Get Alerts

قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ اور پی ٹی آئی کا بائیکاٹ

آج کل عالمی سطح پر اور خصوصاً پاکستان میں دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور مشکوک شکل اختیار کر چکی ہے اور پچھلے ڈھائی دہائیوں سے جاری اس مذموم کھیل کے بارے میں عوامی رائے اتنی غافل اور بے خبر نہیں جتنی شروع میں تھی۔ اب جو طاقتیں دہشت گردی کے خلاف جتنا بلند آواز میں بات کرتی ہیں، اتنا ہی عوام ان کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے ہر قدم اور اقدام کا گہرائی سے مشاہدہ اور تجزیہ کرتے ہیں

قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ اور پی ٹی آئی کا بائیکاٹ

ملک خصوصاً بلوچستان میں حالیہ پرتشدد واقعات کے ردعمل کے طور پر پاکستانی سٹیبلشمنٹ نے ماضی کی طرح اندھادھند فوجی طاقت کے استعمال پر زور دیا ہے، لیکن اس کے لیے بلا کسی شرط اور حد کے وسیع عوامی تائید اور حمایت کی ضرورت ہے۔ اور اس مقصد کے لیے وہ ماضی کی طرح ایک بار پھر بندوق کو اس نام نہاد پارلیمان کے کندھے یا بلفاظ دیگر اس کی کنپٹی پر رکھ کر صرف ذمہ داری اس بے اختیار پارلیمان پر ڈالنا چاہتے ہیں۔

آج کل عالمی سطح پر اور خصوصاً پاکستان میں دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور مشکوک شکل اختیار کر چکی ہے اور پچھلے ڈھائی دہائیوں سے جاری اس مذموم کھیل کے بارے میں عوامی رائے اتنی غافل اور بے خبر نہیں جتنی شروع میں تھی۔ اب جو طاقتیں دہشت گردی کے خلاف جتنا بلند آواز میں بات کرتی ہیں، اتنا ہی عوام ان کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے ہر قدم اور اقدام کا گہرائی سے مشاہدہ اور تجزیہ کرتے ہیں۔  القاعدہ بظاہر امریکہ کے دشمن تھا لیکن اس سے منسلک حیات تحریر الشام نے امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کیلئے وہ راستہ ہموار کیا ہے جس کا وہ کئے سالوں سے خواب دیکھ رہے تھے۔ 

لیکن اس بدلی ہوئی صورت حال میں ہماری اسٹیبلشمنٹ وہی پرانی راگ الاپنے پر بضد ہے۔ ماضی کے برعکس اس بار پوری پارلیمان یا قومی اسمبلی کے اجلاس بلانے کی بجائے انہوں نے ایک نام نہاد اور احتیاط سے سلیکٹیڈ قومی سلامتی کمیٹی سے اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی، جو بظاہر ناکام ہوئی۔ اس رویے اور اقدامات سے لگ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ آج بھی دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ کو کسی نہ کسی شکل میں بطور پالیسی اوزار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے دہشت گردی تو ختم نہیں ہوئی لیکن پاکستان میں سیاسی قوتیں بے انتہا کمزور اور سلامتی کے نام پر اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہو گیا ہے۔ اگر ماضی میں پیچھے جا کر دیکھا جائے تو 2008 کے انتخابات کے نتیجے میں بنی پارلیمان اور حکومت سے اسٹیبلشمنٹ نے فوجی آپریشن کیلے رضامندی حاصل کی، جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ دبے ہوئے سیاسی جماعتوں اور پارلیمان سے منظوری حاصل کی گئی لیکن اس سے آگے ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ تاہم اس وقت صدر جو آج بھی صدر مملکت ہیں، انہیں بنکر صدر کے القابات سے نوازا گیا۔ صدر اعوان صدر اور  وزرا و ارکان پارلیمنٹ سیکورٹی کے نام پر گھروں تک محدود کر دیے گئے۔

 سوات میں اس وقت کے طالبان پہاڑوں پر بیٹھے ہوتے تھے لیکن فوجی ہیلی کاپٹرز اور لڑاکا طیارے دریا اور دیہاتوں پر بمباری اور گولہ باری کرتے تھے، لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں کچھ نہیں کر سکتی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب سوات کے تمام ایم پی ایز اور دو صوبائی وزیروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، لیکن اسٹیبلشمنٹ کے لگائے ہوئے ایک ڈی سی کو تبدیل نہیں کر سکے۔ اور پھر 2013 کے انتخابات میں اے این پی اور پی پی پی کا جو حال کیا گیا، وہ سب کو یاد ہے۔ الٹا اس فوجی آپریشنز کے تباہیوں کا سارا ملبہ اے این پی پر ڈال دیا گیا، جو اس کے اثرات سے آج تک نہیں نکل سکی،اب شاید اسٹیبلشمنٹ یہی کھیل پی ٹی آئی کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے۔

 پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے دہشت گردی اور اس کے نام کو شروع ہی سے دہشت گردوں کے خلاف کم اور سیاست و سیاستدانوں کو دبانے کے لیے زیادہ استعمال کیا ہے۔ کوئی ریکارڈ دیکھ کر بتائیے کہ جب سے دہشت گردی کے خلاف عدالتیں بنیں ہیں، ان میں آج تک کتنے دہشت گردوں پر مقدمے چلائے گئے ہیں اور کتنے سیاستدانوں اور سیاسی کارکنان پر؟ پہلی بار تو بڑی سیاسی قیادتوں پر مثلاً طیارہ اغوا کیس کا مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں چلتا تھا، لیکن گزشتہ آٹھ دس سالوں میں تو عام سیاسی کارکنان پر جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کرنے اور سیاسی تقریر و تحریر پر دہشت گردی کے دفعات لگائے جانے لگے ہیں۔ اور یہ اسٹیبلشمنٹ کے اصل عزائم کو ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا عوامی رائے اور قوانین سیاست اور جمہوریت کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔

مسلم لیگ ن اور پی پی پی نے تو اپنی جمع پونجی ایک ڈولتی کرسی کے لیے داؤ پر لگا دی ہے، لیکن اس وقت نشانہ پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت اور حمایت ہے۔ لہذا پی ٹی آئی کو قومی سلامتی کے نام پر بلیک میلنگ میں نہیں آنا چاہیے اور محتاط رہنا چاہیے۔ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور شاید عمران خان کے پیدائش سے پہلے شروع ہوا ہے، اور خیبر پختونخوا میں جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے، یہ اس پالیسی کا نتیجہ ہے جو کسی سیاسی اور سولین لیڈر کے اختیار میں کبھی نہیں تھا۔

پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ حقیقت اور تاریخ بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ جس مقبول سیاسی لیڈر نے اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں مداخلت یا پالیسی  کو چیلنج کیا یا اس کی بالادستی کو للکارا، اس کو اس نے کبھی معاف نہیں کیا۔ یا تو ایسے لیڈروں کو جسمانی طور پر ختم کیا گیا یا پھر سیاسی طور پر۔ ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور نواز شریف اس کی زندہ مثال ہیں۔ یہ وہ تیز دار گاس جس کو اگر مظبوطی پکڑو گے تو ہاتھ بچتا ورنہ  ڈھیلے ہاتھ کو کاٹتاہے۔

پی ٹی آئی پچھلے ایک سال سے مذاکرات اور مزاحمت کے جس دو راہی پر کھڑی ہے، اسے آگے بڑھنا چاہیے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اپنے بنائے ہوئے اتحاد اور اس کے فیصلوں کو سنجیدہ لینا ضروری ہے۔ اگر ایک طرف یہ پی ٹی آئی کے طور پر کھڑی ہے اور دوسری طرف اتحاد کے پلیٹ فارم سے، تو یہ تضاد فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو گا۔ 

اس کے علاوہ پی ٹی ائی کو عوامی موبلائز یشن ممبران قومی و صوبائی اسمبلی پر نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ اپنے گراس روٹ اور اضلاع کے تنظیموں کو منظم کرکے اس کے بھاگ دوڑ کارکنان کے ہاتھ میں دیں۔

طالعمند خان فری لانس صحافی ہیں اور نیا دور کے لئے لکھتے ہیں۔