی فارم 47 کی وزیرِ اعلیٰ نے سہیل افریدی کے دورۂ لاہور کے موقع پر جس تنگ نظری کا مظاہرہ کیا، اس کے برعکس سہیل افریدی کی کراچی آمد پر پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہوائی اڈے پر ایک اچھا تاثر دیا۔ مگر جیسے ہی سہیل افریدی کو دیکھ کر عوام سڑکوں پر نکل آئی، سندھ حکومت بھی پنجاب حکومت بن گئی۔ اس نے ایک بات ثابت کر دی کہ ہیئت مقتدرہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک نوجوان سیاست کار سے کس قدر خوف زدہ ہیں، اور یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ابھی تو سہیل افریدی ہے—جب عمران خان خود عوام میں نکلے گا تو پھر کیا حال ہوگا۔
ایک اور نوجوان سیاست کار، عمار علی جان، نے بھی اپنی جماعت کے ساتھ مل کر تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔ عمار علی جان صاحبِ علم نوجوان سیاست کار ہیں، جو فاروق طارق جیسے نظریاتی بائیں بازو کی سوچ رکھنے والے شخص کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ جس جرأت کے ساتھ وہ فارم 47 کی پنجاب حکومت کو للکار رہے ہیں، وہ ان کے درخشاں سیاسی مستقبل کی نوید ہے—کیونکہ آج وہی سیاست کار کامیاب ہے جو عوامی اور مزاحمتی سیاست کرتا ہے۔