Get Alerts

دماغی و ذہنی صحت

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی ذہنی و دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دماغی بیماریاں ڈیپریشن اور شیزو فرینیا ہیں، دماغی صحت سے متعلق تقریباً نصف مسائل 15 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ظاہر ہو جاتے ہیں، پاکستان میں بھی 5 کروڑ افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں جن میں بالغ افراد کی تعداد ڈیڑھ سے ساڑھے 3 کروڑ کے قریب ہے، ایک اندازے کے مطابق ہم میں سے ہر تیسرا شخص ڈپریشن کا شکار ہے

دماغی و ذہنی صحت

موجودہ حالات کے پیش نظر دماغی بیماری ایک اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی دماغی بیماریاں جس میں اینگزائٹی، ڈپریشن، شیزو فرینیا ، دھیان کی کمی، اوور تھنکنگ، نشہ آور اشیا کا استعمال، جذبات، غذائی بے اعتدالی،خود اذیتی، سستی اور بائی پولر ڈس آرڈر و منفی سوچ کے عارضے عام ہیں۔ تحقیق کے مطابق نوجوان افراد مختلف ماحولیاتی تناؤکا شکار ہوتے ہیں، جس میں تعلیمی دباؤ، خاندانی تنازعات، گھریلو مسائل ، کیریئر کے مسائل ، ہم عمر دباؤ ،سماجی توقعات اور ماحولیاتی آلودگی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تناؤ ذہنی صحت کو نمایاں طور پر متاثرکرسکتے ہیں اور کسی بڑی ذہنی بیماری کا باعث بن سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہناہے کہ دنیا بھر میں 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی ذہنی و دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دماغی بیماریاں ڈیپریشن اور شیزو فرینیا ہیں۔ ماہرین کے مطابق دماغی صحت سے متعلق تقریباً نصف مسائل 15 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ظاہر ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں بھی 5 کروڑ افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں جن میں بالغ افراد کی تعداد ڈیڑھ سے ساڑھے 3 کروڑ کے قریب ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہم میں سے ہر تیسرا شخص ڈپریشن کا شکار ہے۔

ذہنی عارضے کی ایک بنیادی وجہ صدمے کا سامنا کرنا ہے، جیسے کہ بدسلوکی، نظر اندازکرنا ،نفرت کا اظہار کرنا یا تشدد کا مشاہدہ وغیرہ ذہنی صحت پرگہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ تکلیف دہ تجربات جس میں اچانک صدمے کے اثرات ( پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر) ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا پر دکھائے جانے والے واقعات بھی نوجوانوں کے ذہن کو متاثرکرتے ہیں، جن میں اخلاقیات کا خیال رکھے بغیر ہی پرتشدد یا دلخراش واقعات کو ویسے ہی شیئر کردیا جاتا ہے جس سے بچوں سمیت نوجوانوں کی ذہنی صحت متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ دوسرا ہمارے سماج میں گفتگوکا معیار متاثر ہوا ہے۔ خاص طور پر سننے اور سمجھنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ایک دوسرے سے دل کی بات کہنے کے رجحانات ختم ہوچکے ہیں کوئی کتنی بھی ذہنی اذیت میں کیوں نہ ہو کسی سے شیئر کرنے کے لیئے کہیں محفوظ اسپیس کا متلاشی ہوتا ہے جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں ذہنی صحت کو ترجیع دی جا رہی ہے اور ہر چیز میں ذہنی صحت کےعوامل کو مد نطر رکھا جاتا ہے اس کے برعکس ہمارے ہاں ذہنی صحت کے بارے میں بات کرنے سے بھی کئی دقیانوسی تصورات جڑے ہوئے ہیں۔

اس کے ساتھ اس سرمایہ دارانہ نظام نے زندگی گزارنے کے طور طریقے ہی بدل دیئے ہیں جس میں ہر انسان زندگی کی ریس میں بھاگ رہا ہےبغیر کسی آرام کے ، بنیادی ضروریات کی چیزوں کو انسانی پہنچ سے دور کر دیا گیا ہے جن کے حصول کے لیئے پاکسان جیسے ترقی پزیر ممالک میں رہنے والے افراد کو جسمانی مشقت کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پر بھی دبائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ سماجی تنہائی میں اضافہ ہوا ہےسوشل میڈیا یا دوسرے ڈجیٹل ذرایع سے منسلک ہونے کے باوجود آ آج کا انسان اپنی ذات میں تنہا ہے، تنہائی کے احساسات کسی بھی ذہنی بیماری کاباعث بن سکتے ہیں سماجی تنہائی دماغی صحت کے مسائل کو بڑھا سکتی ہے اور ڈپریشن یا اضطراب میں مبتلا کرسکتی ہے-

ذہنی بیماری کو ہمارے سماج میں اچھا نہیں سمجھا جاتا، نہ ہی اس پر کھل کر بات کی جاتی ہے اس سے ذہنی بیماری میں مبتلا افراد خاص طور پہ نوجوانوں کو مدد طلب کرنے یا اپنی کیفیات کو ظاہر کرنے میں مشکل ہوتی ہے اور وہ اکیلے ہی اس ٹراما سے گزر رہے ہوتے ہیں، جس سے دماغی صحت مزید بگڑ سکتی ہے۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس طرح جسمانی بیماریوں کے حامل افراد کو علاج یا کیئر کی ضرورت ہوتی ہے اور اس چیز کو بلکل نارمل سمجھا جاتا ہے اسی طرح ذہنی صحت کو لیکر بھی اس سے جڑے سارے پرانے تصوارت کو ختم کرنے کے لیئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ذہنی صحت کی آگہی کو فروغ دینے کے لیے نوجوانوں، والدین، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی، میڈیا اورکمیونٹیزکو ذہنی صحت کے بارے میں تعلیم دینے سے کئی مسائل کا حل مل سکتا ہے۔

حکومت اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والی تنظیموں کو نوجوانوں کی ضروریات کے مطابق قابل رسائی اور سستی ذہنی صحت کی خدمات کی ترقی کو ترجیح دینی چاہیے جس میں دماغی صحت کے پروگراموں کے لیے فنڈنگ میں اضافہ، آنلائن ہیلتھ سروسزکو بڑھانا ، نصاب میں ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا شامل ہے۔نوجوانوں کو صحت مند مقابلہ کرنے کے طریقہ کارکو اپنانے کی ترغیب دینا، جیسے ورزش، ذہن سازی، تخلیقی اظہار اور سماجی معاونت کے وسیلے اچھی ذہنی صحت کو فروغ دے سکتے ہیں اور ذہنی تندرستی کو بڑھا سکتے ہیں۔ ان بنیادی وجوہات کو حل کرنے والی پالیسیوں پر عمل درآمد صحتمند ماحول پیدا کرسکتا ہے اور دماغی بیماریوں سے وابستہ خطرے کو کم کر سکتا ہے۔

نوجوانوں کے مسائل کو سمجھنے کے لیے خاندان کا تعاون بھی اہم ہے، جس میں آپس میں مل بیٹھنا، ان کے مثبت کام کی تعریف کرنا ان کی پسند کا خیال رکھنا نا شامل ہے۔ ایسے ماحول میں نوجوان خود کو محفوظ تصورکرتے ہیں۔ خاص طور پر خاندان اور دوستوں میں صحت بخش بحث مباحثے او ر تخلیقی موضوعات موثر اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ اچھی ذہنی صحت کے لیے صحت بخش طرز زندگی اہم ہے، جس میں سونے جاگنے کے اوقات، چہل قدمی، جسمانی مشقیں، فطری مناظرکی قربت اور مثبت انداز فکر لوگوں کی قربت اہمیت کی حامل ہے۔ ذہنی صحت کے حوالے سے مثبت مشاورت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
دماغی بیماری میں کردار ادا کرنے والے حیاتیاتی، ماحولیاتی اور سماجی عوامل سے نمٹنے سے معاشرہ بہتر ماحول کو فروغ دے سکتا ہے، افراد کو بااختیار بنا سکتا ہے اور ذہنی صحت کی مشکلات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کے لیے ہمدردی اور مدد کا ماحول ترتیب دے سکتا ہے۔