9 مئی فسادات، ملوث خواتین کی گرفتاری لیڈیز پولیس کے ہمراہ یقینی بنانے کی ہدایت

9 مئی فسادات، ملوث خواتین کی گرفتاری لیڈیز پولیس کے ہمراہ یقینی بنانے کی ہدایت
وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے مرد پولیس اہلکاروں کو  9 مئی فسادات میں مطلوب خواتین کو حراست میں لینے سے روک دیا جبکہ ملوث خواتین کی گرفتاری لیڈیز پولیس کے ہمراہ یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔

نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر میں 9 مئی کو ہونے والے واقعات سے متعلق  138 مقدمات درج ہیں جن میں 500 سے زائد خواتین اس وقت مطلوب ہیں۔ فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث خواتین کو ہر صورت گرفتار کیا جائے گا۔فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث خواتین کسی رعایت کی مستحق نہیں۔

محسن نقوی کا مزید کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی (اے ٹی سی) کی دفعات کے تحت درج ایف آئی آرز میں شامل خواتین کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔ فوجی مقامات پر حملوں خاص طور پر جناح ہاؤس کے اندر اور باہر موجود خواتین سے لیڈیز پولیس سٹیشن میں آکر خود گرفتاری دینے کی صورت میں رعایت برتنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ ان مقدمات میں ملوث خواتین کی گرفتاری لیڈیز پولیس کے ہمراہ یقینی بنائی جائے اور کوشش کی جائے کہ ان کو خواتین پولیس سٹیشن میں رکھا جائے۔