Get Alerts

ایک باخبر صحافی، منفرد شخصیت اور نامور استاد سید نعیم مصطفیٰ

ضیا شاہد نے اسے پھانس لیا۔ اور اسے کہا کہ ایک لاکھ روپے کے شیئر لے لو۔ جب اس نے شیئر لے لیے اور کچھ عرصہ کے بعد واپسی کا تقاضا کیا تو ضیا شاہد نے اپنے سٹاف سے کہا کہ اس شخص کو آفس کی سیڑھیاں نہ چڑھنے دینا۔ وہ 34 برس کی عمر میں اسی صدمے سے جاں بحق ہو گیا۔

ایک باخبر صحافی، منفرد شخصیت اور نامور استاد سید نعیم مصطفیٰ

گلستان میں رنگ برنگے پھولوں کے درمیان کچھ پھول شوخ دل کش رنگوں اور الگ خوشبو لیے ہوتے ہیں۔ آسمان پر ایک ہی چاند ہمیشہ سے موجود ہے اور چند ستارے سیاہ راتوں میں جن کی روشنی سے کچھ مسافر اپنا راستہ دیکھتے ہیں۔ زندگی کے جھمیلوں میں ایک اطیمنان تو یہ بھی ہے کہ ہم کسی ایسی شخصیت کو جانتے ہیں جو ہمیں اس الجھائو سے سلجھنے کا راستہ دکھائے۔

دل میں ایک خیال آیا نعیم مصطفیٰ صاحب سے بہت عرصہ پہلے ملا تھا۔ چلو ان سے جا کے کچھ اپنی بات کروں، کچھ ان کے سفر کے بارے میں پوچھوں۔ ایک متحرک شخصیت اور ہر لمحہ کسی نئی منزل کی جانب گامزن۔ آنکھوں میں یقین، چہرے پر مسکراہٹ، دوست نواز، کسی کی مشکل ہو یا کوئی رُکا ہوا کام، وہ اسے اپنی مصروفیت کے باوجود حل کرنے اور مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔

ان کی سوچ میں گہرے تفکر اور تجزیے کے ساتھ ایک استفسار ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ وہ جواب میں ایک سوال ضرور چھوڑتے ہیں اور زندگی کی اس دوڑ میں کسی مقصد کے لازمی عنصر کا ہونا ان کے لئے بہت اہم ہے۔ نعیم مصطفیٰ اپنے بارے میں کچھ یوں گویا ہوئے

’’میرے آباؤ اجداد ہندوستان سے ہجر ت کرکے پاکستان آئے تھے۔ میری پیدائش اسلام پورہ لاہور کی ہے۔ میں نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1986 میں جرنلزم میں ماسڑز کیا ہے، جس کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ میرے تمام خاندان کا تعلق شعبہ تعلیم سے ہے۔ والد، والدہ، بھائی، کزن سب تعلیمی اداروں میں پڑھاتے رہے ہیں۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کی اولڈ بوائز اسوسی ایشن ایک تنظیم تھی۔ ظہور عالم شہید اور بیدار ملک اس کے عہدے دار تھے، رانا اللہ داد خان صدر تھے اور نائب صدر ظہور عالم شہید اور دوسرے نائب صدر ڈاکڑ رفیق عالم تھے۔ جنرل سیکڑی بیدار ملک تھے۔ ایک کتاب ’’یارانِ مکتب‘‘ جو بیدار ملک کا آئیڈیا تھا، اس کی ترتیب و تدوین اور پروف ریڈنگ میں کر رہا تھا۔ یہ کتاب اولڈ بوائز کے بارے میں تھی کہ ان کا تحریک پاکستان میں کیا کردار تھا۔ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل تھی۔ تمام افراد نے زبانی اپنی روداد بیان کی تھی جسے ہم لکھتے رہے۔ سب سے طویل انٹرویو یونیسکو میں سفیر مرزا نسیم انور بیگ کا تھا۔ ان کا انٹرویو ساڑھے سات گھنٹے پر مشتمل اور انگریزی میں تھا۔ اس کو ٹرانسکرائب کر کے اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ ان میں سب نامور لوگ شامل تھے۔ مجید نظامی بھی ان میں سرفہرست تھے۔ اس کتاب میں ایک نئی چیز متعارف کرائی گئی۔ وہ یہ تھی کہ تحریک پاکستان کے پہلے شہید محمد مالک کے بارے میں لکھا گیا تھا۔

حمید نظامی اس وقت ایم ایس ایف کے سیکرٹری جنرل تھے اور صدر شیخ انوار الحق تھے جو بعد میں چیف جسٹس پاکستان بنے تھے اور جنہوں نے بھٹو کی پھانسی کی توثیق کی تھی۔‘‘ کتاب ’’یاران مکتب‘‘ کی اشاعت 1988 میں ہوئی تھی جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ اس میں 100 سے زائد انٹرویو شامل تھے، سب ہی نامور لوگ تھے جو بعد میں پاکستان کے اہم عہدوں پر فائز ہوئے۔

پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے پہلے روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ میں مجھے ملازمت مل چکی تھی۔ لیکن مجید نظامی مرحوم کی یہ شرط تھی کہ ایم اے لازمی کرنا ہے، تب ہی مستقل ملازمت ملے گی۔ پنجاپ یونیورسٹی میں جرنلزم ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر مسکین علی حجازی تھے،  چھ ماہ کے لئے یہ تعیناتی ہوتی تھی۔ ان کے ساتھ چھ ماہ پروفیسر وارث میر وائس چانسلر رہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں اس وقت جب داخلے ہو رہے تھے تو سب سے آخری طالب علم میں ہی تھا جسے یہ داخلہ ملا تھا۔

مجھے کہا گیا کہ ’’نوائے وقت‘‘ کا لیٹر لے کر آئیں کیونکہ ورکنگ جرنلسٹ کی ایک سیٹ خالی تھی۔ ان دنوں پنجاب یونیورسٹی میں حمید نظامی کے نام سے ایک چیئر انائونس ہوئی تھی۔ اس کا چیئرمین مجید نظامی کو چنا گیا تھا۔ مسکین حجازی صاحب نے کہا کہ اس چیئر کا اہتما م تم کر و۔ چنانچہ میں نے سارا انتظام کر دیا۔ چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد پرو وائس چیئرمین ڈاکٹر منیرالدین چغتائی تھے۔ ان دونوں سے میری واقفیت تھی کیونکہ ان دونوں کے انٹرویو میں ’’یاران مکتب‘‘ کے لئے کر چکا تھا۔

میں نے ایک اور اہم انٹرویو بیگم منیرالدین چغتائی کا بھی کیا تھا۔ انہوں نے سول سیکرٹریٹ پر پاکستان کا جھنڈا لہرایا تھا۔ لہٰذا اس ساری کاوش کے بعد مجھے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اور مجھے مجید نظامی صاحب نے ’’نوائے وقت‘‘ میں 2350 روپے ماہوار پر بطور سب ایڈیٹر ملازمت دے دی۔ تین ماہ کا عارضی عرصہ تھا جسے پروبیشن پیریڈ کہتے ہیں۔ تین ماہ کے بعد مجھے کنفرم کر دیا گیا۔ ویج بورڈ ایوارڈ کے مطابق گریڈ تھری میں میری یہ پہلی ملازمت تھی۔ کنفرم ہونے کے بعد مجھے ’’نوائے وقت‘‘ میں 4650 روپے ماہوار پر مجید نظامی کا دستخط شدہ لیٹر اور ادارے کا کارڈ ملا جو آج تک میرے پاس موجود ہے۔

جی این بٹ ’’نوائے وقت‘‘ کے کرائم رپورٹر تھے۔ ان کے خلاف کوئی شکایت آئی تو انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا اور قرعہ فال میرے نام نکلا۔ اس طرح میں کرائم رپورٹر بن کر فیلڈ میں آ گیا۔ اس سے پہلے میں نے ہیلتھ رپورٹنگ، ایجوکیشن رپورٹنگ کی، میگزین کے لئے بھی کام کیا تھا۔

یہ 1989 کا زمانہ تھا۔ میں جواں سال تھا۔ مجھے کام کرنے کا جنون تھا۔ اس زمانے میں جنگ، نوائے وقت اور مشرق اردو کے تین سرکردہ اخبار تھے جب کہ انگلش کا ایک اخبار Dawn تھا۔ لاہور میں کل چار کرائم رپورٹر تھے۔

پول رپورٹنگ کا چلن عام تھا۔ یعنی تمام اخبارات میں ایک جیسی خبر شائع ہوا کرتی تھی۔ میں نے اس چلن کو مسترد کیا اور اپنی خبریں دینا شروع کر دیں۔ پولیس میں میرا کوئی شناسا نہیں تھا، میں پولیس سٹیشن نہیں جاتا تھا۔ میرے ذرائع دو طرح کے تھے۔ ایس ایس پی کا جو ہرکارہ کوئی خط یا رپورٹ لے کر جاتا تھا، وہ اس کی ایک فوٹو کاپی مجھے دے دیتا تھا۔ میں اسے پانچ، دس روپے دے دیتا۔ دوسرے ذرائع ایس ایس پی رانا مقبول احمد تھے جن سے میری شناسائی ہو چکی تھی۔ ان کے علاوہ سید سعود عزیز ایس ایس پی، چوہدری تنویر احمد، چوہدری سجاد، چوہدری احمد خان چدھڑ، طارق مسعود کھوسہ بھی تھے جنہوں ایک بار مجھے سبز سیاہی سے یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ ’’نعیم مصطفیٰ ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسمان کیوں ہو‘‘۔

میں نے ایک بار طارق مسعود کھوسہ کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ ایک ایسا پولیس آفیسر ہے جو اپنے کمرے میں اپنی میز کی دوسری جانب کرسی نہیں رکھتا تاآنکہ کوئی مہمان نہ بیٹھ سکے اور اسے ہاتھ بڑھا کے مصافحہ کرنا پڑ جائے۔

وہ ایسا فرض شناس پولیس آفیسر تھا کہ اس کے بارے میں مشہور تھا وہ صبح آٹھ بجے بھی ڈیوٹی پر موجود ہوتا اور رات آٹھ بجے بھی وہ ڈیوٹی پر ہی دکھائی دیتا تھا۔

صحافت آج مشن سے کاروبار اور کاروبار سے ایک صنعت بن چکی ہے۔ مشن کا سفر مجید نظامی کی آنکھ بند ہوتے ہی ختم ہو گیا۔ وہ خود کو مالک نہیں بلکہ ’’مدیر نوائے وقت‘‘ لکھا کرتے تھے۔ ان سے پہلے حمید نظامی، مولانا ظفر علی خان، چراغ حسن حسرت اور مولانا حسرت موہانی اسی روایت کے علمبردار تھے۔

اخباری صنعت میں ضیا شاہد پہلا صحافی تھا جو اخبار کا مالک بنا تھا۔ اور اس نے صحافت میں سٹاک ایکسچینج کی طرز کو اختیار کیا تھا۔ اس کا پہلا شکار اسلامیہ کالج کی طلبہ یونین کا صدر عبیداللہ شیخ تھا۔ وہ سب سے کم عمر ایم پی اے بھی ہوا تھا۔ جس نے نواز شریف کو شکست دے کر الیکشن جیتا تھا۔ ضیا شاہد نے اسے پھانس لیا۔ اور اسے کہا کہ ایک لاکھ روپے کے شیئر لے لو۔ جب اس نے شیئر لے لیے اور کچھ عرصہ کے بعد واپسی کا تقاضا کیا تو ضیا شاہد نے اپنے سٹاف سے کہا کہ اس شخص کو آفس کی سیڑھیاں نہ چڑھنے دینا۔ وہ 34 برس کی عمر میں اسی صدمے سے جاں بحق ہو گیا۔

میں نے بہت کوشش کی کہ ضیا شاہد اس کی بیوہ کو اس کے مرحوم شوہر کے پیسے دے دے لیکن اس نے نہیں دیے۔ ایک اور خاتون فوزیہ بہرام بھی ضیا شاہد کے ہاتھوں خوار ہوئی اور اس کے آفس میں اپنے پیسے لینے آیا کرتی تھی لیکن وہ بھی نامراد ہی دنیا سے رخصت ہوگئی۔

ضیا شاہد ایک evil genius تھا۔ اس نے تیسرا فارمولا پاکستانی اخبارات میں سرمایہ دارانہ نظام صحافت کا متعارف کرایا تھا۔ اس نے جنگ کی تجربہ کار ٹیم کو اٹھایا جن میں بیدار بخت، عثمان یوسف، علمدار شاہ، رانا طاہر محمور جیسے لوگ شامل تھے۔ اس نے ایک وہاڑی کے رہنے والے بااثر اور امیر شخص اکبرعلی بھٹی کو اپنے جال میں پھنسایا اور اس سے کہا کہ آپ پیسہ لگائیں، ہم اخبار چلائیں گے۔ صحافت میں ایک بھونچال آ گیا۔ نیا آغاز ہونے والا اخبار روزنامہ ’’پاکستان‘‘ تھا جس کا چیئر مین اکبر علی بھٹی اور چیف ایڈیٹر ضیا شاہد تھا۔ اس اخبار کا مقابلہ روزنامہ جنگ سے تھا۔

اخبار کے اجرا کے کچھ ہی عرصہ بعد اکبر علی بھٹی اور ضیا شاہد کے مابین تنازعہ ہو گیا۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ خاتون اول (اکبر علی بھٹی کی اہلیہ) نے ایک خبر دی جو ضیا شاہد نے شائع نہیں کی۔ جب اکبر علی بھٹی کو اس کا پتہ چلا تو اسے شدید طیش آیا اور اس نے ضیا شاہد کی کرسی پر ایک چپڑاسی کو بٹھا دیا اور کہا آج سے ضیا شاہد کی جگہ یہ چیف ایڈیٹر ہے اور یہ ہی فیصلہ کرے گا کہ کون سی خبر شائع ہوگی۔ اور ضیا شاہد کو انتہائی بے عزت کرکے فارغ کردیا۔

میں ایک ڈرپوک اور خوف زدہ انسان تھا۔ میں خون دیکھ کر ڈر جایا کرتا تھا۔ مجھے قتل و غارت گری سے بہت ڈر آتا تھا۔ میرے نانا، دادا شاعر تھے۔ ہمارا تعلیم کے شعبے سے واسطہ ہے اور میں اپنے خاندان میں واحد شخص ہوں جو شعبہ صحافت میں آیا اور وہ بھی کرائم رپورٹر بنا۔ آج میں صحافت کے ساتھ ساتھ آٹھ یونیورسٹیوں میں پڑھاتا ہوں۔ میرا آج بھی اصل جذبہ اور مقصد محض صحافت ہی نہیں ہے، میں نے تعلیم کو اپنے اول پیشہ کے طور پر ترجیح دی ہے۔ میں نے سوچا کہ میں اپنے خوف کو کیسے ختم کروں۔ میں نے تھانے کے حوالات میں جی این بٹ کو بند دیکھا تھا۔ میں نے سوچا کہ میں ہر جائے واردات پر جایا کروں۔ کیپٹن زبیر محمود اے ایس پی سول لائنز تھے، پھر ایس پی کینٹ بنے اور پھر آئی جی بلوچستان ہوئے۔ ان کے والد وائس چیئرمین سینیٹ ہوئے۔ انہوں نے اپنے سٹاف میں عمر ورک اے ایس آئی سے میرا تعارف کرایا۔

1986 کا واقعہ ہے کہ اس نے مجھے فون کیا کہ ایک نوجوان نے اپنے ماں باپ کو گاڑی میں بٹھا کے زندہ جلا دیا ہے۔ عمر ورک کی جانب سے مجھے یہ پہلی خبر ملی تھی۔ نوائے وقت میں میرے نیوز ایڈیٹر توصیف احمد خان تھے جو تاخیر سے خبر فائل کرنے کے سخت خلاف تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں ایک خبر کی تصدیق کے لئے جا رہا ہوں کچھ تاخیر ہوگی لیکن آپ انتظار کر لیں، ایئر پورٹ میرے آفس نوائے وقت سے پون گھنٹے کے فاصلے پر تھا۔ میں جائے وقوعہ پر پہنچا تو ششدر رہ گیا۔ جس نے اپنے والدین کا قتل کیا تھا، وہ فوج میں حاظر ڈیوٹی کیپٹن تھا۔ باپ ریٹائیرڈ کرنل تھا اور ماں ریٹائرڈ میجر تھی۔ دونوں ڈاکٹر تھے۔ یہ قتل اس نے جائیداد کی خاطر کیا تھا، اس کا مطالبہ یہ تھا کہ تمام جائیداد میرے نام کر دی جائے، والدین نہیں مانے۔ لہٰذا اس نے یہ انتہائی گھنائونا قدم اٹھایا تھا۔

میں نے پہلی بار جائے وقوعہ پر جا کر یہ خبر رپورٹ کی اور اس طرح میرا خوف بھی ختم ہو گیا۔ اسی طرح کی ایک اور خبر بھی رپورٹ کی تھی۔ باغبانپورہ کے علاقے میں ایک شخص نے اپنی بیوی اور چار بچوں کو قتل کر دیا تھا۔

کرائم رپورٹنگ کے دنوں میں مجھے اشتیاق ہوا کہ میں لاہور کے بدمعاشوں کے بارے میں معلومات حاصل کروں۔ میں ان کے ڈیروں پر جانے لگا۔ اسی طرح پولیس میں بھی کچھ ناپسندیدہ عناصر تھے، جیسے عمر ورک، جاوید شاہ، عابد باکسر، اشرف ٹیڈی، عاشق مارتھ اور رانا فاروق۔ مجھے اندازہ ہوا کہ پولیس اور ڈیرے دار بدمعاشوں کا تال میل کیا ہے؟

جواں سال تھا۔ اب میری صحافت میں ایک نکھار آنے لگا۔ بائی لائن سے میری خبریں شائع ہوتی تھیں۔ نوائے وقت سے شروع ہونے والا سفر روزنامہ جنگ پاکستان اور دیگر روزناموں سے ہوتا ہوا ایک بار پھر روزنامہ پاکستان میں بطور ایڈیٹر اپنے فرائض ادا کر رہا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے نظریات، اداروں کے احترام اور اپنے اخبار کی پالیسی کو ترجیح دینا چاہیے۔ ایک کامیاب صحافی کو ہمیشہ اپنے کام میں نئی جدتوں کو دریافت کرتے ہوئے خوب سے خوب تر کی جستجو کرنا چاہیے۔ چار عشروں پر محیط میرے صحافتی کریئر میں ایسا کوئی لمحہ نہیں ہے جس پر مجھے کوئی ندامت یا پشیمانی کا احساس ہوا ہو۔ میں نے اپنے صحافتی امور کی انجام دہی کے لئے کسی طور بھی  اپنے اصولوں سے انحراف نہیں کیا اور نہ ہی کسی قسم کا سمجھوتہ کیا ہے۔

نعیم مصطفیٰ کا حافظہ بلا کا ہے۔ انہیں پچاس برس کے واقعات اور شخصیات ازبر ہیں۔ انہیں لاہور کی تاریخ کے تمام اہم امور یاد ہیں۔ مگر وہ اپنی آپ بیتی لکھنے سے گریزاں ہیں۔ شاید اس لئے کہ وہ اپنے چینل اور کام میں یہ سب کچھ بیان کرتے جاتے ہیں۔ تاہم میں نے اپنی کتاب کے لئے کے ایک بہت ہی اہم شخصیت کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا۔

طاہر اصغر مصنف و صحافی ہیں ان کی دلچسپی کے موضوعات پروفائل اور آپ بیتی لکھنا ہے۔ وہ جالب بیتی اور منٹو فن و شخصیت کی کہانی کے مصنف ہیں۔ زیر طبع ناول ’’قصہ غوغا غٹرغوں‘‘ ہے ۔موسیقی اور ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔