افسوس کی بات یہ ہے کہ جج صاحب تاریخی حقائق بھول جانے کی بیماری میں مبتلا ہیں جو یہ سوچتے نظر آتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح 1997 جیسے عدالتی انتشار کو دہرانے سے روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے جبکہ 2023 میں وہ اسی طرح کے انتشار پر مبنی اقدامات اٹھا رہے ہیں جیسے عدلیہ نے 1997 میں اٹھائے تھے۔