Get Alerts

اکیلی میز

مجھے وہ لڑکیاں یاد آتی ہیں جو دیہاتوں سے شہر آئی تھیں۔ میں نے انہیں پڑھایا، اردو سکھائی، پھر انگریزی، پھر یہ کہ شہر میں کیسے چلا جاتا ہے۔ مگر شہر کی اصل زبان وہ تھی جو میں خود کبھی نہ سیکھ سکی۔ وہ غیرمرئی قواعد، وہ خاموش اشارے، وہ تعلقات کا کھیل — جو کتابوں میں نہیں ملتا، ڈگریوں سے نہیں آتا۔ وہ سب انہوں نے مجھ سے زیادہ جلدی سیکھ لیا۔

اکیلی میز

میں جب بھی اس کیفے میں جاتی ہوں تو مینیجر کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے کچھ اُترتا ہے۔ بس ایک لمحے کے لیے۔ پھر وہ سنبھل جاتا ہے، مسکراتا ہے، "ویلکم میم" کہتا ہے — مگر وہ لمحہ میں دیکھ چکی ہوتی ہوں۔

وہ لمحہ کہتا ہے:

صرف آپ؟

چار کرسیوں والی میز خالی پڑی ہوتی ہے، دو کرسیوں والی بھی، مگر وہ مجھے ہمیشہ کونے کی طرف لے جانا چاہتا ہے اُس حصے میں جہاں اکیلے لوگ بٹھائے جاتے ہیں، جیسے وہ سامان ہوں جسے ابھی کسی نے کلیم نہ کیا ہو۔

میں اُسی چار کرسیوں والی میز پر بیٹھ جاتی ہوں۔ تین کرسیاں خالی رہتی ہیں۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہ اسلام آباد ہے۔ یہاں خالی کرسی کا بھی ایک سماجی مطلب ہوتا ہے۔

کمرے میں نظریں گردش کرتی ہیں۔ میں انہیں پہچانتی ہوں ان کی اقسام، ان کا وزن، ان کی سطحیت، ان کی اڑان۔

کچھ نظریں صاف ہوتی ہیں، سیدھی، بے تکلف، بُری۔ مگر اسلام آباد کی نظریں ویسی نہیں ہوتیں۔ یہاں لوگ گھورتے نہیں؛ صرف دیکھ لیتے ہیں۔ یا شاید دیکھنے کا تاثر دے کر فوراً نظریں ہٹا لیتے ہیں۔ گویا دیکھنا جرم نہیں، پکڑا جانا جرم ہے۔

میں سوچتی ہوں اسی سڑک پر کتنی بار نازیہ حسن اپنی نرم، دھیمی، کومل چال کے ساتھ گزری تھیں۔ خالدہ ریاست کسی سٹار ہیروئن کی طرح ٹھوڑی ذرا اُٹھائے ہوئے گزری تھیں۔ پروین شاکر بھی کبھی پی ٹی وی کی ریکارڈنگ کے بعد پیلے رنگ کی ہیل والی جوتی میں انہی راستوں سےگزری تھیں۔ پروین شاکر — پی ٹی وی کی ریکارڈنگ کے بعد پیلے رنگ کی ہیل والی جوتی میں۔ وہ تصویر ذہن میں جم گئی، نہ جانے کیوں، ہمیشہ کے لئے۔ سگنل پر ساتھ والی گاڑی میں کبھی جنید جمشید ہوتا تھا۔ قریبی سڑک سے گزرتے ہوئے فراز صاحب کو پھول والوں سے سرخ گلاب خریدتے کتنی بار دیکھا تھا۔ کہاں گئے سارے خوبصورت لوگ؟
اُن دنوں نہ موبائل کیمرہ تھا، نہ سیلفی کی ہوس۔ اصل اسلام آبادی وہ جو اِسلو لائٹ نہیں تھے۔ مشہور چہرہ دیکھ کر بھی نہیں دوڑتے تھے۔ ایک فاصلہ تھا، ایک وقار تھا۔ دونوں طرف سے۔ شہرت کو اس کی جگہ رہنے دیا جاتا تھا، آپ اپنی جگہ ٹھہرے رہتے تھے۔

وہ سب دہائیاں اب کتنی مختصر لگتی ہیں، تتلی کی ایک دن کی زندگی سے بھی کم۔

اور واقعی، اسلام آباد میں تتلیاں اب اتنی کم کیوں ہیں؟

بچپن میں میں تتلیاں پکڑ کر اپنی سکریپ بک میں لگایا کرتی تھی۔ اُس وقت یہ ظلم نہیں لگتا تھا۔ زندگی بعد میں سمجھاتی ہے کہ اصل بے حسی کیا ہوتی ہے۔

شاید میرا بھی کوئی ونڈر لینڈ تھا۔ شاید میرے کچھ دوست اب کسی ایسے سیارے میں ہیں جہاں تتلیاں ابھی اڑتی ہیں، جگنو ابھی جلتے ہیں، اور فائر فلائیز رات کو گھاس میں تاروں کی طرح بکھری ہوتی ہیں۔ یہاں کے نئے نویلے کلائمیٹ چینج ایکسپرٹ حیران ہیں یہ سب کہاں گئے؟ ہم جانتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے یا جاننا نہیں چاہتے۔

اسلام آباد کا قبرستان بھی گرڈ زدہ ہے۔ وہاں میرے دوست بھی ہیں، رقیب بھی، دلدار بھی۔ نہیں میں جھوٹی ہوں، میرا کوئی دلدار نہیں تھا۔ رقیب بھی نہیں تھا۔ سب مایا ہے۔ میں بھی۔

پھر بھی کبھی کبھی سوچتی ہوں میں اب تک معتوب کیوں ہوں؟

اسلام آباد کے لوگ بہت تراشیدہ ہیں — یا کم از کم تراشیدہ دکھائی دینا چاہتے ہیں۔ نفیس، مہذب، بیرونِ ملک پڑھے ہوئے۔

یہاں کی گفتگو میں بھی ایک تربیت یافتہ احتیاط ہوتی ہے۔

کوئی عورت اپنی سہیلی کے کان میں کچھ کہتی ہے، دوسری ایک لمحے کے لئے میری طرف دیکھتی ہے، پھر فوراً نظریں جھکا لیتی ہے۔ جیسے تہذیب کا اصل مطلب احساسات نہیں، ان کا کامیاب اخفا ہو۔

اُف میں بھی کتنی سٹیٹس کانشس ہوں۔

سول سرونٹ نہ ہونے کے باوجود مجھ میں یہ اسلام آبادی سنوبش نس کہاں سے آ گئی؟

ان عورتوں کے بیگز مہنگے ہیں، بال خوبصورت ہیں، لہجے پالشڈ ہیں۔ اور ہمارے معاشروں میں دولت اور پُرکشش عہدے اکثر ذہانت کا ثبوت بھی مان لیے جاتے ہیں۔

پھر میرے اندر کا نرگسیت زدہ اسلام آبادی سر اُٹھاتا ہے اور اُسی لمحے ایک زخمی وکٹم ہُڈ جنم لینے لگتا ہے۔

میں اس کیفیت کو فوراً پہچان لیتی ہوں، اور ایک ماہر سنائپر کی طرح اُسے وہیں مار دیتی ہوں۔

میں انہیں جج نہیں کرتی۔ وہ مجھے کرتی ہیں۔ یہ بھی ٹھیک ہے۔

ہم سب کہیں نہ کہیں بیٹھے، کسی اکیلے شخص کے بارے میں کچھ سوچتے ضرور ہیں۔

فرق صرف یہ ہے کہ مجھے اندازہ ہے وہ کیا سوچ رہی ہیں۔

بیچاری۔ کوئی نہیں اس کا۔

ایک دن قریب کی میزوں پر شاید کسی کٹی پارٹی جیسی محفل تھی۔ مجھے کبھی کسی نے کٹی پارٹی میں نہیں بلایا، اس لئے میں یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ وہ واقعی کٹی پارٹی تھی یا نہیں۔

چند پرانی کلاس فیلوز تھیں۔ وہ حلقہ جس میں کبھی میں بھی شامل تھی — یا شاید صرف موجود تھی۔ فرق ہمیشہ دھندلا رہا۔

ایک نے مجھے دیکھا۔

"ہائے! کیسی ہو؟"

"ٹھیک ہوں،" میں نے جواب دیا۔

مگر میرا جواب مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ مڑ چکی تھی۔

سوال خلوص سے نہیں پوچھا گیا تھا؛ صرف کرٹسی تھی۔ اسلام آباد سٹائل کی شائستگی۔ نہ گرم، نہ سرد، بس روم ٹیمپریچر۔

"آؤ ہمارے ساتھ بیٹھو" — یہ نہیں کہا گیا۔

اور مجھے معلوم تھا کیوں۔

میں اس لیگ کا حصہ نہیں ہوں۔

یہ بات مجھے اب بہت صاف سمجھ آتی ہے۔

میں نے زندگی میں بہت محنت کی، مگر شاید کلاس کا وہ پتھر کبھی عبور نہ کر سکی۔ اور مجھے اپنی مارکیٹنگ کبھی نہیں آئی۔

مجھے وہ لڑکیاں یاد آتی ہیں جو دیہاتوں سے شہر آئی تھیں۔

میں نے انہیں پڑھایا، اردو سکھائی، پھر انگریزی، پھر یہ کہ شہر میں کیسے چلا جاتا ہے۔

مگر شہر کی اصل زبان وہ تھی جو میں خود کبھی نہ سیکھ سکی۔

وہ غیرمرئی قواعد، وہ خاموش اشارے، وہ تعلقات کا کھیل — جو کتابوں میں نہیں ملتا، ڈگریوں سے نہیں آتا۔

وہ سب انہوں نے مجھ سے زیادہ جلدی سیکھ لیا۔

اور میں؟

میرے پاس ڈگریاں تو بہت آئیں، مگر وہ سند کبھی نہیں آئی۔

کچھ لوگوں نے میرا مذاق بھی بنایا۔

"لگتا نہیں میڈم اتنی پڑھی لکھی ہیں۔"

کسی نے حیرت سے پوچھا:

"آپ ایمسٹرڈیم سے پڑھ کر واپس پاکستان آ گئیں؟ اور شراب نہیں پیتیں؟ ڈرگز نہیں لیں؟ کبھی پارٹیوں میں نظر نہیں آئیں؟"

میں کون ہوں؟

یہ سوال نہ کسی کتاب میں ملا، نہ کسی نے بتایا۔ اور جن سے پوچھا انہوں نے جواب دینے کی بجائے اپنا فیصلہ سنا دیا۔

میں خود کو نہ بہادر سمجھتی ہوں، نہ غیرمعمولی۔ بس میں نے اپنی تکلیف کا کاروبار نہیں کیا۔ ایک مزدور کی طرح زندگی گزاری۔

مگر یہاں ایک بات اہم ہے۔

اردو نے تنہائی کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔

جو شخص اکیلا رہنا چاہتا ہے، اور جو اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے — دونوں کے لئے ہمارے پاس ایک ہی لفظ ہے: تنہا۔

انگریزی کم از کم یہ فرق قائم رکھتی ہے: سولٹیوڈ اور لونلی نیس۔

ایک انتخاب ہے۔ دوسرا سزا۔

میں نے انتخاب کیا تھا۔

آسان نہیں تھا، مگر شعوری تھا۔

وہ رشتے چھوڑ دیے جہاں خود کو مسلسل چھوٹا کرنا پڑتا تھا۔ وہ محفلیں چھوڑ دیں جہاں خاموش رہنا پڑتا تھا۔ وہ تعلقات بھی، جہاں ہر وقت کسی اور کی توثیق ضروری تھی۔

اس انتخاب کی قیمت ضرور ادا کی۔

لوگوں نے مجھے "لونلی لیڈی" کہا۔ "دی کیٹ وومن" کہا۔

میں نے برا نہیں مانا۔

بلی شاید دنیا کا سب سے مس انڈرسٹڈ جانور ہے۔ وہ محبت بھی اپنی شرطوں پر کرتی ہے، قربت بھی۔

لوگوں نے یہ لقب طنز میں دیا تھا۔

میں نے خاموشی سے قبول کر لیا۔

کافی ٹھنڈی ہو جاتی ہے تو میں دوسری منگوا لیتی ہوں۔

اب مینیجر جب پوچھتا ہے، "کچھ اور؟" تو اُس کے لہجے میں ایک مانوس احترام ہوتا ہے، جو وقت کے ساتھ آتا ہے۔

جو شخص مستقل آتا رہے، اطمینان سے بیٹھے رہے، اور اپنی جگہ چھوڑنے سے انکار کر دے آخرکار وہ جگہ اُسی کی ہو جاتی ہے۔

یہ کیفے اب میری جگہ ہے۔

یہ میز بھی۔

چاروں کرسیاں، چاہے خالی رہیں۔

باہر مارگلہ کا آسمان ویسا ہی ہے۔ اندر نظریں بھی ویسی ہی ہیں۔

مگر اب ایک فرق ہے۔

نہ میں بیچاری ہوں، نہ تنہا۔

میں اکیلی میز نہیں ہوں۔

میں وہ عورت ہوں جس نے اپنی میز خود چُنی۔

اور یہ بات ہر کسی کو سمجھانا بھی ضروری نہیں۔

میز اکیلی ہے۔

ڈاکٹر رخشندہ پروین سماجی کارکن اور ادیبہ ہیں۔