Get Alerts

کراچی کے شہریوں کا سوال: 'ہمیں اس طرح کب تک جینا ہے؟'

دنیا کے کئی بڑے شہروں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ انہوں نے بی آر ٹی، میٹرو، سیوریج، پانی کی بڑی لائنوں اور انڈر پاس جیسے منصوبے شہری زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کیے بغیر مکمل کیے۔ ان کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ منصوبہ بندی، مرحلہ وار تعمیر، متبادل راستے، اور عوام سے مسلسل رابطہ تھا، مگر افسوس شہر کراچی میں ہمیں ان تمام چیزوں کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔

کراچی کے شہریوں کا سوال: 'ہمیں اس طرح کب تک جینا ہے؟'

دنیا کے بڑے شہروں میں تعمیراتی منصوبوں، خصوصاً سڑکوں، پلوں اور فلائی اوورز کی تعمیر کے دوران بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ شہر کی روزمرہ زندگی کم سے کم متاثر ہو۔ جدید شہری منصوبہ بندی میں اس تصور کو کنسٹرکشن ٹریفک مینجمنٹ یا ورک زون مینجمنٹ کا نام دیا جاتا ہے، کیونکہ وہاں مقصد صرف منصوبے کو مکمل کرنا نہیں ہوتا بلکہ تعمیر کے دوران شہریوں کی نقل و حرکت، ان کے کاروبار، ہنگامی خدمات اور ساتھ ساتھ عوام کے معیارِ زندگی کو برقرار رکھنا بھی ہوتا ہے۔

دوسری جانب، جب ہم کراچی کو دیکھتے ہیں، جس کا شمار دنیا کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے، تو صورتحال اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے اور کراچی میں اکثر تعمیراتی منصوبوں کے دوران شہریوں کو شدید ٹریفک، سفر کے وقت کا کئی گنا بڑھ جانا، ایندھن کے ضیاع، فضائی آلودگی اور معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ دوسرے شہروں کی انتظامیہ کے پاس ایسا کیا جادو ہے کہ وہ تعمیراتی منصوبے بھی مکمل کرتے ہیں اور شہریوں کی زندگی کو اجیرن بھی نہیں کرتے؟

چلیں، آج ہم کچھ عالمی تجربات کی بات کرتے ہیں۔ ہم بھی دیکھیں وہ جادو کی چھڑی کیا ہے؟

تو پتا چلا کہ وہ کسی بھی طرح کی تعمیر شروع ہونے سے پہلے جامع ٹریفک مینجمنٹ پلان تیار کرتے ہیں، جبکہ شہر کراچی میں سیف سٹی پراجیکٹ کے نام پر کیمروں اور چالان کا دھندا جاری ہے اور ٹریفک مینجمنٹ نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ متبادل راستوں کی بروقت اور درست معلومات کی فراہمی تو گویا سرکاری اداروں کی شان کے خلاف ہے، جبکہ مہذب قوموں میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان پہلے سے مؤثر رابطہ قائم ہوتا ہے تاکہ شہریوں کو بروقت اور درست معلومات فراہم کی جائیں، کیونکہ اگر غلط معلومات فراہم کی جائیں تو عدالت کی جانب سے جرمانہ تو ہوگا ہی، سرکاری افسران کو اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔

اسی لیے وہ نہ صرف متبادل راستوں کو پہلے سے بہتر بناتے ہیں بلکہ جب منصوبہ شروع ہو جائے تو، جہاں ممکن ہوتا ہے، رات کے وقت کام کیا جاتا ہے۔ خیر، شہر کراچی میں تو متبادل راستہ تو کیا ہو، اگر اس سڑک پر، جو کبھی ہوا کرتی تھی، موجود گڑھوں کو ہی بھر دیا جائے تو بہت سوں کا بھلا ہو جائے۔

خیر، ہم تو مہذب قوموں کی بات کر رہے تھے، ان سرکاری اداروں اور سرکاری افسران کی بات کر رہے تھے جو بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی تنخواہ شہریوں کے ٹیکس سے ملتی ہے، جو منصوبے پر لگنے والے پیسوں کو برملا عوام کا پیسہ کہتے ہیں، اور دیانت اور امانت کے ساتھ اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔

میں نے نیویارک شہر کی بلدیہ کے کسی افسر کو یہ کہتے نہیں سنا کہ "میں سرکاری افسر ہوں" یا "ڈائریکٹر ہوں"، جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کا سترہ گریڈ والا ملازم بھی کہتا ہے کہ "میں سرکاری افسر ہوں، میں جو کہہ رہا ہوں اسے سچ سمجھا جائے، کیونکہ میں گورنمنٹ ہوں۔"

یہ شعور اور سوچ کا فرق ہے، جو پاکستان کے افسر شاہی کے نظام میں ناپید ہے، کیونکہ یہاں سرکاری ملازم نہیں بلکہ خود کو سرکاری افسر کہلوانا پسند کیا جاتا ہے کہ "جو میری مرضی، میں کروں، میرا ادارہ ہے، میرا صوبہ ہے۔"

جبکہ دنیا کے بڑے شہروں میں، جہاں سرکاری اداروں سے منسلک افراد خود کو عوام کا خادم سمجھتے ہیں، وہاں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن دی جاتی ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقیاتی و تعمیراتی منصوبوں کے دوران عوامی نقل و حمل کی سہولیات میں اضافہ کیا جاتا ہے، جبکہ کراچی میں سرکاری اداروں کے ملازم اور نام نہاد منتخب نمائندے شہریوں کو ہراساں کرتے ہیں کہ "زیادہ مسئلہ ہے تو یہ کام بند کروا دیتے ہیں، پھر خوار ہوتے رہنا۔"

دنیا کے کئی بڑے شہروں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ انہوں نے بی آر ٹی، میٹرو، سیوریج، پانی کی بڑی لائنوں اور انڈر پاس جیسے منصوبے شہری زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کیے بغیر مکمل کیے۔ ان کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ منصوبہ بندی، مرحلہ وار تعمیر، متبادل راستے، اور عوام سے مسلسل رابطہ تھا، مگر افسوس شہر کراچی میں ہمیں ان تمام چیزوں کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔

لندن، برطانیہ کے کراس ریل (الزبتھ لائن)، سیوریج ٹنل اور زیرِ زمین یوٹیلٹی لائنوں کی منتقلی کی بات کی جائے تو انہوں نے سڑکیں مکمل بند کرنے کے بجائے مرحلہ وار کام کیا۔ ساتھ ہی رات اور ہفتہ وار تعطیلات میں زیادہ تعمیراتی سرگرمیاں کیں، متبادل راستوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دی، اور سب سے بڑھ کر شہریوں کو ویب سائٹس، موبائل ایپس اور الیکٹرانک سائن بورڈز کے ذریعے مسلسل معلومات فراہم کی گئیں۔

اسی طرح سنگاپور کی نئی ایم آر ٹی لائنیں، پانی کی بڑی لائنیں اور سیوریج ٹنل سسٹم کے منصوبوں کے دوران شہریوں کی سہولیات اولین ترجیح رہیں۔

اسی طرح بوگوٹا، کولمبیا میں ٹرانس میلینیو بی آر ٹی کے منصوبے میں ایک ساتھ پوری شاہراہ بند کرنے کے بجائے مختلف سیکشنز میں کام کیا گیا۔ ساتھ ہی عارضی بس روٹس اور متبادل لینز بنائی گئیں۔

بات یہیں تک محدود نہیں، بلکہ استنبول، ترکی کے منصوبے، یوریشیا ٹنل، میٹرو لائنیں، سیوریج اور پانی کی لائنیں ہوں، یا ٹوکیو، جاپان کے پانی کی بڑی مین لائنیں، سیوریج نیٹ ورک اور انڈر گراؤنڈ انفراسٹرکچر کی بات کی جائے، تو بھی شہریوں کی زندگی کو جہنم بنائے بغیر یہ منصوبے مکمل کیے گئے۔

جبکہ کراچی میں کے-فور، ریڈ لائن بی آر ٹی، منور چورنگی انڈر پاس، کریم آباد انڈر پاس، شاہ فیصل کالونی کے عظیم پورہ روڈ پر سیوریج لائن کے منصوبوں کے دوران شہریوں کو روزانہ کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام میں گزارنے پڑتے ہیں۔

اور کچھ ایسی ہی صورتحال مستقبل کے منصوبوں، جیسے مائی کولاچی روڈ ریلوے کراسنگ فلائی اوور، ڈسکو بیکری فلائی اوور، بن قاسم لنک روڈ، اور شاہراہ بھٹو کے توسیعی کاموں میں بھی کراچی کے شہریوں کو اذیت اور ذلت کا سامنا رہے گا، کیونکہ ہمارے شہر کے ادارے جانتے ہی نہیں کہ ایک جامع کنسٹرکشن ٹریفک مینجمنٹ پلان کیا ہوتا ہے۔

اسی لیے اکثر منصوبوں میں انجینئرنگ ڈیزائن تو موجود ہوتا ہے، لیکن تعمیر کے دوران ٹریفک کیسے چلے گی، اس کا جامع اور قابلِ عمل منصوبہ یا تو موجود نہیں ہوتا یا مؤثر انداز میں نافذ نہیں کیا جاتا۔ پھر ایک ہی علاقے یا کوریڈور میں کئی منصوبے ایک ساتھ شروع کر دیے جاتے ہیں، جس سے متبادل راستے بھی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کراچی میں اداروں کے درمیان کمزور رابطہ ہے۔ اسی لیے مختلف ادارے (بلدیاتی، ترقیاتی، پانی و سیوریج، ٹریفک پولیس، ٹاؤن انتظامیہ، یوٹیلٹی ادارے وغیرہ) الگ الگ منصوبے چلاتے ہیں، لیکن ان کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اکثر نظر نہیں آتی۔

تعمیر شروع ہونے سے پہلے متبادل راستوں کی مرمت، سگنلز کی ارینجمنٹ اور ٹریفک کی گنجائش میں اضافہ نہیں کیا جاتا، نتیجتاً تمام دباؤ چند سڑکوں پر منتقل ہو جاتا ہے۔

سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ شہریوں کو پہلے سے واضح طور پر نہیں بتایا جاتا کہ کون سی سڑک کب بند ہوگی، متبادل راستہ کیا ہوگا، اور منصوبہ کب مکمل ہوگا۔

اس کے ساتھ کام کی رفتار اور نگرانی کی جانب سے آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں اور بہانے تلاش کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے اکثر منصوبوں میں تعمیراتی رفتار سست رہتی ہے یا کئی مقامات پر کام طویل عرصے تک رکا رہتا ہے، جبکہ سڑکیں بند رہتی ہیں۔

جبکہ ترقی یافتہ شہروں میں کامیاب تعمیراتی منصوبے صرف انجینئرنگ کی کامیابی نہیں سمجھے جاتے بلکہ ان کی کامیابی کا ایک اہم معیار یہ بھی ہوتا ہے کہ تعمیر کے دوران شہریوں کو کتنی کم تکلیف اور رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ جدید شہری منصوبہ بندی میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ شہریوں کی سہولت، وقت، صحت اور معاشی سرگرمیوں کا تحفظ بھی برابر اہمیت رکھتا ہے۔

اربن پلانر، ریسرچر کراچی اربن لیب آئی بی اے