سینیٹر اسحاق ڈار کی بطور نائب وزیراعظم تعیناتی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ڈپٹی وزیراعظم کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہے۔ آئین میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، مشیر، معاون خصوصی اور دیگر عہدے درج ہیں۔ وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں اختیارات استعمال کرنے والے ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے کو آئینی حمایت حاصل نہیں۔ ڈپٹی وزیراعظم کو دی جانے والی مرعات بھی قومی خزانے پر بوجھ ہوں گی۔ نوٹیفکیشن غیر قانونی، غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

سینیٹر اسحاق ڈار کی بطور نائب وزیراعظم تعیناتی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

سینیٹر اسحاق ڈار کی بطور نائب وزیر اعظم تعیناتی اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کر دی گئی۔

ندیم سرور ایڈووکیٹ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں حکومت، وزیراعظم، سیکریٹری کابینہ ڈویژن اور اسحاق ڈار کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 28 اپریل کو اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیراعظم تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ ڈپٹی وزیراعظم کی تعیناتی کے نوٹیفکیشن میں نہیں بتایا گیا کہ کس قانون کے تحت تعیناتی کی جا رہی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ڈپٹی وزیراعظم کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہے۔ آئین میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، مشیر، معاون خصوصی اور دیگر عہدے درج ہیں۔ وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں اختیارات استعمال کرنے والے ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے کو آئینی حمایت حاصل نہیں۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ ڈپٹی وزیراعظم کی تعیناتی عوام کی امنگوں کے برعکس کی گئی۔ ریاست اپنے اختیارات عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کر سکتی ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم کو دی جانے والی مرعات بھی قومی خزانے پر بوجھ ہوں گی۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی تعیناتی کا 28 اپریل کا نوٹیفکیشن غیر قانونی، غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے نیا دور کا وٹس ایپ چینل جائن کریں

گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے اسحاق ڈار کی بطور نائب وزیراعظم تقرری کے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ سینیٹر اسحاق ڈار وزیر خارجہ کے عہدے پر تعینات ہیں، جنہیں مزید نوازنے کیلئے نائب وزیر اعظم بھی مقرر کر دیا گیا ہے،آئین میں نائب وزیر اعظم کا عہدہ ہی موجود نہیں لہٰذا عدالت اسحاق ڈار کی بطور نائب وزیر اعظم تقرری کالعدم قرار دے۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کی بطور نائب وزیراعظم تعیناتی نہیں بلکہ نامزدگی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نائب وزیراعظم کو کوئی تنخواہ مل رہی ہے؟جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ اسحاق ڈار کو صرف وزیر خارجہ کی ہی تنخواہ مل رہی ہے،قانون کے مطابق وزیراعظم کسی عہدے کے لیے کسی شخص کو نامزد کر سکتا ہے۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ پاکستان کا کوئی ادارہ بھی ٹھیک نہیں، وجہ یہ ہے کہ ہم دین سے، اللہ اور رسول کے فرمان سے ہٹ گئے ہیں، میرے پاس 75 فیصد کیسز ہیں کہ خواتین جائیداد میں اپنا حصہ مانگ رہی ہیں۔

عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد اسحاق ڈار کی بطور نائب وزیراعظم تقرری کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جس پرآج ہونے والی سماعت میں درخواست کو خارج کردیا گیا۔

علاوہ ازیں سینیٹر اسحاق ڈار کی بطور نائب وزیراعظم تعیناتی کیخلاف درخواست سندھ ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔ درخواست گزار طارق منصورعدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ آئین میں نائب وزیر اعظم کا عہدہ نہیں ہے۔

ان کوتنخواہ کیاملےگی،مراعات کیا ملیں گی؟ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے استفسار پر درخواست گزار نے بتایا کہ اسحاق ڈار کو 90 لاکھ روپے کی مراعات ملیں گی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے نائب اس لیے رکھا ہے کہ تختہ الٹ دیا جائے تو معاملات دیکھنے والا کوئی ہو۔ آج کل اس کا خدشہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ منع کرنے کے باوجود آپ اتنا بولے جارہے ہیں۔ کیا گھر بھی اتنا بول سکتے ہیں؟ وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ ایسی ہی درخواست کو آج صبح مسترد کرچکی ہے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے کیبنیٹ سیکریٹری، پرائمنسٹر سیکٹریٹ، سیکریٹری جنرل قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 30 مئی تک جواب طلب کرلیا تھا۔

یاد رہے کہ 28 اپریل کو وزیرِاعظم شہباز شریف نے وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو ملک کا نائب وزیرِاعظم مقرر کیا تھا۔