نصف صدی سے زائد عرصہ پہ محیط یکطرفہ مخاصمانہ پراپگنڈہ نے یہ دن دکھایا ہے کہ پاکستان کا اکثریتی طبقہ، احمدیوں کو پاکستانی شہری تو درکنار، بنیادی شرف انسانی کے حقدار انسان سمجھنے کو ہی تیار نہیں رہا۔ پاکستان سے محبت کرنے والے ہر شہری کے لئے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہونی چاہیے۔
احمدیوں سے بطور معاشرہ نفرت اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ فوت شدہ احمدی بھی اس سے محفوظ نہیں۔
پاکستان کے متعدد علاقوں میں متعدد مرتبہ احمدی شہریوں کی قبور کی بےتوقیری کی گئی ہے۔ ان کے کتبے توڑے گئے، اور ان پہ سیاہی ملی گئی۔
پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے اوراس کے آئین کی شق 20 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے، تبلیغ کرنے اور مذہبی رسومات ادا کرنے کا حق دیتی ہے۔
مگر جب بات احمدیوں کی ہو، تو نہ صرف انہیں اس حق سے محروم کیا جاتا ہے بلکہ ان کے وجود ہی کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔
1974 میں پارلیمنٹ نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا، جو ریاستی و سماجی، ہر سطح پر پاکستان کے احمدی شہریوں کے خلاف امتیاز کی بنیاد بنی۔ ایک دہائی بعد، 1984 میں جنرل ضیاالحق کے دور میں جاری کردہ آرڈیننس XX نے احمدیوں کے لئے زندگی مزید دوبھر کر دی۔
یہ پابندیاں پاکستان کے عدالتی نظام اور معاشرتی مزاج کو اقلیت دشمنی کے دہانے تک لے آئی ہیں۔ احمدیوں کو تعلیمی اداروں، ملازمتوں، سرکاری دفاتر اور یہاں تک کہ ووٹ دینے کے حق سے بھی باقاعدہ منظم انداز میں محروم رکھا گیا ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ معاشرے نے اس ظلم و امتیاز کو صرف برداشت ہی نہیں کیا بلکہ کئی مرتبہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ احمدیوں کی قبروں کی بےحرمتی ہو، اُن کی عبادت گاہوں پر حملے ہوں، یا پھر بائیکاٹ کی مہمات — یہ سب ایک پاکستانی شہری کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اپنے جیسے انسانوں کے خلاف نفرت کا 'نارمل' ہو جانا ایک خوفناک امر ہے، جس پر ہر محب وطن پاکستانی کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
بحثیت پاکستانی اور انسان، ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا بھی ہوگا اور تسلیم بھی کرنا ہوگا کہ اختلاف رائے اور عقیدہ سے منسلک نظریات کے فرق کے باوجود بھی انسانوں کے بنیادی حقوق کا احترام لازم ہے۔
دنیا بھر میں اقلیتوں کے تحفظ کو جمہوریت اور انسانی ترقی کا پیمانہ مانا جاتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک مہذب، ترقی یافتہ اور پُرامن ملک بنے، تو ہمیں سب سے پہلے اپنی اقلیتوں کو وہ عزت، احترام اور مساوی حقوق دینے ہوں گے جو کسی بھی مہذب ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں۔
احمدی شہریوں کی مُلکِ پاکستان سے وفاداری، حُبّ الوطنی اور مادرِ وطن کی سربلندی کے لئے قُربانیاں پاکستان کی قومی تاریخ کا سنہری مگر فراموش کردہ باب ہیں۔ احمدی شہریوں کو سرِ عام "غدار" کہہ کر دیوار سے لگانا نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ یہ ہماری قومی یکجہتی اور اخلاقی اقدار کے لئے بھی زہر قاتل ہے۔
بطور قوم ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے بچوں کو نفرت وراثت میں دینا چاہتے ہیں؟ یا ایک ایسا پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں جہاں ہر شخص کو، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، برابر کا انسان مانا جائے؟
یہ سوال اب ٹالنے کا نہیں، بلکہ جواب دینے کا ہے۔ اور جواب صرف انسانیت، انصاف اور ہمدردی کے اصولوں پر مبنی ہو سکتا ہے۔
تحریر: مطاہر احمد