نجی ٹی وی نے پی ایم ایل (ن) کے اجلاس کی اندرونی کہانی ذمہ دار ذرائع کے حوالے سے بتائی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے پارٹی رہنماؤں سے آزادی مارچ میں شرکت کا روڈ میپ بھی طلب کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک اکثر رہنماؤں نے آزادی مارچ میں شریک ہونے پر آمادگی ظاہر کی لیکن دھرنے میں شرکت پر تحفظات کا بھی اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق پی ایم ایل (ن) نے اپنے تحفظات سے گزشتہ روز ہی امیر جمعیت العلمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کو آگاہ کردیا تھا۔ شرکائے اجلاس نے تجویز پیش کی کہ پارٹی صرف آزادی مارچ میں شریک ہو اور دھرنے میں شرکت سے اجتناب برتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شرکا نے اس امر سے اتفاق کیا کہ عوام موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں اور عوامی جذبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے احتجاج کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب آج اجلاس کے دوران رہنماوں کو موبائل فون نہ لانے کی ہدایت بھی کی گئی۔
https://twitter.com/Niazkha98335987/status/1183741633352912903?s=20
ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک سینئر رہنماؤں نے تجویز پیش کی کہ جنوبی پنجاب کے قافلے سندھ اور بلوچستان سے آنے والے آزادی مارچ کے شرکا کے ساتھ شامل ہوں جب کہ شیخوپورہ ،سیالکوٹ، نارووال، قصور، ننکانہ صاحب اور گوجرانوالہ کے کارکنان لاہور میں اکٹھے ہو جبکہ سینئر رہنماؤں کا مشورہ تھا کہ لاہور سے آزادی مارچ کا بڑا قافلہ اسلام آباد کے لیے دیگر جماعتوں کے قافلوں کے ساتھ مل کر روانہ ہو۔