Get Alerts

منال ریسٹورنٹ کی زمین ہماری ملکیت ہے، فوج کا دعویٰ

منال ریسٹورنٹ کی زمین ہماری ملکیت ہے، فوج کا دعویٰ


پاکستان کی پارلیمان کی ایک کمیٹی کو بتایا گیا ہے فوجی حکام نے اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں واقع منال ہوٹل کی زمین واپس مانگ لی ہے۔







وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے ممبر پلاننگ ڈاکٹر شاہد محمود نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کو بتایا ہے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر سب سے مرکزی ریسٹورنٹ منال کی زمین پر فوجی حکام نے ملکیت کا دعوی کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پندرہ برس قبل یہ زمین ہوٹل کو لیز پر دیتے وقت سی ڈی اے حکام کے علم میں یہ بات نہیں تھی کہ زمین فوج کی ملکیت ہے۔

ارکان پارلیمنٹ نے پوچھا کہ مارگلہ نیشنل پارک میں زمین کیسے ایک ریستوران کو الاٹ کی گئی اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟ تاہم سی ڈی اے حکام ذمہ داروں کے بارے میں بتانے سے قاصر رہے۔

حکام کے مطابق مارگلہ نیشنل پارک میں فوج کو ساڑھے پانچ ہزار ایکڑ زمین الاٹ کی گئی تھی۔

قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کی چیئر پرسن نے سی ڈی اے سے محفوظ اراضی پر منال ریسٹورنٹ کی تعمیر سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

جوائنٹ سیکریٹری برائے ماحولیاتی تبدیلی سلیمان وڑائچ نے کہا کہ حکومت نجی املاک کے ساتھ موجود سرکاری اراضی کی حد بندی پر الجھن کی وجہ سے ماحولیاتی تحفظ کے قوانین پر عملدرآمد کروانے میں ناکام ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا نقشہ آخری مرتبہ 60 کی دہائی میں بنایا گیا تھا۔