Get Alerts

سوڈان لہو لہو: عالمی عدالت میں متحدہ عرب امارات کے خلاف مقدمہ اور امن کی سفارتکاری

"یہ مقدمہ ایک سیاسی ڈرامہ ہے جو SAF کی اپنی بربریت سے توجہ ہٹانے کے لئے رچایا جا رہا ہے۔ ہم دوبارہ دہراتے ہیں، یہ جنگ SAF اور RSF کے درمیان ہے۔ ہم کسی فریق کے حامی نہیں"

سوڈان لہو لہو: عالمی عدالت میں متحدہ عرب امارات کے خلاف مقدمہ اور امن کی سفارتکاری

ابھی ان اطلاعات پر متحدہ عرب امارات (UAE) کا کوئی باضابطہ سفارتی مؤقف سامنے نہیں آیا تھا کہ اس نے مبینہ طور پر جنوبی افریقہ کو سرمایہ کاری کی پیشکش کے ذریعے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مقدمے سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی کہ UAE کو ایک اور سفارتی تنازعے میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ان تنازعات کے باعث دنیا میں امن کی سفارتکاری کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں کیونکہ دبئی اس سفارتکاری کے لئے ایک پسندیدہ مقام ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق: "بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے جمعرات کو سوڈان کے اس مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا ہے جس میں متحدہ عرب امارات پر مغربی دارفور میں مسالیت برادری کے خلاف نسل کشی کے اقدامات میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، جو کہ UAE کی طرف سے نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کی حمایت کے ذریعے کیے گئے۔"

ICJ کے بیان میں سماعت سے قبل کہا گیا: "یاد دلایا جاتا ہے کہ سوڈان نے متحدہ عرب امارات کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس میں اس پر نسل کشی کی روک تھام اور سزا دینے کے کنونشن (Genocide Convention) کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے، خاص طور پر مسالیت گروہ کے حوالے سے۔"

اقوام متحدہ کی رپورٹ مزید کہتی ہے: "سوڈان کی فوجی حکومت الزام عائد کر رہی ہے کہ UAE نے RSF اور اس سے منسلک ملیشیاؤں کی براہ راست حمایت کی، جو کہ اپریل 2023 سے قومی فوج کے ساتھ ایک خونی خانہ جنگی میں الجھی ہوئی ہیں۔ یہ تنازع دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دے چکا ہے، جس میں دسیوں ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور 1 کروڑ 24 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے 33 لاکھ سے زیادہ ہمسایہ ممالک میں پناہ گزین ہیں۔ قحط، بیماریوں کی وبائیں اور بنیادی سہولیات کا خاتمہ لاکھوں انسانوں، خاص طور پر بچوں کو شدید خطرے میں ڈال چکا ہے۔"

میں نے اسلام آباد میں تقریباً دو دہائیوں سے سوڈانی طلبہ اور اساتذہ کو دیکھا ہے۔ وہ نہایت مہربان، پرامن اور خوش اخلاق لوگ ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان کی زبان عربی ہے، لیکن وہ انگریزی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ان سے جڑی کچھ ذاتی یادیں بھی ہیں۔

کچھ برسوں سے پاکستان میں ان کی آمد میں واضح کمی آئی ہے۔ جو یہاں سے واپس سوڈان چلے گئے، وہ بھی آہستہ آہستہ سوشل میڈیا سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم وہ اب کہاں ہیں، لیکن وہاں کی فوج کی جانب سے شروع کیے گئے خونریزی کے سلسلے نے خیر کی سب امیدوں کو دھندلا دیا ہے۔

فوج نے 2021 میں ملک کا کنٹرول سنبھالا، لیکن اس سے پہلے بھی وہاں کوئی باقاعدہ سول حکومت نہیں تھی۔ بعد میں فوجی گروہ آپس میں طاقت کے لئے برسرپیکار ہو گئے۔ RSF کوئی باقاعدہ فوجی ادارہ نہیں ہے، لیکن وہ ملک کے بڑے حصے پر قابض ہے۔ دونوں اطراف کے ہاتھ انسانی خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق یہ کیس، جس کا عنوان ہے "سوڈان میں نسل کشی کی روک تھام اور سزا دینے کے کنونشن کا نفاذ (سوڈان بمقابلہ متحدہ عرب امارات)"، گذشتہ ماہ دائر کیا گیا تھا۔

سوڈانی فوجی حکومت کا الزام ہے کہ UAE نے غیر عربی بولنے والی آبادی کو ختم کرنے کی مبینہ کارروائیوں میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔

ریِم کِتیت، UAE کی وزارت خارجہ میں نائب معاون برائے سیاسی امور، اس مقدمے میں UAE کی نمائندہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا: "ہمیں آج یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس مقدمے میں عدالت کے دائرہ اختیار کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ نسل کشی کنونشن کی شق IX پر UAE کی تحفظات ریاستی خودمختاری کے جائز استعمال کے تحت ہیں۔ ہم آج صرف عدالت اور بین الاقوامی قانون کے احترام میں شریک ہوئے ہیں، حالانکہ ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔"

انہوں نے عالمی طاقتوں کی سفارتی کوششوں کا ذکر کیا جنہیں سوڈانی فوجی حکومت نے مسترد کر دیا۔ "UAE نے ہمیشہ واضح مؤقف اپنایا ہے کہ سوڈان کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ہم نے جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی کے لئے وقفے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم نے سول حکومت کی طرف منتقلی کے لئے سیاسی عمل کی حمایت کی ہے، اور جدہ، منامہ، اور سوئٹزرلینڈ میں امریکی ثالثی سمیت تمام سفارتی کوششوں میں حصہ لیا ہے۔"

UAE کی ٹیم نے مزید کہا: "اس کے برعکس، SAF نے صرف فوجی فتح کی راہ اپنائی ہے۔ انہوں نے جدہ مذاکرات سے انکار کیا، منامہ مذاکرات سے نکل گئے، اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی امریکی ثالثی میں شریک نہ ہوئے۔ ہیگ میں کھڑے SAF نے دو سال سے سفارتی میز خالی چھوڑی ہوئی ہے۔"

سماعت کے بعد، کِتیت نے کہا: "یہ مقدمہ ایک سیاسی ڈرامہ ہے جو SAF کی اپنی بربریت سے توجہ ہٹانے کے لئے رچایا جا رہا ہے۔ ہم دوبارہ دہراتے ہیں، یہ جنگ SAF اور RSF کے درمیان ہے۔ ہم کسی فریق کے حامی نہیں، ہم امن، انسانی امداد اور سول حکومت کی واپسی کے حامی ہیں۔"

جب کسی ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہو، جیسا کہ سوڈان میں ہے، تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور جانوں کا ضیاع یقینی ہو جاتا ہے۔ اب جب کہ ICJ نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لیا ہے، عالمی برادری کو چاہیے کہ اس موقع کو غنیمت جان کر وہاں قانون کی بالادستی، جمہوری حکومت اور جنگ کے خاتمے کو یقینی بنائے۔

UAE واحد ملک نہیں جو اس تنازع کے پرامن حل کی کوشش کر رہا ہے۔ UAE کو تنہا نشانہ بنانا ناصرف سوڈان بلکہ دنیا بھر میں امن سفارتکاری کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مصنف دی نیوز اسلام آباد میں کیپیٹل کالنگ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں۔