ایک کریمہ تھی اب ہزاروں ہو گئیں

ایک کریمہ تھی اب ہزاروں ہو گئیں
کریمہ بلوچ کی پراسرار موت کو ایک سال گزر گیا مگر کریمہ بلوچوں کے دل میں ایسے بس گئی کہ زندگی میں اسے "راھشون" یعنی قائد کا لقب دیا گیا تھا مگر اب انھیں "لمہِ وطن" مادرِ وطن کے لقب سے یاد کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال تو ضرور بنتا ہے کہ کیا وجوہات تھیں کہ حکومت کریمہ کو چپ چاپ دفنانا چاہتی تھی؟ کیا وہ ادارے اور ذہنیت کریمہ کی میت کو کراچی ایئرپورٹ سے اپنی تحویل میں لے کر سخت ترین سکیوریٹی حصار میں دفنانے کے بعد اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے؟ ہو سکتا ہے کہ اب بھی 21 دسمبر کو ان کی برسی پر ان کے آبائی علاقے اور قبرستان کو گھیرے میں لیا جائے اور وہاں عام آدمی کو جانے نہ دیا جائے لیکن کیا کریمہ کی جدوجہد اس سے گمنام ہوگی اور قوم کی دلوں سے کریمہ نکال پائے گی؟ اگر کریمہ کی نماز جنازہ کے وقت ان کے آخری دیدار کے لئے ان کے چاہنے والوں کو آنے دیا جاتا تو کیا یہ مجمع مینار پاکستان میں سابقہ کالعدم مذہبی جماعت کے رہنما کے مجمع سے بڑا ہوتا؟

ان سوالات کے بعد یہ سوال کہ کیا بلوچوں کی نئی نسل کریمہ کو بھول سکتی ہے؟ کیونکہ کریمہ تو ایک بلوچ لڑکی تھی۔ وہ ایک بلوچ طالب علم رہنما تھی جو بلوچستان کے مسخ شدہ نظامِ سرداری کا مقابلہ کر رہی تھی مگر ان کے بعد مکران و بلوچستان میں آج کی بلوچ عورت کیسی ہے؟ شاید لاہور و اسلام آباد میں بیٹھ کر کوئی خود کو یہ تسلی دے کہ کریمہ اب نہیں رہی مگر بلوچستان میں اب ہر گھر میں کئی کریماؤں کا جنم ہوا ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو گوادر کی حالیہ عوامی تحریک کی تصاویر دیکھ لیجیے۔ یقیناً ایسا اچانک تو نہیں ہوا ہوگا۔ یہ کریمہ کی وہ نظریاتی پیروکار ہیں جو اب بلوچستان کے کونے کونے میں موجود ہیں اور بلوچ سماج میں سیاسی میدان کا حصہ ہیں کیونکہ انہیں بھی کریمہ بننا ہے۔

Baloch-Women

اس تبدیلی کے لئے کریمہ نے اپنی زندگی میں جس قدر جدوجہد کی یہ اس کے ثمرات تو ہیں ہی، ساتھ میں یہ اس طاقت کے بھی نتائج ہیں جو کریمہ بلوچ کی آخری رسومات کے وقت اپنائے گئے تھے جب ایک میت کو طاقت کے زور پر اور خوف کے سائے میں دفنایا گیا۔ کریمہ کی میت کو جس دن کراچی ایئرپورٹ سے ان کے آبائی علاقے تمپ لے جایا جا رہا تھا تو کرفیو کا سماں تھا۔ موبائل نیٹ ورکس بند کیے گئے تھے۔ لیکن اس خوف کے سائے میں بھی ماحول کچھ یوں تھا کہ جس کا آنکھوں دیکھا احوال اس تحریر میں بیان کیا گیا ہے۔

"ویران سڑکیں، سخت پہرے، انتظار میں کھڑی آنکھیں اور ان سب سے زیادہ ایک نفرت۔ یہ نفرت عمومی نفرت سے جدا ہے کیونکہ عموماً نفرت جبر، ظلم و بربریت کے خلاف ہوتی ہے لیکن یہ نفرت اس خوف کے خلاف ہے جس کے سائے میں یہ نظام اپنی آخری سانسوں کو دن بہ دن بڑھاتا جا رہا ہے۔

کاروانِ شہید کریمہ کے انتظار میں گوادر زیرو پوائنٹ سے لے کر کلاچ، دشت اور ڈی بلوچ تک کئی لوگ ڈر اور خوف سے نفرت کرتے ہوئے کھڑے تھے مگر اس سے کئی گنا زیادہ خوف حکومتی مشینری میں دیکھا جا رہا تھا جو آنکھیں پھاڑ کر اپنے گذشتہ ستر سالوں سے کیے گئے آقاؤں کے جبر و خوف کے نظام کو ہر طرف پھیلاتے گزر رہے تھے اور شاید ان آقاؤں کو دل ہی دل میں بددعائیں بھی دے رہے تھے جن کی منصوبہ بندیوں کی وجہ سے انہیں بھی آج ایک لاش کو اغوا کر کے راستے میں چرواہوں، طالب علموں، خواتین و بچوں سے چھھا کر لے جانا پڑ رہا تھا اور اپنی طاقت کے خوف کو بچوں اور نوجوانوں کی صورت میں شکست خوردہ دیکھ رہے تھے۔ کیونکہ اس خوف کے سائے میں بھی جنہیں دور سے موقع ملتا وہ سلامی دینے کے لئے حاضر ہوتے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے لاہور کے میڈیا، اسلام آباد کے ایوانوں کو اس ایک لاش سے اس قدر خطرہ ہے کہ اسے اپنے ایٹم بم سے زیادہ اہم سمجھ کر چھپا رہے ہیں۔

کاروان میں شامل چند گاڑیوں کو جب زبردستی روک کر واپس کیا گیا تو ایک بیچارہ اہلکار کہتا ہے: تمہیں پتہ ہے کہ کالعدم علیحدگی پسند تنظیم کی کمانڈر لڑکی مار دی گئی ہے، حالات بہت خراب ہیں، اس لئے اس طرف کسی کو جانے کی اجازت نہیں، آگے افسر کھڑے ہیں۔

Baloch-women

پتہ نہیں اس افسر نے کیا سوچھ کر یہ حکم دیا تھا مگر اس سے پہلے والے کئی اسی عہدے پر رہنے والوں کی وجہ سے اس کا بلڈ پریشر اور نفسیات پر بہت برے اثرات پڑے تھے جس نے سخت ترین کرفیو لگا کر کمیونکیشن کے تمام طریقے مکمل بند کر دیے تھے۔ اس سے پہلے کریمہ بلوچ ایک عام بلوچ طالب علم کے لئے صرف ایک طالب علم رہنما تھی جو پدر شاہی قدامت پسند کہلانے والے بلوچ سماج، موقع پرست سرداروں اور چند دیگر پارلیمانی سوداگروں کے لئے ایک مزاحمت کی علامت تھی مگر منصوبہ سازوں کے لئے ان کی لاش کس قدر خوف کی علامت ہے یہ ان کی موت نے عیاں کر دیا۔

رات گئے تک سخت سردی میں کھلے آسمان تلے بیٹھے بچے و خواتین اور راہ گیر جو اپنے اپنے گھروں تک جانے کے لئے ڈی بلوچ چوک تربت میں راستے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کی نسلوں میں سے چند ایک کل کو شاید ہی کسی کالے شیشوں والی گاڑی میں بیٹھ کر چند پیسوں اور پروٹوکول کے لئے ناجائز طریقے سے محب وطن کہلائیں مگر یہ ان پڑھ مائیں، بچے و بوڑھے بھی جب کرفیو کھلنے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹیں گے تو کریمہ کی موت اور نظام کا جبر کو نہیں بھولیں گے۔ اب اس نظام سے زیادہ یہ لوگ اپنے اندر کے خوف سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ جسے چند پیسوں کا تنخواہ دار اپنی ملازمت تک تو شاید کیسے بھی برقرار رکھ سکے مگر اپنی نسلوں کو اس عارضی منصوبہ بندی سے تباہ کر دے گا۔ کیونکہ جب وہ عام اہلکار کل کو گھر لوٹے گا یا ان کے بچے انہیں بتائیں گے کہ ایک لڑکی کی میت کے وقت  ایسا کیا گیا تھا تو ۔۔۔۔۔۔"

اس تحریر کو ایک برس کا وقت گزر گیا اور آج کی تاریخ میں ہم نے بلوچ خواتین کو بجائے خوف زدہ، خاموش اور پردہ و روایات کے سرداری و پدرشاہی نظام کے قدموں تلے دبنے کے مزید منظم دیکھا۔ جب گوادر میں ہزاروں خواتین کی ریلی نکلی تو ایسا لگ رہا تھا جیسے ایک کریمہ کے بعد ہزاروں کریمہ نکلی کھڑی ہوئی ہیں۔

لکھاری بلوچستان کے شہر گوادر سے تعلق رکھتے ہیں اور صحافت کے طالب علم ہیں۔