تحریر:(اکرم الوری)
عصبیت ایک ایسا سماجی بندھن ہے جو افراد کو متحد رکھتا ہے، ان میں باہمی تعاون اور یکجہتی پیدا کرتا ہے اور ایک اجتماعی مقصد کے تحت انہیں متحرک کرتا ہے۔ یہ تعلق خونی، سیاسی، سماجی، مذہبی یا نظریاتی ہو سکتا ہے، مگر اس کی جڑیں ہمیشہ ایک مشترکہ شناخت اور مفاد میں پیوست ہوتی ہیں۔ ابن خلدون کے مطابق، یہی عصبیت کسی بھی حکومت اور ریاست کے قیام کی بنیاد بنتی ہے۔
ابن خلدون کا ماننا تھا کہ ہر کامیاب حکومت کی جڑیں ایک مضبوط عصبیت میں ہوتی ہیں۔ وہ گروہ یا خاندان، جو ایک مضبوط عصبیت کے حامل ہوں، بالآخر اقتدار حاصل کر لیتے ہیں۔ حکومت عصبیت کی حتمی شکل ہوتی ہے، کیونکہ یہی طاقت کے اجتماع اور اقتدار کے تسلسل کو ممکن بناتی ہے۔ تاہم، ہر عصبیت حکومت میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔ صرف وہی گروہ حکمرانی حاصل کرتے ہیں جن میں حمیت، استقامت، اور قیادت کی صلاحیت ہو۔
سماج میں مختلف طبقات کے درمیان کشمکش عصبیت کے اصول کے تحت ہی پیدا ہوتی ہے۔ بعض گروہ شریف النفس اور بلند اخلاق کے حامل ہوتے ہیں، جبکہ کچھ محض اقتدار کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یہی اختلافات سیاسی کشمکش کو جنم دیتے ہیں، جہاں ہر طبقہ طاقت اور اقتدار کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ نتیجتاً، اقتدار ہمیشہ ان کے ہاتھ میں جاتا ہے جو نہ صرف عددی برتری رکھتے ہیں بلکہ عصبیت کے ذریعے متحد بھی ہوتے ہیں۔
ابن خلدون کے مطابق، مذہب عصبیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ دینی تحریکیں لوگوں کو متحد کرتی ہیں، ان میں فرقہ وارانہ اور ذاتی اختلافات کو ختم کرتی ہیں اور ایک مشترکہ نصب العین کے تحت انہیں متحرک کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں اکثر کامیاب حکمرانوں نے مذہبی یکجہتی کو اپنی سیاسی قوت میں تبدیل کیا۔ جب کسی قوم پر دینی رنگ چڑھ جاتا ہے تو وہ ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہو جاتی ہے، کیونکہ ایمان کی طاقت ان کے باہمی اختلافات کو کمزور کر دیتی ہے اور انہیں ایک ناقابل تسخیر قوت میں بدل دیتی ہے۔
ابن خلدون کے فلسفے کے مطابق، حکومت کا قیام طاقت، تدبر اور اخلاقی اصولوں کے امتزاج سے ہوتا ہے۔ محض عسکری قوت یا اقتصادی برتری کسی قوم کو دیرپا اقتدار نہیں دلا سکتی جب تک کہ اس کے افراد کے درمیان ایک مضبوط عصبیت موجود نہ ہو۔ وہ اقوام جو اپنی عصبیت کو برقرار رکھنے میں ناکام ہو جاتی ہیں، زوال پذیر ہو جاتی ہیں، اور ان کی جگہ کوئی دوسرا طاقتور گروہ لے لیتا ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن میں خودی، اتحاد، اور قربانی کا جذبہ ہوتا ہے۔ اقبال، ارسطو اور ابن خلدون تینوں اس بات پر متفق ہیں کہ فرد کا وجود تب ہی بامعنی ہوتا ہے جب وہ کسی اجتماعی نصب العین کا حصہ ہو۔ ٹیپو سلطان کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے، جس نے قومی وقار کی خاطر جان قربان کر دی اور یہ ثابت کر دیا کہ ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“ یہی اصول عصبیت کا جوہر ہے۔ایسی اجتماعی طاقت جو قوموں کو سربلند رکھتی ہے اور انہیں تاریخ میں امر کر دیتی ہے۔
ابن خلدون کے مطابق، ہمہ گیر اور وسیع حکومتوں کی ابتدا ہمیشہ کسی نہ کسی نظریے یا تحریک سے ہوتی ہے، خواہ وہ دینی ہو یا قومی۔ حکومت غلبے سے حاصل ہوتی ہے، اور غلبہ عصبیت سے پیدا ہوتا ہے۔ جب لوگ کسی ایک مقصد پر متحد ہو جاتے ہیں، تو ان کی اجتماعی طاقت انہیں ایک ناقابل تسخیر قوت میں بدل دیتی ہے، یہی قوت سلطنتوں کو جنم دیتی ہے اور انہیں دوام بخشتی ہے۔
عصبیت محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو ہر دور میں کارفرما رہی ہے۔ جدید سیاسی تحریکوں سے لے کر ماضی کی عظیم سلطنتوں تک، تمام کامیاب حکمرانی اسی اصول پر قائم رہی ہے۔ ابن خلدون کا فلسفہ آج بھی سماجی علوم میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ہمیں انسانی معاشروں کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔