Get Alerts

شہید خلیل احمد سُمالانی — وفا، قربانی اور عزم کی علامت

یہ پرچم کسی رنگ ساز نے نہیں بنایا، یہ شہداء کے خون سے رنگا گیا ہے۔ شہید خلیل احمد سُمالانی جیسے کارکنوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عہد اور ایک عقیدہ ہے۔ ان کا لہو جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کرتا رہے گا۔

شہید خلیل احمد سُمالانی — وفا، قربانی اور عزم کی علامت

18 اکتوبر 2007 پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ دن تھا جب وفا، قربانی اور عزم کا امتحان ہوا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے موقع پر کراچی کی سڑکیں انسانی سمندر میں بدل گئی تھیں۔ ہر طرف نعرے گونج رہے تھے: "بی بی آئی ہے!"، "جیئے بھٹو!"۔ لوگوں کے چہروں پر امید، خوشی اور تبدیلی کی چمک نمایاں تھی، لیکن یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ کارساز کے مقام پر دو زوردار دھماکوں نے جشن کو ماتم میں بدل دیا۔ زمین لرز اٹھی، فضا خون میں ڈوب گئی، مگر جیالے نہ گھبرائے، نہ پیچھے ہٹے۔ وہ اپنی قائد کے اردگرد ڈٹ گئے اور جمہوریت کے قافلے کو محفوظ رکھنے میں لگے رہے۔

انہی بہادر جیالوں میں ایک نام شہید خلیل احمد سُمالانی کا بھی ہے، جو اپنی سادگی، خلوص اور نظریاتی وابستگی کے باعث پارٹی کارکنوں میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ ان کا تعلق بلوچستان کے علاقے سُمالانی سے تھا۔ شہید 13 مارچ 1973 کو پیدا ہوئے اور نوجوانی ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قافلے میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے ہمیشہ عوامی خدمت، جمہوریت کے استحکام اور پارٹی منشور کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ 18 اکتوبر 2007 کو وہ اپنی قائد کے ساتھ اسی قافلے میں موجود تھے۔ جب قیامت خیز دھماکے ہوئے تو انہوں نے اپنی جگہ نہیں بدلی، اپنی قائد کے اردگرد ڈٹے رہے اور جامِ شہادت نوش کیا۔

یہ پرچم کسی رنگ ساز نے نہیں بنایا، یہ شہداء کے خون سے رنگا گیا ہے۔ شہید خلیل احمد سُمالانی جیسے کارکنوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عہد اور ایک عقیدہ ہے۔ ان کا لہو جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کرتا رہے گا۔

حال ہی میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے سانحۂ کارساز کے شہید ورکر خلیل احمد سُمالانی کی والدہ اور بھائی نے ملاقات کی۔ یہ ملاقات وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید اقبال شاہ کی خصوصی کاوشوں سے ممکن ہوئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے شہید خلیل احمد سُمالانی کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء قوم کا فخر اور سرمایہ ہیں جن کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے شہید کے بھائی کے لیے سرکاری ملازمت اور اہلِ خانہ کے لیے مالی معاونت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء کے خاندانوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔ اس موقع پر سید اقبال شاہ بھی موجود تھے۔

شہید خلیل احمد سُمالانی جیسے مخلص کارکن پیپلز پارٹی کا فخر ہیں، جنہوں نے جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنی جان نچھاور کی۔ ان کی یاد اور ان کا نظریہ آج بھی پارٹی کارکنوں کے حوصلوں کو جلا بخشتا ہے۔ ان کا لہو گواہی دیتا ہے کہ شہید بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کا مشن ابھی زندہ ہے، اور ہر جیالا اس پرچم کی حفاظت کے لیے تیار ہے۔

بشیر نیچاری کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ وہ سماجی اور سیاسی کارکن ہیں۔