Get Alerts

غزہ، لہو کی سرزمین – اور ہم خواب غفلت میں!‎

صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کی آزادی کے لئے اپنی تمام آرام گاہیں ترک کر دی تھیں۔ لیکن آج؟ آج ہمارے حکمران صرف مذمتی بیانات پر اکتفا کرتے ہیں۔ ہم عام لوگ صرف سوشل میڈیا پر احتجاج کر کے سمجھتے ہیں کہ فرض ادا ہو گیا۔

غزہ، لہو کی سرزمین – اور ہم خواب غفلت میں!‎

غزہ آج ایک کربناک داستان ہے، ایک ایسا مسلسل بہتا ہوا زخم جو صرف فلسطین تک محدود نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کو چیر رہا ہے۔ وہاں دن رات گرنے والے بم صرف اینٹ اور پتھر نہیں توڑتے، وہ نسلیں تباہ کرتے ہیں، خواب جلاتے ہیں، اور زمین پر زندگی کو سسکیوں میں بدل دیتے ہیں۔

لیکن اس سب کے بیچ سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ باقی دنیا، خاص کر مسلم دنیا، خاموش ہے۔ خاموشی جو اب گناہ بن چکی ہے۔ ہمارے دل بوجھل ضرور ہیں، لیکن ہمارے قدم ساکت، ہماری زبانیں محدود، اور ہماری غیرت جیسے کسی کوما میں چلی گئی ہو۔ ہم تصویریں دیکھ کر آنکھیں نم کرتے ہیں، مگر آنکھوں کا پانی اگر عمل میں نہ بدلے تو وہ بس ایک جذباتی لمحہ ہوتا ہے، تبدیلی نہیں۔

غزہ کے بچے اب کھیل نہیں کھیلتے، وہ ملبوں کے درمیان شہادت کے خواب لیے زندگی سے آگے گزر جاتے ہیں۔ مائیں اب لوریاں نہیں گاتیں، وہ قبروں پر سورۃ یٰس پڑھتی ہیں۔ نوجوان اب مستقبل کے خواب نہیں دیکھتے، وہ شہادت کی تیاری کرتے ہیں۔ اور ہم؟ ہم صرف "انا للہ و انا الیہ راجعون" لکھ کر اگلی پوسٹ پر چلے جاتے ہیں۔

امت مسلمہ کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ ماضی میں ایک خط پر مسلمان لشکر تیار ہو جاتے تھے۔ صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کی آزادی کے لئے اپنی تمام آرام گاہیں ترک کر دی تھیں۔ لیکن آج؟ آج ہمارے حکمران صرف مذمتی بیانات پر اکتفا کرتے ہیں۔ ہم عام لوگ صرف سوشل میڈیا پر احتجاج کر کے سمجھتے ہیں کہ فرض ادا ہو گیا۔

ہم بھول چکے ہیں کہ ہم پر فرض ہے ظالم کے خلاف آواز بلند کرنا۔ صرف مظلوم کے لئے رونا کافی نہیں، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔ یہ جنگ صرف اسرائیل اور فلسطین کی نہیں، یہ جنگ انسانیت اور درندگی کے درمیان ہے۔

اور اگر ہم نے اب بھی کچھ نہ کیا، تو کل کو ہمارے ہاتھ خالی ہوں گے، اور زبان پر کوئی جواب نہ ہوگا۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ غزہ کا ہر چیختا ہوا لمحہ، ہر بہتا ہوا قطرۂ خون، ہر شہید ہوتی زندگی دراصل ہم سے سوال کر رہی ہے: تم کہاں تھے؟ کیا تم واقعی زندہ تھے؟ تم نے کیا کیا؟

یہ وقت آنکھیں بند کرنے کا نہیں، یہ وقت جاگنے کا ہے۔ یہ وقت دعا کے ساتھ ساتھ عمل کا ہے۔ اب بھی اگر ہم نے اپنے ایمان، اپنے ضمیر، اور اپنی غیرت کو نہ جگایا، تو شاید وہ دن دور نہیں جب ہم بھی اسی ظلم کا شکار ہوں گے۔ اور تب بھی کوئی آواز نہیں آئے گی۔

مصنف کالم نگار، فیچر رائٹر، بلاگر، کتاب 'صحافتی بھیڑیے' کے لکھاری اور ویمن یونیورسٹی صوابی میں میڈیا سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں۔