Get Alerts

فہد vs شان پھر آمنے سامنے، عید پر ہوگا بڑا فلمی دنگل

ایک بار پھر فہد مصطفیٰ اور شان کا ٹکراؤ ہوگا۔ چھوٹی عید پر فہد کی فلم اگ لگی بستی میں نے 90 کروڑ جبکہ شان کی بلھا نے 22 کروڑ کا بزنس کیا تھا، اور فہد مصطفیٰ فلمی ریس بڑے مارجن سے جیت گئے تھے۔ اس بار توقعات فہد کی فلم Zombeid سے بہت زیادہ ہیں۔

 فہد vs شان پھر آمنے سامنے، عید پر ہوگا بڑا فلمی دنگل

چھوٹی عید کے بعد اب بڑی عید کی فلموں کا بازار سج چکا ہے۔ جنوبی ایشیا کے عوام عیدین، دیوالی، ہولی اور کرسمس پر خوب فلمیں دیکھتے ہیں۔ اس بار بھی عیدالاضحیٰ پر بھارت اور پاکستان میں چار فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں اور عید ویک پر خوب بزنس ہونے کی توقع ہے۔

بھارت میں دھرما فلمز ایک بار پھر ایک روایتی پریم کہانی کے ساتھ آ رہے ہیں۔ کرن جوہر بطور فلم ساز کامیابی کے لیے ترس رہے ہیں۔ ان کی آخری تین فلمیں، دھڑک 2، دو دیوانے شہر میں اور کارتک آریان کے ساتھ میں تیری، تو میرا، تو میری، میں تیرا فلاپ رہی تھیں۔ اب وہ اننیا پانڈے اور لکش کے ساتھ چاند میرا دل لے کر آ رہے ہیں، جس کے ہدایتکار وِک سونی ہیں۔ سچن جگر اور فہیم عبداللہ کا میوزک پہلے ہی ہٹ ہو چکا ہے۔

پاکستان میں فہد مصطفیٰ ایک بار پھر اپنی فلم Zombeid لے کر آ رہے ہیں، جس میں ہیروئن مہوش حیات ہیں جبکہ بابر علی اہم کردار میں نظر آئیں گے۔ اس فلم کا اسکرپٹ اور ہدایت کاری نبیل اشرف نے کی ہے۔

شان کی فلم سائیکو بھی عید کی دوڑ میں شامل ہے، جس کا اسکرپٹ اور ہدایت کاری خود شان نے کی ہے۔ دیگر کاسٹ میں میرا، سونیا حسین، جاوید شیخ اور شبیر جان شامل ہیں۔

فرحان سعید کی Love De Saun بھی عید کی دوڑ میں شامل ہے، جس میں بابر علی بھی موجود ہیں جبکہ ہدایتکار عمران ملک ہیں۔

ایک بار پھر فہد مصطفیٰ اور شان کا ٹکراؤ ہوگا۔ چھوٹی عید پر فہد کی فلم اگ لگی بستی میں نے 90 کروڑ جبکہ شان کی بلھا نے 22 کروڑ کا بزنس کیا تھا، اور فہد مصطفیٰ فلمی ریس بڑے مارجن سے جیت گئے تھے۔ اس بار توقعات فہد کی فلم Zombeid سے بہت زیادہ ہیں۔

یہ چاروں اردو اور ہندی فلمیں بڑی عید پر شائقین کے لیے خوب تفریح کا سامان فراہم کریں گی۔

یہ ایک بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ ہماری فلمیں صرف عید تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ صرف عیدین پر فلمیں لگتی ہیں جبکہ باقی سال خاموشی رہتی ہے، جو اچھی بات نہیں۔ سال میں کم از کم 50 سے زائد فلمیں لاہور اور کراچی کے فلمی مراکز سے لگاتار ریلیز ہوں تو پھر یہ سلسلہ چل پڑے گا۔

حال ہی میں سندھ حکومت اور پنجاب حکومت نے کراچی اور لاہور کے فلمی مراکز کی بحالی کے لیے فنڈز جاری کیے ہیں۔ سندھ حکومت کی فلم میرا لیاری ریلیز ہو چکی ہے جبکہ دوسرے پراجیکٹس زیرِ تکمیل ہیں۔ پنجاب حکومت نے شہریار رفیق، غلام محی الدین، مسعود بٹ اور دیگر کو فنڈز جاری کیے ہیں تاکہ وہ فلمیں بنا سکیں۔

کیا حکومتی آشیرباد سے اچھی فلم بن سکتی ہے؟ یہ ایک سوال ہے، کیونکہ جب آپ کو سرکار سے پیسہ ملتا ہے تو پھر آپ اپنی مرضی کا سچ نہیں دکھا سکتے، صرف سرکاری سچ ہی سلور اسکرین پر دکھایا جاتا ہے۔ ویسے بھی ہمارے سنیما میں آج تک کوئی بڑا سچ بیان نہیں کیا گیا۔ صرف شعیب منصور کی خدا کے لیے اور بول ایک چھوٹی سی کوشش تھیں۔

شان نے جو لاہور اور کراچی کے فلمی مقابلے کی بات کی ہے، درحقیقت وہ چھوٹی عید پر فہد مصطفیٰ کی فلم اگ لگی بستی میں کے شان کی فلم بلھا سے 80 فیصد زیادہ بزنس کرنے کا ردعمل ہے۔ باقی بھارت میں بھی بالی وڈ اور جنوبی فلمی مراکز کے درمیان ایسے مباحث چلتے رہتے ہیں۔

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔