Get Alerts

فنانس ایکٹ 2025 اور پاکستان کی استحصالی معیشت – اشرافیہ کے لیے مراعات، عوام پر بوجھ

بینکر وزیرِ خزانہ کا بجٹ طاقتور طبقات کو مزید فائدے عوام پر مہنگائی کا نیا طوفان، پارلیمان محض ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی

فنانس ایکٹ 2025 اور پاکستان کی استحصالی معیشت – اشرافیہ کے لیے مراعات، عوام پر بوجھ

پاکستان کی معشیت پر اشرفیہ ( کسی نے مشورہ دیا ہے کہ اس کے لئے مناسب اصطلاح 'استحصالیہ ' ہے) کا کنٹرول، حکمرانی اور اثر ہے۔ استحصالی اشرفیہ (exploitative elites) میں ناقابل تسخیر ملٹری اورسول بیوروکریسی، اعلیٰ عدلیہ، غیر حاضر جاگیردار ( خود یا سیاست میں ان کے مہرے) ، امیرسیاست دان صنعتکار ،  سیاسی مذہبی اور نام نہاد روحانی پیشوا ، میڈیا ٹائیکونز  (media tycoons)اور ان کے ہر فن مولا اینکرز (anchors) ، اور طاقتور تاجر شامل ہیں۔
بے شرمی کے ساتھ قانون کی حکمرانی (rule of law) کو پامال کرنا پاکستانی استحصالی اشرفیہ کی پہچان ہے۔ اشرفیہ کے بگڑے ہوئے چھوکرے بھی مختلف مذموم حلقوں، حتیٰ کہ منظم مافیا گروہوں میں شامل ہیں۔ ہر قسم کی غیر قانونی اور ناپسندیدہ سرگرمیوں کے لیے   پیسے اور طاقت کی  بے ہودہ  نمائش ، ان کے لئے یہ ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ  وہ ریاست کے طاقتور ترین  افراد ہیں ۔
 بھلے وقتوں میں 'اشرفیہ'      کا احترام 'شرفاء' کے طبقے کے طور پر کیا جاتا تھا اور بہت زیادہ عزت کی جاتی تھی، لیکن نوآبادیاتی نظام کے بعد نام نہاد آزاد پاکستان میں اب یہ اصطلاح  پیسے  اور  طاقت کے بھوکے طبقوں   کی  نشاندہی کرتی ہے، جو   اپنے بد اعمال  سے ظاہر کرتے ہیں کہ گویا یہ ملک ان کی ذاتی جاگیر ہے، اور قانون کی سراسر خلاف ورزی ان کے  لئے جائز  ہے ، جیسا کہ ان کا یہ موروثی حق ہے!
فنانس ایکٹ 2025، جسے 26 جون  2025 کو قومی اسمبلی نےمنظور کیا اور 29 جون 2025 کو صدر پاکستان کی منظوری سے یکم  جولائی2025  سے نافذالعمل ہے ، بینکر سے بنے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 10 جون 2025 کو  قومی اسمبلی میں روایتی شور شرابے کے درمیان پیش کیا۔ 
فنانس ایکٹ 2025اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کس طرح استحصالی اشرفیہ کو نئے بے مثال فوائد دیے گئے ہیں ،علاوہ ان رعایتیوں کے جو ان کو پہلے سے مل رہی ہیں۔ دوسری طرف عام شہریوں پر مزید رجعتی (regressive) ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
 کم تنخواہ والے ملازمین کے ٹیکس میں معمولی  سی کمی کی گئی، مگر   اسکو نئے مالی سال کے پہلے ہی روز یعنی   یکم  جولائی2025   سے ہی گیس ، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں   میں ہوش  ربا   اضافے   بذریعہ نئی ماحولیاتی معاونت لیوی (climate support levy)، غیر معمولی پیٹرولیم لیوی   اور ایک دن کے چوزے پر10 روپے کی انتہائی غیر حساس فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ذریعے ختم  کر دیا گیا!   ان اضافوں  سے عام  خورد و نوش کی اشیاء میں اضافہ بھی  نا گزیر ہو جائے گا، کیوں کہ آمدنی کے لحاظ سے  ٹیکس نا ادا  کرنے والے صنعت کاروں اور  تاجروں کا یہ وطیرہ خاص ہے۔
انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے دوسرے شیڈول میں امیروں اور طاقتور افراد اور اداروں کو میسر ایک بھی ٹیکس چھوٹ کی واپسی کی تجویز  مالیاتی بل 2025 میں نہیں دی گئی تھی ، جس سے رواں مالی سال کے لئے   6500 ارب روپے کے  مالیاتی خسارے کو پورا کرنے میں کچھ مدد حاصل ہو سکتی ۔ اس کے برعکس بینکوں اور دیگر اداروں، اور دوست ممالک سے مزید قرضے لے کر قوم کو’قرضوں کی قید‘ میں مزید دھکیلنے کا عندیہ دیا گیا ہے،  جسیا کہ ماضی میں ہوتا رہا۔
بجٹ 2025 میں پاکستان کو خود کفیل معیشت بنانے کی طرف کوئی جھکاؤ نہیں ہے۔ اس کے برعکس، اس کا  مرکزی نکتہ مزید مہنگے قرضوں کو حاصل کرنا ہے، جبکہ31 مارچ 2025 تک 76 ٹریلین روپے کا مجموعی عوامی قرضہ (public debt) پہلے ہی خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے ۔ اس بجٹ میں ، تمام پچھلی حکومتوں کی طرح، امیروں کے لئے مراعات در مراعات، اور عام عوام پر مزید اعلی شرح کے  بالواسطہ (indirect) محصولات کی بھر مار ہے۔
استخراجی اشرفیہ (extractive elites) کے زیر کنٹرول پاکستان کی معیشت بلاشبہ مراعات یافتہ  طبقات کے مفادات کو پورا کرتی ہے۔ حکمران   ریاستی  استحصالیہ  (ruling State Oligarchy) ، جو پوری آبادی کے  %1  سے بھی کم کی نمائندگی کرتی ہے ، قومی وسائل کے %95  کی مالک  ہے۔   طبقات استحصالیہ  زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے لیے بے زمین کاشتکاروں، غریب شہری صعنتی   مزدوروں اور سفید  پوش  ملازمین  کا استحصال کرتے ہیں۔ ان  کی محافظ  اور مدگار ریاستی  استحصالیہ ان کی  سیاسی بالا دستی کے لئے عوام کے   ووٹ چراتی   ہے ۔ وہ اقتدار میں آ کر ان کی جی حضوری کے ساتھ ساتھ، 98    فیصد  عام لوگوں کی طرف سے جو کچھ بھی کمایا یا بچایا جاتا ہے، اسے واپس لینے کے لیے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بار بار مصنوعی اضافہ کرتے ہیں۔ یہ ہے:" افراطِ زر بغیر قانون سازی کے ٹیکس ہے
اس قسم کی استخراجی ریاست (The Land of the Pure) کے ارتقاء کو اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے اپنی کتاب Pakistan: Economy of an Elitist State میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔
 اس کتاب میں ڈاکٹر عشرت نے مشاہدہ کیا ہے کہ تیز رفتار اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں غربت میں تیزی سے کمی اور ترقی کے ثمرات کی زیادہ منصفانہ تقسیم پر مبنی ’مشترکہ ترقی‘ کے مشرقی ایشیائی ماڈل کے بالکل برعکس، اشرافیہ کا ماڈل سیاسی اور معاشی اختیارات اشرافیہ کے ایک چھوٹے گروہ (طفیلیوں) کو دیتا ہے۔ یہ ہماری معاشی خرابیوں اور اشرافیہ کے بجٹ کی جڑ ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکمران تگڑی ——یعنی طاقتور ملٹری کمپلیکس اور اس کے سویلین غلام ، بدعنوان سیاست دان اور بے ایمان کاروباری حضرات——بجٹ اور ٹیکس سمیت تمام معاملات میں اراکین پارلیمنٹ پر  اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہیں۔ تمام سطحوں پر بجٹ بنانے کا پورا عمل اس ملک کے عوام کے تئیں ارکان پارلیمنٹ کی بے حسی کا مظہر ہے، جو انہیں اس امید کے ساتھ اقتدار میں لاتے ہیں کہ وہ ان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے کچھ کریں گے یا کم از کم انہیں بنیادی ضروری خدمات یعنی تعلیم  و صحت ،رہائش اور  ٹرانسپورٹ، فراہم کریں گے۔
حتیٰ کہ دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور ٹیکس کو بھی کبھی نہیں بتایا گیا کہ بجٹ میں کیا پالیسیاں اور ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے۔ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اپنا دوسرا بجٹ پیش کرنے سے قبل انہیں کوئی بریفنگ دینے تک کی زحمت تک نہیں کی تھی۔
قومی اسمبلی کے قابل احترام  ممبران (MNAs) کبھی بھی اس بات پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتے کہ رجعت پسند ٹیکسوں کے ہماری بیمار معیشت پر پڑنے والے  منفی اثرات اور اس پاک سرزمین کے غریبوں پر  تباہ کن بوجھ ہیں۔
ان کالموں میں  بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جمہوریت  محض انتخابات نہیں ہے۔ عوام کی ضروریات کا خیال رکھنے والی ایک ذمہ دار حکومت کا قیام حقیقی جمہوری نظام کے لیے شرط اول ہے، جو صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب پارلیمنٹ اپنا آئینی کردار ادا کرے، احتساب کے بے عیب عمل کو نافذ کرے اور گڈ گورننس کو یقینی بنائے۔ آئینی  طور پر کابینہ پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے! تاہم، حقیقت یہ ہے کہ  ممبران قومی  اسمبلی اور سینیٹ محض ذاتی مفادات کے لیے وزراء کے پیچھے بھاگتے  ہوئے نظر آتےہیں۔
پارلیمانی عمل اور شفافیت کے تمام اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے، اتحادی حکومت نے  ماہرین  کے علاوہ سینیٹ اور قومی اسمبلی  میں اپوزیشن ارکان کی تجاویز اور ترامیم کو نظر انداز کرتے ہوئے فنانس بل 2025 کی منظوری حاصل کی۔
جہاں تک انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے حکم پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے بجٹ کی تشکیل اور ٹیکس اقدامات کی منظوری کا تعلق ہے، پارلیمنٹ میں ٹریژری بینچوں  (treasury benches)نے ایک بار پھر ربڑ سٹیمپ  (rubber stamp)کے سوا کچھ  کردار ادانہیں کیا۔
ہر مہذب اور جمہوری معاشرے میں، یہ منتخب اراکین کا واحد استحقاق ہوتا ہے کہ وہ عوامی رائے لینے کے بعد قانون سازی اور قومی پالیسیوں کی تشکیل کا عمل شروع کریں۔ یہ جمہوری عمل کا بنیادی اصول ہے کہ کوئی بھی قانون یا پالیسی اس وقت تک نہیں بنائی جانی چاہیے جب تک پارلیمنٹ میں اس پر مکمل بحث نہ ہو۔
پاکستان میں، نام نہاد منتخب حکومتیں ہمیشہ پارلیمانی عمل کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور پھر اپوزیشن کی جانب سے "جمہوری طرز عمل اور ثقافت" کے فقدان کی شکایت کرتی ہیں۔ ہر سال بجٹ سازی کا کام وزارت خزانہ اور ایف بی آر میں بیٹھے بیوروکریٹس کے سپرد کیا جاتا ہے جب کہ پارلیمنٹ اپنے کردار کو خاموشی سے منظوری دینے والے تماشائی تک  محدود رکھتی ہے۔
  بجٹ سازی میں ماہرین    اورعوام  کے حقیقی نمائندوں کی عدم شرکت کی وجہ سے، مالیاتی منتظمین اور ٹیکس جمع کرنے والے ادارے مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور مالیاتی عدم توازن کو دور کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں ،کیونکہ ان کی ٹیکس پالیسیاں معاشرے کے طاقتور طبقوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر یا ان سے اصل میں واجب الادا رقم وصول کیے بغیر، ذرائع (withholding at source)پر ٹیکس جمع کرنے پر مبنی ہیں۔ معیشت اور غریب عوام کی زندگی پر اس کے اثرات کا جائزہ لیے بغیر بالواسطہ  محصولات [یہاں تک کہ متعدد لین دین پر فرضی  (presumprtive) یا کم از  کم (minimum)ٹیکس نظام کے ذریعے انکم ٹیکس کے آڑ میں بھی]  کا بےجا نفاذ  معاشی اور سماجی انصاف کے لئے ایک سنگین تشویش کا سبب ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، انکم ٹیکس کا حصہ [حالانکہ اس کا بڑا حصہ اب بالواسطہ لیویز یا اخراجات کے ٹیکسوں پر مشتمل ہے] کل ملکی جی ڈی پی میں قابل رحم ہے۔ مالی سال 2010-11 میں یہ محض 1.9 فیصد، 2009-10 میں 2.2 فیصد، 2008-09 میں 2.6 فیصد، 2007-08 میں 2.9 فیصد، 2006-07 میں 3.0 فیصد، 2002-2020 سے 2023 تک اوسطاً 3.5 فیصد تھا۔ 2023-24 میں یہ گھٹ کر 3.15 فیصد رہ گیا [ایف بی آر کی سال 2010-11 سے 2023-24 تک کی سالانہ کتابیں اور اقتصادی سروے
گرتے ہوئے براہ راست ٹیکس  اور اس کے جی ڈی پی  میں انتہائی کم تناسب کے  باوجود، محمد اورنگزیب اور ایف بی آر کے اعلی  حکام کا  ٹیکسوں میں "متاثر کن" اضافے ، جو کہ براہ راست افراط زر اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں اضافے کا نتیجہ تھے، کے بڑے بڑے دعوے محض ایک دھوکہ ہیں۔ محض  پیٹرولیم لیوی کا حصہ ، مالی سال 2023-24 میں، وفاقی حکومت کی کل نان ٹیکس ریونیو کا34 فیصد تھا۔
وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی جانب سے اقتصادی سروے 2024-25 اور بجٹ دستاویزات میں اعداد و شمار میں انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ سے غلط بیانی کی گئی ہے۔ درحقیقت، ایف بی آر نے آسانی کے ساتھ سامان، معاہدوں، سپلائیز وغیرہ پر ماخذ پر جمع ہونے والے ٹیکسوں کے حجم کو نظر انداز کر دیا ہے، جو کہ کم از کم اور ناقابل واپسی ہونے کی وجہ سے بالواسطہ لیویز ہیں، یہاں تک کہ بعض صورتوں میں صوبوں کے آئینی حقوق پر تجاوز بھی ہے۔ یہ ڈھٹائی  اور بے شرمی سے ’براہ راست ٹیکس وصولی‘ میں شمار کیے جاتے ہیں۔   افسوس کا مقام یہ ہے کہ نام نہاد ٹیکس ماہرین ، قابل معشیت دان اور آزاد منش  صحافی بھی اس پر سوال نہیں اٹھاتے !
موجودہ ٹیکس نظام اسٹیبلشمنٹ اور استحصالی عناصر کو تحفظ فراہم کرتا ہے، جن کی معاشی وسائل پر مکمل اجارہ داری ہے۔ موجودہ منتخب پارلیمان، جس کی اپنی قانونی حیثیت پر سوالات ہیں ، مراعات یافتہ طبقے پر ٹیکس لگانے کی جسارت تو دور کی بات ان کو دی گئی ٹیکس چھوٹ کو بھی واپس لینے کو تیار نہیں ہے۔
 30 جون 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے انکم ٹیکس کے کل اخراجات (tax expenditure)   545بلین روپے رہے جو کہ   مالی سال 2023 میں  477 بلین روپے  تھے۔ 30 جون 2025 کے اعداد و شمار تا حال سرکاری طور پر فراہم نہیں     کیے گیے  مگر  ظاہر ہے کہ یہ کسی  بھی صورت600  بلین روپے  سے کم نہیں ہوں گے ۔  اس حقیت کی موجودگی میں جب طاقت ور افراد اور اداروں  کو اس قدر انکم ٹیکس چھوٹ حاصل ہے   ،  متوسط تنخواہ دار افراد پر اتنا بھاری  انکم ٹیکس لاگو کرنے کا کیا جواز ہے!
سیلز ٹیکس کی زیرو ریٹنگ کے اثرات کے نتیجے میں مالی سال 2024 کے دوران پٹرولیم مصنوعات  کی درآمدات اور مقامی سپلائی پر 1795.764 بلین روپے کے ٹیکس اخراجات ہوئے ۔ اس سے صوبوں کو قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت 57.5 فیصد کی وصولی کے آئینی حق  سے محروم کر دیا گیا۔ اس رقم کو اب 'ٹیکس اخراجات' [اکنامک سروے 2024-25 کا ضمیمہ II] سے حذف کردیا گیا ہے، جو کہ سراسر  بلا جواز ہے۔یہ ٹیکس سے استثنیٰ تھا اور اس حقیت کو بدلا نہیں جا سکتا.   مندرجہ بالا اعداد و شمار کی بنیاد پر صوبوں کو اپنے واجب الادا حصہ کا مطالبہ کرنا چاہیے، کیونکہ وفاقی حکومت کی جانب سے زیرو ریٹنگ کے سٹیٹوٹری ریگولیٹر آرڈرز (SROs) کے اجراء کا عمل آئین کے آرٹیکل 77 اور آرٹیکل 162 کی صریح خلاف ورزی ہے۔
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کے بدلے میں پیٹرولیم لیوی (ایک نام نہاد نان ٹیکس لیوی جو اصل میں فکسڈ سیلز ٹیکس ہی ہے) کی یکم جولائی 2023 سے 30 جون 2024 تک 1019.223 بلین روپے کی وصولی کی ۔
 سیلز ٹیکس کے صفر کیے جانے کی وجہ سے وفاق پاکستان اور صوبوں کو  محصولات میں  قابل قدر نقصان ہوا ہے۔ پیٹرولیم لیوی  کو انتہائی بلند سطح پر لے جانے سے عام عوام پر اس کا بوجھ تو بڑھا ہی ہے مینوفیکچررز   ان پٹ ٹیکس سے بھی ہاتھ دھو   بیھٹے ہیں۔ اس طرح نہ صرف آئین کی سنگین خلاف ورزی کی گئی، بلکہ صوبوں کو بھی 1032.654 بلین روپے کے جائز حصے سے محروم کر دیا گیا ، اور قومی خزانہ کو 776.541 بلین روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ۔ مالی سال 2025 میں بھی یہی رجحان تھا ، جو ابھی شروع ہوئے مالی سال 2026 میں جاری ہے۔حیرت ہے کہ اس پر نہ ہی مرکز اور نہ ہی وفاق کی توجہ ہے۔اور تو اور ہمارے قابل قدر معشیت دان، عقابی نگاہیں رکھنے والی صحافی اور آئی ایم ایف کے نام نہاد ماہرین بھی اس نقصان اور آئین کی خلاف ورزی کا نوٹس نہیں لے پائے!
بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار، جو کہ کل وفاقی وصولی کا 75 فیصد بنتا ہے ،کسی شک سے بالاتر ہے کہ غربت میں اضافے میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے، کیونکہ جو لوگ بے تحاشا آمدنی کماتے ہیں اور بے پناہ دولت رکھتے ہیں پاکستان میں ان پر  انکم ٹیکس عائد نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس طرح مالیاتی ایکٹ 2025 اور مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں ٹیکس کے بنیادی مقصد، یعنی دولت کی منصفانہ تقسیم ،کا مقصد ہی کالعدم ہو گیا ہے۔
حکومت کی موجودہ ٹیکس پالیسیاں معیشت،  معاشی وسماجی انصاف، کاروبار اور صنعت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ جو لوگ زیادہ معاشی طاقت (آمدنی اور دولت) رکھتے ہیں انہیں سرکاری خزانے میں زیادہ حصہ ڈالنا چاہئے مگر پاکستان میں آئی ایم ایف کی آشیرباد سے اس کا الٹ ہو رہا ہے  ۔
ادا کرنے کی 'اہلیت ' (ability to pay)کے اصول کو ٹیکس لگانے کا سب سے زیادہ منصفانہ اور شفاف طریقہ سمجھا جاتا ہے اور بنیادی طور پر اس کے ذریعے وسائل کی منصفانہ تقسیم کرنے والے ٹیکس نظام کے کردار پر زور دیا جاتا ہے۔
 پاکستان میں ہماری یکے بعد دیگر آنے والی حکومتیں، سول اور ملٹری یکساں طور پر، اس اصول سے مکمل انحراف کر تی رہی ہیں، جو حقیقت میں ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کو خاص طور پر مختلف قسم کے بحرانوں کا سامنا  رہاہے: (i) ترقیاتی پالیسیوں کے لیے وسائل کی کمی، (ii) تجارتی خسارے کو پورا کرنا، اور (iii) مالیاتی خسارے اور ادائیگیوں کا توازن ۔ 
موجودہ صورتحال کے ذمہ دار عوامل میں سے ایک کالا دھن پیدا ہونے کی تیز رفتاری ہے ۔ ایف بی آر اس رجحان کا براہ راست ذمہ دار ہے کیونکہ اس کی مافیا جیسی کارروائیوں نے لوگوں کو "  ان کا ذاتی حصہ"  ادا کرکے آمدنی پر ٹیکس سے بچنے میں مدد فراہم کی ہے۔
 ایس آر اوز کے بدنام زمانہ نظام کے ذریعے، ایف بی آر کے اعلیٰ حکام معاشرے کے طاقتور طبقوں (اشرفیہ یا  استحصالیہ جو بھی  من کو زیادہ بھا ئے) کو بہت زیادہ دولت اکٹھا کرنے کے لیے "قانونی" طریقے اور ذرائع بھی فراہم کرتے ہیں جو کہ اب ریاست کی بقا کے لیے خطرہ ہے۔
عام شہریوں  کے استعمال کی اشیاء پر بے تحاشا سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس کی وصولی زیادہ تر  ماخذ  (source)پر عائد ہوتی ہے۔ کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز، لازمی ویلیو ایڈیشن اور انکم ٹیکس کے بعد تیار شدہ درآمدی سامان اور دیگر بہت سی اشیاء پر ٹیکس کی شرح %35 سے %55 تک ہے۔
پاکستان میں  ضروری کھانے پینے کی اشیاء [برانڈ کے ناموں سے فروخت ہونے والے نمک ] پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ یہ شرح غربا اور متوسط طبقے کے لئے تباہ کن ہے کیوں کہ ریاست اس کے بدلے میں ان کو بنیادی ضروریات جو  کہ آئین کا تقاضا ہے وہ بھی فراہم نہیں کرتی۔ تاہم، معاشرے کے طاقتور طبقے جیسے جرنیلوں، ججوں، اور اعلیٰ عہدے پر فائز بیوروکریٹس، جو ریاست سے پلاٹ حاصل کرتے ہیں، اپنے بھاری اثاثوں/آمدنی پر کوئی ویلتھ ٹیکس/انکم ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں۔ یہی حال بڑے صنعت کاروں اور زمیندار طبقے کا ہے جو ایس آر اوز کے ذریعے مراعات اور چھوٹ حاصل کرتے ہیں۔
ٹیکس پالیسی کو تیز رفتار صنعت کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ،عوام کو لوٹنے کے آلے کے طور پر۔ غیرپیداواری شعبوں پر ٹیکس لگانا ناگزیر ہے، تاکہ رقم کو پیداواری شعبوں کی طرف موڑ دیا جا سکے ،اور ٹیکس نظام کی دولت کی منصفانہ تقسیم کے چارٹر کو یقینی بنایا جائے، یعنی غریبوں کے فائدے کے لیے امیروں پر ٹیکس لگانا۔ اس وقت، ہم امیروں کے فائدے کے لیے غریبوں پر ٹیکس لگا رہے ہیں، جیسا کہ فنانس ایکٹ 2025 سے ثابت ہے۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اس رجحان کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
__________________________________________

حذیمہ بخاری اور ڈاکٹر اکرام الحق، وکالت کے شعبے سے وابسطہ اور متعدد کتابوں کے مصنف، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ایڈجنکٹ فیکلٹی، ممبر ایڈوائزری بورڈ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے سینئر وزیٹنگ فیلو ہیں۔

مضمون نگار وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) میں ایڈجنکٹ فیکلٹی، ممبر ایڈوائزری بورڈ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے سینیئر وزٹنگ فیلو ہیں۔