16 اگست جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقسیم کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سزائے موت کی کارروائیاں 2007 کے بعد کم ترین تعداد میں تھیں تاہم ایران میں سزائے موت کا تناسب اب بھی دنیا بھر میں بلند ترین سطح کے حامل ممالک میں ہے۔
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ذمہ دار جاوید رحمن نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایران میں 80 سے زیادہ جرائم ہیں جن کی سزا موت ہے جب کہ ان میں کئی جرائم ایسے ہیں جو شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی میثاق کی رُو سے خطرناک جرائم شمار نہیں ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذمے دار کے مطابق اپریل 2018 میں ایران میں جن 7 قصور وار کم عمر بچوں کو سزائے موت دی گئی ان میں دو کی عمر 17 برس تھی۔
سال 2018 میں ایران میں 253 افراد کو موت کی سزا دی گئی جبکہ سال 2017 میں یہ تعداد 507 تھی۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سزائے موت دینے والے ممالک کی سالانہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ سال 2018 میں 20 ممالک میں 690 افراد کو سزائے موت دی گئی جو کہ سال 2017 کے مقابلے میں 31 فیصد کم ہے۔ سال 2017 میں کل 993 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے ممالک میں چین، ایران، سعودی عرب، ویت نام اور عراق شامل ہیں۔