سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ہارون ریاض نامی صارف نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ پروفیسر پرویز ہود بھائی کو ایف سی کالج لاہور سے نکال دیا گیا ہے۔
ہارون ریاض نے اپنی ٹویٹ میں مزید لکھا کہ یہ نیا پاکستان ہے۔
Prof. Pervez Hoodbhoy has been dismissed by FC College Lahore. This is Naya Pakistan.
— Haroon Riaz (@HaroonRiaz) June 16, 2020
ہارون ریاض نے بعدازاں اپنی ایک اور ٹویٹ میں بتایا کہ پروفیسر پرویز ہودبھائی کو ملازمت سے نکالا نہیں گیا بلکہ ان کا کانٹریکٹ ختم ہو گیا تھا جس کی تجدید نہیں کی گئی، جس پر پروفیسر پرویز ہود بھائی نے استعفیٰ دے دیا۔
Spoke to Pervez Hoodbhoy, and there is a correction. His contract at FC College has been shortened because of "overstaffing" and will not be renewed as of the current status. Hoodbhoy will teach the next semester until he resigns because he's not happy with their decision.
— Haroon Riaz (@HaroonRiaz) June 16, 2020
پروفیسر پرویز ہود بھائی ہمیشہ سے حکومتی پالیسیوں کے ناقد رہے ہیں اور انہیں لبرل حلقوں میں کافی پسند کیا جاتا ہے اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ پروفیسر پرویز ہود بھائی پاکستانی نیوکلیئر طبیعیات دان اور مضمون نگار ہیں۔ ہود بھائی نے مساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سے الیکٹریکل انجینئری اور ریاضیات میں گریجویٹ کیا، اس کے بعد سولڈ سٹیٹ طبیعیات (ٹھوس حالت طبیعیات) کے موضوع میں ماسٹر لیول کی تعلیم حاصل کی اور پھر نیوکلئر فزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
انہوں نے مختلف یونیورسٹیوں جیسے ایم آئی ٹی، یونیورسٹی آف میری لینڈ، کارنیگ میلن یونیورسٹی وغیرہ میں عارضی پروفیسر شپ کے طور پر کام بھی کیا۔
ہودبھائی "دی بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس" کے کفیل بھی ہیں اور "پرماننٹ مانیٹرنگ پینل آن ٹیرارزم آف دی ورلڈ فیڈریشن آف سائنٹسٹس" کے ایک اہم رکن بھی۔ ہودبھائی نے مختلف وقتوں میں اپنی کارکردگی کی بنا پر مختلف ایوارڈ بھی حاصل کیے مثلاََ 1968 میں الیکٹرانکس کے لیے IEEE Baker Award اور 1984 میں ریاضیات کے میدان میں عبد السلام ایوارڈ اپنے نام کیا۔
اس کے علاوہ لوگوں میں سائنسی شعور بیدار کرنے کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے انہیں UNESCO Kalinga Prize بھی 2003 میں دیا گیا۔
امیریکن فزیکل سوسائٹی کی جانب سے 2010 میں the Joseph A. Burton Award عطا کیا گیا اور ٹفٹس یونیورسٹی سے The Jean Meyer Award بھی ملا۔ 2011 میں فارن پالیسی میگزین نے انہیں دنیا کے سو متاثر کن گلوبل تھنکرز کی فہرست میں شامل کیا۔ 2013 میں پرویز ہودبھائی UN Secretary General's Advisory کے ایک نہایت اہم رکن منتخب ہوئے۔
ڈاکٹر پرویز ہودبھائی "اسلام اور سائنس: مذہبی راسخ الاعتقادی اور معقولیت کی جنگ" کے مصنف ہیں اور اس کتاب کا ترجمہ اب آٹھ زبانوں میں دستیاب ہے۔ انہوں نے ٹیلی وژن پر پاکستان میں تعلیمی نظام کے موضوع پر ایک مکمل سیریز کا انعقاد اور میزبانی کی ہے۔ اس کے علاوہ دو دیگر سیریز بھی ٹی وی پر نشر کی گئیں جن کا تعلق سائنسی نظریات کوعام لوگوں میں روشناس کرانے سے ہے۔
ہودبھائی مشعل بکس لاہور کے سربراہ ہیں اور اس سربراہی کے دوران میں انہوں نے بے شمار اہم سائنسی و غیر سائنسی کتب کا اردو ترجمہ کیا ہے جس میں جدید سوچ، انسانی حقوق، خواتین کا معاشرے میں کردار وغیرہ کے موضوعات زیادہ نمایاں ہیں۔