Get Alerts

"افغان طالبان نے BLA دہشتگردوں کو پاکستان کے حوالے کرنے پر اتفاق کر لیا"

جہاں تک پاکستان کے بلوچ علیحدگی پسندوں سے متعلق گلے شکوے ہیں، وہ افغان طالبان فوراً ایڈریس کرنے کے لئے تیار ہیں۔ نوروز پر افغان طالبان کی گرفت بہت مضبوط نہیں ہے۔ تاہم، افغان طالبان نے پیشکش کی ہے کہ اگر آپ انٹیلیجنس فراہم کریں تو ہم وہاں سے بندے پکڑ کر آپ کو دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف افغانستان میں کریک ڈاؤن کرنے کے لئے وہ تیار ہیں۔

افغان طالبان نے بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور دیگر بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو جو افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر حملے کرنے میں ملوث ہیں، انہیں پکڑ کر پاکستان کے حوالے کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

سینیئر صحافی مزمل سہروردی نے نیا دور کے پروگرام "اندر کی بات" میں یہ انکشاف کیا ہے کہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے دورۂ افغانستان میں BLA دہشتگردوں کو پاکستان کے حوالے کرنے پر حتمی بات چیت ہونے جا رہی ہے۔

جمعہ کی شام اس پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزمل سہروردی نے بتایا کہ کابل میں پچھلے کچھ عرصے سے حقانی گروپ اور قندھاری گروپ میں ایک اقتدار کی لڑائی جاری تھی۔ قندھاریوں کا یہ خیال تھا کہ اس محلاتی جنگ میں پاکستان حقانیوں کے ساتھ ہوگا کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ طالبان کے ساتھ حقانیوں کے ذریعے بات کی ہے لیکن پاکستان نے اس بار یہ پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اس لڑائی میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا۔

"پاکستان نے کہا کہ ہمیں آپ دونوں سے گلے ہیں۔ ہمارے ملک میں دہشتگردی ہو رہی ہے اور ہم قندھاریوں اور حقانیوں دونوں کو اس کا برابر ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اسی لئے فوج نے اس لڑائی میں فریق نہ بننے کا فیصلہ کیا۔ نتیجتاً حقانی اس جنگ میں کافی کمزور ہو چکے ہیں اور قندھاری گروپ غالب آ چکا ہے جس کے بعد ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے فیصلہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں ہم پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں"

مزمل سہروردی نے بتایا کہ یہ سب کچھ مختلف مرحلوں میں ہوا ہے۔ "جب پاکستان اور افغانستان میں تعلقات خراب ہوئے تو ہم نے بارڈر بند کیے، سمگلنگ بند کروائی، افغانوں کو واپس بھیجنا شروع کیا تو جواباً افغانستان نے پاکستان کو کوئلہ برآمد کرنے پر 54 فیصد ٹیکس لگا دیا۔ اسی لئے اسحاق ڈار کے دورۂ افغانستان میں یہ ٹیکس جنگ اور ٹیرف جنگ ختم ہو جائے گی۔"

سینیئر صحافی کے مطابق افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ہم دہشتگردی کے خلاف اس جنگ کو دو حصوں میں دیکھتے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کے بلوچ علیحدگی پسندوں سے متعلق گلے شکوے ہیں، وہ افغان طالبان فوراً ایڈریس کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یاد رہے کہ جعفر ایکسپریس حملے میں ملوث دہشتگردوں سے متعلق اطلاعات تھیں کہ ان کا ماسٹر مائنڈ افغانستان اور ایران کی سرحد کے قریب نوروز کے علاقے میں موجود تھا اور وہیں سے اس حملے کو کوآرڈینیٹ کر رہا تھا۔ نوروز پر افغان طالبان کی گرفت بہت مضبوط نہیں ہے۔ تاہم، افغان طالبان نے پیشکش کی ہے کہ اگر آپ انٹیلیجنس فراہم کریں تو ہم وہاں سے بندے پکڑ کر آپ کو دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف افغانستان میں کریک ڈاؤن کرنے کے لئے وہ تیار ہیں۔

البتہ تحریکِ طالبان پاکستان کے حوالے سے مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ طالبان اسے اگلے مرحلے کے لئے رکھ چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں کمی بھی آئی ہے۔ ان کے مطابق اس دورے میں کوئلے پر ٹیکس کی کمی اور BLA کے خلاف ایکشن کے حوالے سے معاملات طے ہو جائیں گے۔