Get Alerts

ایک قیدی، ایک بیانیہ، اور لرزتی حکومت

ملکی و غیر ملکی کرکٹ کے عظیم کھلاڑی کھل کر کپتان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں، جن میں کپل دیو، سنیل گواسکر، محمد اظہرالدین، سر کلائیو لائیڈ، سنتھ جے سوریا، جان رائٹ، مائیکل آتھرٹن، ناصر حسین اور دیگر شامل ہیں۔ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے کہ اس فسطائی نظام کے خلاف پہلی بار کھل کر ملکی کرکٹر بھی بولے ہیں

ایک قیدی، ایک بیانیہ، اور لرزتی حکومت

طاقتوروں نے پشاور ہائی کورٹ کا بروقت استعمال کر کے تحریکِ انصاف کا دھرنا ختم کرا دیا ہے۔ یہ دھرنا خیبر پختونخوا کے آٹھ سے دس مقامات پر جاری تھا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر جاری تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کا دھرنا بھی ختم ہو چکا ہے۔ اگرچہ اس دھرنے کے تمام مقاصد پورے نہ ہو سکے، مثلاً عمران خان کی آنکھ کے مکمل علاج تک انہیں ہسپتال میں رکھا جائے اور ان کا علاج ان کے ذاتی معالج کی زیرِ نگرانی ہو، تاہم جزوی طور پر دھرنا دینے والے کامیاب رہے۔

اڈیالہ جیل میں چند جید ڈاکٹروں کا پینل گیا، جہاں تمام جدید آلات سے خان کا علاج شروع کیا گیا، جس سے بہتری کی امید پیدا ہوئی۔ تاہم خان کے ذاتی معالج بھی ساتھ ہوتے تو اس میں کوئی قباحت نہیں تھی۔ پھر عالمی سطح پر کپتان کی حمایت میں مزید اضافہ ہوا۔ ملک میں تو وہ اس وقت مقبول ترین سیاستدان ہے ہی، آنکھ کی بیماری کے بعد حکومتی غفلت نے خان کے لیے ہمدردی کی لہر میں مزید اضافہ کیا ہے۔ جو خان کا ووٹر نہیں بھی ہے، وہ بھی اب اس کے لیے نیک جذبات رکھتا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس والے دھرنے کو عالمی میڈیا پر بہت زیادہ کوریج ملی۔ تمام موقر اخبارات و جرائد اور ویب سائٹس نے نمایاں طور پر خبریں شائع کی ہیں۔ اس کے علاوہ ملکی و غیر ملکی کرکٹ کے عظیم کھلاڑی کھل کر کپتان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں، جن میں کپل دیو، سنیل گواسکر، محمد اظہرالدین، سر کلائیو لائیڈ، سنتھ جے سوریا، جان رائٹ، مائیکل آتھرٹن، ناصر حسین اور دیگر شامل ہیں۔ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے کہ اس فسطائی نظام کے خلاف پہلی بار کھل کر ملکی کرکٹر بھی بولے ہیں، جن میں وقار یونس، وسیم اکرم، راشد لطیف، یونس خان، شاہد آفریدی وغیرہ نے کھل کر کپتان کے علاج کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ جابر نظام، طاقتور اور ان کی کٹھ پتلی فارم 47 کی حکومت اندر سے کس قدر بزدل ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے اعصاب پر خان کی مقبولیت کا خوف اس قدر سوار ہے کہ یہ خان کو ہسپتال لے جانے سے ڈرتے ہیں۔ یہ ڈر ان کے اعصاب پر سوار ہے کہ کہیں خان کو دیکھنے عوام کا ہجوم نہ ہو جائے۔

دوسری طرف فارم 47 کی حکومت کے اندر سے ہی سچ سامنے آ رہا ہے۔ رانا ثنااللہ نے بتا دیا ہے کہ دو بار خان کو ڈیل کی پیشکش کی گئی مگر خان نے انکار کر دیا۔ خان پاکستانی سیاست میں ایک اساطیری کردار بنتا جا رہا ہے۔ وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ ہیئتِ مقتدرہ نے اسے نواز شریف سمجھ کر سودے بازی کی جو بھی پیشکش کی، وہ اس نے ٹھکرا دی۔ خان مانگتا کیا ہے؟ صرف اپنے ذاتی معالجوں کی زیرِ نگرانی علاج۔

فارم 47 کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی اعتراف کیا ہے کہ خان نے بیرونِ ملک علاج کی کوئی درخواست نہیں کی۔ خان سول سپرمیسی کی ایک علامت بن کر ابھر چکا ہے۔ اب تک آلِ شریف ہی اس کے خلاف بیان بازی کر کے اپنی گرتی ساکھ کو بچانے کی کوشش کرتے رہے اور ناکامی سمیٹتے رہے، مگر اب فارم 47 کے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بھی اڑتا تیتر پکڑنے کی جو کوشش کی ہے، وہ ان کے گلے پڑ گئی ہے۔ زرداری کی ساکھ پہلے بھی اچھی نہیں تھی، مگر اب تو بالکل ہی رسوا ہوئے ہیں۔ بہتر تھا ایوانِ صدر کے کونے میں بیٹھ کر دہی کھاتے رہتے۔

سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور چند ماہ کی خاموشی کے بعد نمودار ہوئے ہیں۔ پہلے تو دھرنے میں موجود رہے، پُرجوش انداز میں نعرے بازی کرتے رہے، مگر بعد میں کچھ ایسا کہہ گئے جس نے ان کے کردار کو مشکوک کر دیا۔ میرا ماننا ہے کہ علی امین گنڈاپور خان سے غداری نہیں کر رہے، بس انہیں وکٹ کے دونوں اطراف کھیلنے کی جو عادت ہے، وہ ان کو اور شیر افضل مروت دونوں کے کردار کو مشکوک بنا دیتی ہے۔ یہ دونوں خان کی رہائی چاہتے ہیں، مگر اندازِ بیان انہیں رسوا کر جاتا ہے۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔