فروری بروز اتوارچیمپئینز ٹرافی میں پاک بھارت یدھ ہونے جا رہا ہے چند روز قبل نیٹ فلیکس پر پاک بھارت کرکٹ میچز کے حوالے سے ایک ڈکومنٹری ریلیز کی گئی تھی جس میں سابق بھارتی کپتان بائیں ہاتھ کے کلاسیک بیٹر سارو گنگولی جو بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں ان سے جب سوال پوچھا گیا کہ کیا پاک بھارت کرکت میچز دوستانہ ہوتے ہیں تو انہوں نے بڑا دلچسپ جواب دیا گنگولی نے کہا جب سامنے سے شعیب اختر 150 میل سے زیادہ بال کر رہا ہو تب کہاں کا دوستانہ رہ جاتا ہے ۔
اب تو نہ ساروگنگولی جیسا ذہین ترین کپتان ہے نہ شعیب اختر جیسا سپیڈ سٹار لیکن اسکے باوجود پاک بھارت کرکت میچ کی گونچ ویسی ہی ہے جسی 72 سالوں سے رہی ہے اگر ان دونوں ملکوں نے اپنے باہمی تضادات حل کر لئے ہوتے تو آج برطانیہ اور آسٹریلیا کی طرح الشیز جیسے بڑے کرکٹ مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہوتے پچھلے 15 سالوں کے دگرگوں سیاسی حالات نے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی کرکٹ سیریز کو بھی ختم کر دیا ہے ،اب تو یہ دونوں ٹیمیں آئی سی سی کے ایونٹ یا پھر الیشین کرکٹ کونسل کے مقابلے میں ہی مدماقبل ہوتے ہیں ۔
مجموعی طور پر تو ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کا ریکاوڈ بہتر ہےپاکستان کی جیت کی اوسط بھارت سے زیادہ ہے مگر جو آئی سی سی اور الشین کرکٹ کونسل کے میچز ہیں اس میں بھارت کی جیت کی شرح پاکستان سے بہت بہتر ہے ، ون ڈے کرکٹ میچز کے ورلڈ کپ میں تو 1975 سے لے کر 2023 تک پاکستان بھارت سے ایک بھی کرکٹ میچ نہیں جیت سکا ،تاہم ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ اور ون ڈے چیمپئینز ٹرافی دوبار بھارت کو ہرانے میں کامیاب رہے ۔
2017 کی آخری چیمپئینز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان نے بھارت کو ہرایا تھا فتح کپتان سرفراز احمد کے حصے آئی تھی ، اب اتوار کے میچ میں کپتان محمد رضوان اور بھارتی کپتان روہت شرما دونوں پر دباؤتو ہو گا مگر نفسیاتی طور پر روہت شرما بہتر ہیں کیونکہ چیمپئینز ٹرافی کا پہلا میچ بنگلہ دیش کے خلاف جیت چکے ہیں اور برطانیہ کے خلاف ون ڈے سیریز جیتے تھے، جبکہ پاکستان چیمپئینز ٹرافی کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ سے ہار چکا ہے اس سے پہلے اپنے سہ فریقی سیریز میں بھی ہار گیا تھا ۔ پاکستان کے بیٹرز بابر ،رضوان، سعود ،سلمان کو بھارت کے شامی کلددہپ ، اکشیر پٹیل جیسے بہترین بالروں کا سامنا ہے ، جبکہ بھارت کے ورلڈ کلاس بلے باز ویرات کوہلی ،رویت شرما ،شبمن گل کے راہول کو پاکستان کی اوسط درجے کی باؤلنگ شاہین ،نسیم ،حارث اور ابرار کے مدمقابل ہو گی ، حرف ِآخر پاک بھارت کرکٹ میچ دباؤ کا کھیل ہوتا ہے جو دباؤ برداشت کر گیا وہ جیت جائے گا۔