معاشی و مالیاتی پالیسی بدترین اشکال میں
حذیمہ بخاری، ڈاکٹر اکرام الحق
فنانس بل 2025-26 کسی بھی حکومت کی جانب سے پیش کردہ پچھلے کئی برسوں میں سب سے زیادہ مبہم دستاویز دکھائی دیا ۔ یہ نوجوانوں کی معیشت اور 21ویں صدی کے ڈیجیٹل کاروبار کا پیچھا کرتا ہوا نظر آتا ہے—اینٹی ڈیجیٹل، پرو ریئلٹی سیکٹر بجٹ، ایکسپریس ٹریبیون، 11 جون 2025
مالیاتی بل 2025 ، جو مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ کے ساتھ پیش کیا گیا، [بجٹ 2025]، جس کا اعلان 10 جون، 2025 کو کیا گیا، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان کی معاشی اور ٹیکس پالیسی کس نا قابل یقین حد تک بدترین ہوسکتی ہیں! ہمارے معاشی اور ٹیکس منتظمین ، جو لاکھوں بے بس شہریوں کے کاروبار اور معاشی زندگی کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، نے اس برس ٹیکس کے چند ایسےاقدامات تجویز کیے ہیں جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کے تحت ضمانت دیے گئے بنیادی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
تجویز کردہ سب سے زیادہ قابل اعتراض دفعات وہ ہیں، جو پہلے ٹیکس قوانین (ترمیمی) بل 2024 کے ذریعے پیش کی گئی تھیں، جسے وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے 18 دسمبر 2024 کو قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا، لیکن ایوان کی متعلقہ قائمہ کمیٹی نے اسے روک دیا تھا۔
وہ تجاویز اب مالیاتی بل 2025 میں انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 اور سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 میں ترامیم کے طور پر تجویز کی گئی ہیں، جو پاکستان میں جائیداد کے حصول اور تصرف کے بنیادی آئینی حق اور تجارت اور کاروبار کرنے کی آزادی پر پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دستور پاکستان کے آرٹیکل 4، 8، 14، 18، 23، 25 سے متصادم ،آئینی اعتبار سے غیر قانونی شقوں کو منی بل (Money Bill) کی آڑ میں دوبارہ کیسے تجویز کیا جا سکتا ہے ،جب یہ پہلے ایک بل کے ذریعے نافذ نا ہو سکیں؟ ان غیر آئینی دفعات اور ان سے پیدا ہونے والے آئینی سوالات کی تفصیلات پہلے بھی ان کالموں میں اجاگر کی جا چکی ہیں— اردو اور انگلش میں ان کو مندرجہ ذیل لنکس کے ذریعے پڑھا جا سکتا ہے:
https://urdu.nayadaur.tv/26-Dec-2024/27297
https://thefridaytimes.com/21-Dec-2024/anti-people-anti-business-taxation
پاکستان کی تاریخ میں سویلین اور فوجی حکمرانوں کے بجٹ ہمیشہ ہی رسمی رہے ہیں، جو بنیادی طور پر ان لوگوں، جو مالی طور پر پیچھے رہ گئے ہیں، کی فلاح و بہبود کے پروگراموں کا تصور کرنے کی بجائے ، مراعات یافتہ طبقات کو معاشی اور سماجی طور پر آگے بڑھانے کا کام کرتے رہے ہیں۔ فلاحی ریاستوں کے بجٹ دولت اور آمدنی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتے ہیں تاکہ ہر ایک کو بنیادی ضروریات مل سکیں۔
اس کے برعکس ہماری حکومتیں اپنی امیر نواز ٹیکس پالیسیوں اور معیشت کے اشرافیہ زدہ ڈھانچے کے ذریعے امیروں کو زیادہ دولت کمانے کے بے مثال مواقع فراہم کرتی رہی ہیں، اور اس سال کا بجٹ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ 30 جون 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال میں سرکاری رپورٹ کےمطابق ٹیکس کے اخراجات5840.2 بلین روپے تھے، جن کا فائدہ بہت سے با اثر افراد اور کاروباروں کو ہوا ،جب کے ان ٹیکس مراعات کے ہوتے ہوئے تنخواہ دار درمیانے طبقہ پر ٹیکس کا بوجھ غیر منصفانہ طور پر کئی گنا بڑھا دیا گیا ۔
بجٹ صرف حساب کتاب کی کتابوں کو متوازن (balance) کرنے کا نام نہیں ہے۔ یہ حکومت کی سماجی، سیاسی، اقتصادی پالیسیوں کا عکاس ہوتا ہے۔ دوسری بار وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے باوجود آج تک ، شہباز شریف نے انتظامی ڈھانچے کی ساختی اصلاحات پر کوئی توجہ نہیں دی، اور نہ ہی ان کا کوئی ارادہ اشرفیہ کی مراعات ختم کرنے کا ہے ۔
پاکستان میں کوئی بھی وزیر خزانہ بجٹ بناتے وقت اس بات کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے کہ 90 ملین خواتین ناخواندہ ، گھریلو غلامی کا شکار ہیں، 30 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں، 60 ملین غذائی قلت کا شکار ہیں، 80 ملین سے زیادہ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
ہر کوئی بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے اور قرضوں کے حجم میں بے پناہ اضافے ، حکومتی اخراجات میں کمی کی اشد ضرورت، تیزی سے نہ بڑھتی ہوئی برآمدات، درآمدی پابندیوں کے باوجود تجارتی خسارہ، غیر ملکی ذخائر پر بے پناہ دباؤ، غیر منصفانہ بالواسطہ محصولات ، مہنگائی اور شرح سود وغیرہ کے بارے میں اعداد و شمار کا حوالہ دینا پسند کرتا ہے ، لیکن سب کے لئے معاشی ترقی اور روزگار ، منصفانہ اجرت، قیمتوں میں کی گئی مصنوعی گرانی کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔
کسی بھی ٹی وی چینل پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 3 کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہے جو ہماری اقتصادی پالیسی کا سنگ بنیاد ہونا چاہیے ، جس میں کہا گیا ہے کہ: "ریاست ہر قسم کے استحصال کے خاتمے اور اس بنیادی اصول کی بتدریج تکمیل کو یقینی بنائے گی، ہر ایک سے اس کی صلاحیت کے مطابق ہر ایک کو اس کے کام کے مطابق اجرت"۔
بجٹ 2025-26 میں آئین کے آرٹیکل 3 میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ آج کا پاکستان ملیٹرو جوڈیشل سول کمپلیکس، اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے جاگیرداروں اور صنعت کاروں کے ہاتھوں میں اسیر ہے۔ ان تمام کا عام لوگوں کے خلاف اتحاد ہے۔ یہ اشرافیہ (elites) کھلم کھلا پیسے اور طاقت کی بیہودہ نمائش میں ملوث ہے اور قانون کی حکمرانی کی دھجیاں اڑاتی ہے ۔ غریبوں کو کم از کم طے شدہ اجرت بھی نہیں ملتی اور عدلیہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے، اگرچہ ہر چند آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کی نگہبان ہونے کا دعوی کرتی نظر آتی ہے۔
بجٹ کا معمول کا تجزیہ لکھنے کی برسوں پرانی عادت کو جانتے ہوئے، ایک دوست نے ایک چیلنج پیش کیا، "پھر خاکہ پیش کیا جائےکہ پاکستان کے لیے مثالی بجٹ کیا ہونا چاہیے"۔ یقیناً اس کا جواب بہت آسان تھا: "وہ جس کے قلیل اور طویل مدتی اہداف ہوں تاکہ معاشرے کے اندر موجود تمام معاشی طبقات کے ساتھ انصاف کیا جا سکے اور سماجی نقل و حرکت (mobility) پر زور دیا جائے"۔
ہمیں ہر سال "بجٹ دستاویزات" کے طور پر پیش کیے جانے والے بے معنی اعداد و شمار اور اشاریہ جات کا حوالہ دینے اور ان کا تجزیہ کرنے میں قیمتی انسانی گھنٹے ضائع نہیں کرنے چاہئیں۔ اس سال کا مالیاتی بل بھی ہمیشہ کی طرح امیر اور طاقتور کو تحفظ فراہم کر رہا ہے اور متوسط طبقے اور غریبوں پر ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو حسب عادت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پیشگی شرائط کا بہانہ بنا کر پیش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی سربراہ نے کھلے طور پر کہا تھا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اپنے امیر افراد سے ان کی اسطاعت کے مطابق ٹیکس حاصل کرے‘‘۔
ہمیں بجٹ کے لیے ایک نئے پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے، جو صرف مراعات یافتہ طبقے کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے خوشحالی کو یقینی بنائے۔ میرے قابل دوست نے آسانی سے اس پر اتفاق کیا۔ محمد اورنگزیب اور ان کی ٹیم نے جو کچھ پیش کیا اس کے بیان کے لیے، یعنی وقت کے زیاں، کا یہ موقع نہیں ہے۔ آئیے ہم اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ انہوں نے کیا پیش نہیں کیا — ان کا بنیادی قصور یہ ہے کہ انہیں جو کرنا چاہیے وہ انہوں نے نہیں کیا۔
پاکستان کی معیشت مراعات یافتہ طبقوں (ریاستی اشرافیہ) کی خدمت کرتی ہے، جو کہ کل آبادی کا ایک فیصدسے بھی کم ہیں، لیکن ٹیکس دہندگان کے پیسے کی قیمت پر بے مثال مراعات اور فوائد حاصل کرتے ہیں ۔ طاقتور غیر حاضر (absentee) زمیندار بے زمین کاشتکاروں کی محنت کا استحصال کرتے ہیں، اور بہت سے صنعت کار اور تاجر زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے لیے غریب شہری مزدوروں کا استحصال کرتے ہیں۔ مزید برآں، وہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کرتے ہیں تاکہ غریبوں اور مقررہ آمدنی والے طبقے کی طرف سے جو کچھ بھی کمایا جاتا ہے اسے واپس لے سکیں۔
2006 میں، معروف جریدے 'دی اکانومسٹ' (27 مئی-2 جون، 2006) ،نے دو مطالعات شائع کیے ،جس میں بتایا گیا کہ کس طرح نارڈک ممالک نے فلاحی ریاست کے لیے رقم جمع کرنے کے لیے امیروں پر ٹیکس لگا کر سماجی نقل و حرکت (mobility)اور معاشی انصاف (economic justice) حاصل کیا۔ یہ ممالک "غریبوں کے بچوں کو ان کے والدین سے بہتر کام حاصل کرنے کے وسائل فراہم کرنے میں مدد کرتے ہیں"۔
بلاشبہ، صرف مساواتی مالی انصاف (distributive justice) پر مبنی پالیسیاں ایسے نتائج نہیں لا سکتیں۔ اگر یہ محض اس سے ممکن ہوتا، تو نورڈک ممالک بھی ایسا نہیں کر پاتیں (ان کی فلاحی ریاستیں برطانیہ کی نسبت زیادہ قابل تعریف نہیں ہیں)۔ مگر ان کی کامیابی کی وضاحت زیادہ ٹیکس نہیں بلکہ اس کی مدد سے چلنے والاان کا اعلیٰ تعلیمی نظام ہے۔ تعلیم کو طویل عرصے سے سماجی اٹھان (social mobility)کے سب سے اہم واحد محرک کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے — اور چاروں نورڈک ممالک اسکول کی تشخیص کے نظام میں غیر معمولی طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر ہمارے بجٹ ساز، آئین میں آرٹیکل 25 اے کے اضافے کے 15 سال بعد بھی ایسا تعلیمی نظام قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں، جو کم مراعات یافتہ اور معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ افراد کو اٹھان اور ترقی دے سکے۔
ایک ایسی ریاست میں جہاں آئین "پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم" کے بنیادی حق کی ضمانت دیتا ہے، وہاں بدقسمتی سے استحصالی نجی "تعلیمی صنعت" موجود ہے ، جو کہ مہنگی، معیار کے لحاظ سے قابل رحم اور طبقاتی طور پر امرا کے لئے ہے۔ اگر ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی معاشی پالیسیوں کو آئین کے آرٹیکل 3 اور آرٹیکل 25 اے کے تناظر میں دیکھیں تو یہ محض عوام دشمن ہیں۔
ہماری حکومتیں سماجی و معاشی اٹھان (upward mobility)کے لیے مساواتی منصفانہ (distributive justice) مالیاتی پالیسیوں اور سماجی بہبود کے پروگراموں سے بالکل غافل ہیں۔ غریبوں کو نام نہاد "معاشی ریلیف پیکج" ، بھیک (charity)کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ نام نہاد" ریلیف" صرف کاسمیٹک نوعیت کی ہے، اور پالیسیوں یا بجٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے، جس کا مقصد غریبوں کو سماجی و معاشی لحاظ سے اوپر کی طرف بڑھنے میں مدد کرنا ہو۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نہ صرف تعلیم پر زیادہ رقم خرچ کرنا اہم ہے، بلکہ پورے تعلیمی نظام کو سماجی نقل و حرکت کے لیے ایک موثر ہتھیار کے طور پر کیسے استعمال کرنا ہے ، اس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کی طرف سے اس تصور کو سمجھنے کا مکمل فقدان ہے، اور نتیجہ یہ ہے کہ معاشرے کے غریب طبقات کو انتہائی غربت کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے—اس کی تمام شعبہ ہا ئے زندگی کے افراد کی طرف سے بھر پور مذمت ہونی چاہیے۔ موجودہ نظام تعلیم سے غریب طبقات کے بچوں کو آگے بڑھنے کا موقع کبھی بھی نہیں ملے گا۔ اکثریت کو تو میعاری تعلیم میسر ہی نہیں ہے، یا جو میسر ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
وفاقی اور صوبائی بجٹ 2025 حساب کتاب اور ہندسوں کو متوازن کرنے کی ایک اور معمول کی مشق ہے (وہ بھی ونڈو ڈریسنگ کے ذریعے)۔ پاکستان کو بامقصد اور منصفانہ معاشی و مالی پالیسیوں جو مساواتی انصاف (redistributive justice) پر مبنی ہوں کی اشد ضرورت ہے، جو پسماندہ افراد کو معاشی اور سماجی اٹھان اور ذہنی ترقی دے سکیں۔ اس ہدف کی طرف وفاقی اور صوبائی بجٹوں میں کچھ بھی نہیں ہے - پچھلے تمام بجٹوں کی طرح، یہ بھی مایوس کن دستاویز ہیں۔
____________________________________
حذیمہ بخاری اور ڈاکٹر اکرام الحق، وکالت کے شعبے سے وابسطہ اور متعدد کتابوں کے مصنف، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ایڈجنکٹ فیکلٹی، ممبر ایڈوائزری بورڈ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے سینئر وزیٹنگ فیلو ہیں۔