Get Alerts

31 جنوری کے وقاعات کسی وقتی رد عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ عسکری حل کے فارمولے کا منطقی انجام ہیں

ایک طرف بلوچ نوجوان انہیں اپنا دشمن اور قومی غدار سمجھتے ہیں جب کہ دوسری طرف مقتدر حلقے بھی ان سے خوش نہیں ہیں اور انہیں مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے وہ بیچارے تین میں ہیں نہ تیرہ میں لیکن پھر بھی وہ اقتدار کے اس نوآبادیاتی کھیل میں شراکت کے خواہاں ہیں۔

31 جنوری کے وقاعات کسی وقتی رد عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ عسکری حل کے فارمولے کا منطقی انجام ہیں

بلوچستان میں جو بھی واقعہ رو نما ہوتا ہے تو اسے بیرونی سازش یا نئی گریٹ گیم کا حصؑہ قرار دے کر اصل اور بنیادی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ ان تمام واقعات و عوامل کا تعلق کہیں نہ کہیں بلوچ قومی سوال سے ہے جو ایک تاریخی، سماجی اور فکری پس منظر رکھتا ہے۔ بلوچ بیانیے کے مطابق ان کے مادرِ وطن کو دھوکہ اور طاقت کے بل بوتے پر پاکستان میں شامل کیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں انہیں اپنی قومی شناخت اور زیر زمین قومی دولت سے محروم ہونا پڑا۔ یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جو گذشتہ سات دہائیوں سے ہر مسلح مزاحمت، سیاسی اور عوامی تحریکوں کا ماخذ بنا ہوا ہے۔ جو خالصتا ایک سیاسی، فکری اور انسانی مسئلہ ہے لیکن اسے عموما سکیورٹی اور طاقت کے نقطۂ نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اسی مخصوص زاویے اور نقطۂ نظر سے اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نتیجتاً یہ مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید گھمبیر اور پیچیدہ شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اب تو یہ مسئلہ دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو چکا ہے۔ جہاں عالمی نشریاتی ادارے، تھنک ٹینک اور مختلف تحقیقی انسٹیٹیوٹ اس مسئلے کے پس منظر اور حساسیت کو اپنے سنجیدہ مباحث اور مکالموں کا حصّہ بنا رہے ہیں اور اس کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کر رہے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال بلوچستان میں 58 ہزار سے زائد مختلف آپریشنز کیے گئے ہیں جو ہر دن کے 161 آپریشنز بنتے ہیں۔ اس حساب سے تو بلوچستان میں مثالی امن و امان قائم ہو چکا ہوتا لیکن اس کے باجود 31 جنوری کا واقعہ رونما ہوا جس سے ناصرف بلوچستان بلکہ پورا پاکستان ہل گیا۔ اس لئے یہ سوال ایک مرتبہ پھر انتہائی شدو مد کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر امن و امان اور سکیورٹی کے نام پر سالانہ نوے ارب روپے کا بجٹ خرچ کرنے والے حملے کے دوران کہاں تھے؟ وہ کیوں سکیورٹی کو یقینی بنانے میں مسلسل ناکام نظر آرہے ہیں؟

اتنی خطیر رقم، اتنے صوبائی محکمے، بھاری بھرکم وزرا، پارلیمانی سیکریٹریز، مشیر، ڈی سی اور ڈی پی اوز بمعہ اپنے سکیورٹی اور لاؤ لشکر کے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بارہ شہروں پر مسلح عسکریت پسندوں کا قبضہ ان سب کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ حالانکہ پورا بلوچستان سکیورٹی کے انتہائی سخت حصار میں ہے۔ جگہ جگہ چیک پوسٹ اور ناکے قائم ہیں۔ انتہائی سخت چکینگ ہوتی ہے، سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ کسی پرندے کو بھی پر مارنے کی اجازت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کوئٹہ کے ریڈ زون اور گوادرپورٹ تک رسائی حاصل کرنا معمولی بات نہیں۔

شاید ان سکیورٹی خدشات کے باعث مائیننگ کی عالمی کمپنی بیرک گولڈ نے سونے اور تانبے کی عالمی سطح کے منصوبے ریکوڈک کے لئے مالیاتی معاملات کی تکمیل کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں کام کرنے والی تمام غیر ملکی کمپنیوں نے اپنے منصوبوں کو شروع کرنے سے پہلے سکیورٹی کے حالات و معاملات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جب کہ حکومت نے ماضی کی طرح اصل مسئلے پر توجہ دینے کی بجائے بلوچستان کے عوام کے وسائل اور ٹیکس کے پیسوں سے ایک اور نئی سکیورٹی فورس بنانے، وزیر اعلیٰ ہاؤس سمیت سیکریٹریٹ اور اعلیٰ حکام کے دفاتر اور سرکاری رہائشی علاقوں کو محفوظ بنانے کے لئے کنکریٹ کی بلند دیواریں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کنکریٹ کی دیواریں بنانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا جب تک پالیسیوں اور رویوں پر نظر ثانی نہیں جاتی کیونکہ بلوچستان کا مسئلہ سکیورٹی کا نہیں بلکہ ایک قومی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ لیکن یہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔

قابلِ دلچسپ امر یہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت میں شامل کوئی بھی رکن اسمبلی صوبائی وزارتِ داخلہ کا قلمدان لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ حالانکہ عمومی صورتحال میں وزارتوں کی تقسیم اور بندر بانٹ پر لڑائی جھگڑے اور اختلافات ہوتے ہیں۔ لیکن اس وزارت کے معاملے میں صورتحال باالکل مختلف ہے۔ حالانکہ یہ ایک انتہائی اہم اور منافع بخش وزارت ہے، مال بنانے اور پیسہ کمانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ چونکہ موجودہ صورتحال میں یہ ایک بہت بڑا چیلنج اور بوجھ ہے اس لئے کوئی رکن اسمبلی اسے لینے کے لئے تیار نہیں ہے جو بلوچستان کی مخدوش صورتحال کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

لیکن اس کے باوجود بلوچستان میں پیپلز پارٹی کا وزیر اعلیٰ سلطان راہی کی طرح بڑھکیں مارہا ہے، سیاسی مخالفین کو دھمکیاں دے رہا ہے، اپنی کار کردگی دکھانے کی بجائے اپوزیشن کا کردار ادا کر رہا ہے اور نوجوانوں کو اُکسا رہا ہے۔ یہ واحد صوبائی حکومت ہے کہ خود ہڑتالیں کراتی ہے، شاہراؤں اور کاروباری سرگرمیوں کو بند کرواتی ہے۔ کبھی روزگار کو سمگلنگ کا نام دے کر بارڈر کو بند کر دیا جاتا ہے تو کبھی انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی سہولیات سے صارفین کو محروم کیا جاتا ہے۔ کبھی میرٹ اور شفافیت کے نام پر ہونے والے ٹیسٹ اور انٹریو عین وقت پر ملتوی کروائے جاتے ہیں۔

اگر بلوچستان میں انسانی ترقی کے اشاروں پر نظر دوڑائی جائے تو بلوچ قوم انتہائی تلخ حالاتِ زندگی کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں غربت، بے روزگاری اور ناخواندگی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق پسماندگی کے اعتبار سے پاکستان کے بیس پسماندہ ترین اضلاع میں سے گیارہ اضلاع کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ جن میں وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا اپنا آبائی علاقہ اور ضلع ڈیرہ بگٹی بھی شامل ہے جہاں سوئی سے نکلنے والی گیس کی بدولت پنجاب کی فیکٹریاں اور اسلام آباد کے حکمرانوں کے محلات توانائی حاصل کرتے ہیں۔ لیکن خود سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے مقامی بلوچ اس نعمت سے محروم ہیں جو ہزاروں سالوں سے اس قومی دولت کی حفاظت کرتے چلے آ رہے ہیں۔

ایک اور تشویشناک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کینسرکے مریضوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ گذشتہ سال کینسر کے مریضوں کی تعداد میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یعنی کل 22 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو ایک سنگین انسانی بحران کی واضح علامت ہے۔  بلوچستان میں ویسے ہی سرکاری اسپتال خستہ حال ہیں۔ ضروری ادویات ناپید ہیں، بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک طبعی مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی نااہلی اور نوآبادیاتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جس کی مثال گوادر کا کینسر اسپتال ہے جسے نارووال میں تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

اس خاموش قاتل کے اسباب و عوامل کی تحقیقات کی اشد ضرورت ہے تا کہ پتہ چلے کہ کہیں یہ ایٹمی تابکاری کے اثرات تو نہیں ہیں۔ لیکن یہ تحقیقات کرے گا کون؟ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف بلوچوں کو بھوک، افلاس اور بیماریاں مار رہی ہیں تو دوسری طرف ریاستی ادارے بھی ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ان کی اپنی سرزمین ان کے لئے جہنم بنا دی گئی ہے۔ یہ وہ اسباب و عوامل ہیں جو بلوچ مسئلے کی حساسیت اور شدّت میں روز بروز اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔

دوسری طرف بلوچستان میں پُر امن اور شہری سیاست کے امکانات کو بھی مکمل ختم کر دیا گیا ہے۔ میڈیا کی طرح سیاست بھی مکمل کنٹرولڈ ہے۔ ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ کی قیادت میں عوامی اور انسانی حقوق کی تحریک جو خالصتاً ایک پُر امن اور جمہوری تحریک تھی اسے بھی برداشت نہیں کیا گیا۔ اس کے جائز آئینی و قانونی مطالبات کو سکیورٹی کے لبادے میں پیش کر کے اس تحریک کے عوامی چہرے کو بری طرح مسخ کرنے کی کوشش کے ساتھ اس کی پوری قیادت کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ یوں بلوچستان میں انسانی حقوق کی تحریک، سیاسی و جمہوری تحریک کے ساتھ تنقید، سوال اور اختلاف رائے کو بھی ایک بدترین جرم بنا دیا گیا ہے۔

ایف آئی آر اور فورتھ شیڈول جیسے کالے قوانین کو بطور ہتھیار سیاسی مخالفین اور مخالف آوازوں کو دبانے اور خاموش کرانے کے لئے شدت کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت کی نااہلی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک ڈی آر اے الاؤنس کی خاطر اپنے ہی سرکاری ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں جیلوں میں ڈالا گیا۔ گفت و شنید کی بجائے ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔ سفید پوش ملازمین، اساتذہ اور پروفیسروں کو سڑکوں پر گھیسٹا گیا، ان کی انتہائی تذلیل کی گئی اور ان کے ساتھ جو ہتک آمیز رویہ اپنایا گیا، یہ پیپلز پارٹی کی موجودہ مخلوط حکومت کے وہ سیاہ کارنامے ہیں جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

ان نو آبادیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں لوگوں کا اعتماد پارلیمانی نظام اور حتیٰ کہ سیاسی عمل سے اٹھ چکا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وہ بلوچ قوم پرست پارلیمانی جماعتیں جو جمہوری اور پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتی تھیں ان کے لئے بھی سیاسی سپیس ختم کر دی گئی ہے۔ آئندہ کی پارلیمنٹ کے لئے ابھی سے ایک نئی کنگز پارٹی بنانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ حالانکہ وہ کئی دفعہ ریاست سے اپنی وفاداری کا حلف اٹھا چکی ہیں لیکن اس کے باوجود طاقت کے مراکز ان سے سخت ناراض ہیں۔ وہ اب ناپسندیدہ اور ناقابل قبول ہیں۔ ان کی بدقسمتی دیکھیں کہ ایک طرف بلوچ نوجوان انہیں اپنا دشمن اور قومی غدار سمجھتے ہیں جب کہ دوسری طرف مقتدر حلقے بھی ان سے خوش نہیں ہیں اور انہیں مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے وہ بیچارے تین میں ہیں نہ تیرہ میں لیکن پھر بھی وہ اقتدار کے اس نوآبادیاتی کھیل میں شراکت کے خواہاں ہیں۔

بلوچستان کی زمین انتہائی حساس ہے۔ حالیہ واقعات کسی وقتی رد عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ زمینی حقائق سے مسلسل چشم پوشی اور عسکری حل کے فارمولے کے نتیجے میں ایک گہرے سیاسی اور سماجی بحران کی پیداوار ہیں جب کہ بلوچ عوام اپنی تاریخی سرزمین پر جینے کا حق مانگ رہے ہیں جو ان کا بنیادی آئینی اور انسانی حق ہے اور یہ حق و اختیار بلوچ عوام کا ہے کہ وہ اپنے خطے کے وسائل سے مستفید اور سیاسی و معاشی حوالے سے بااختیار ہوں۔ ریاستِ پاکستان کے ساتھ سیاسی و معاشی تعلق و رشتہ کی وضاحت خود کرنے کے قابل ہوں۔ جارحیت، سخت گیری اور نوآدیاتی کنٹرول کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔