Get Alerts

عوام پر پھر  ریاستی یلغار

پہلے اسلام آباد میں ریاستی یلغار اور اب کوئٹہ دھاوا پتہ نہیں کیوں ریاسست کو ماں بننے کی بجایے یہ خون آشام چڑیل کا روپ دھارنے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟ یاد رہے دو سال قبل دہلی میں بھارتی کسان سراپا احتجاج تھے اس دروان انہوں نے لال قلعہ پر چڑھائی  کر دی تھی مگر بھارتی ریاست نے ماں بن کر  سوچا تھا اور تحمل کا مظاہرہ کیا تھا۔مگر نہ جانے کیوں ہماری ریاست کی مامتا کیوں بیدار نہیں ہوتی

عوام پر پھر  ریاستی یلغار

 کل بلوچ یکجتی کمیٹی کے دھرنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھاوا بول دیا شرکا  میتیں رکھ کر اجتجاج کر رہے تھے جو سیکورٹی فورسز کے تشدد سے مارے گئے تھے،  جس میں مبنیہ طور  پر ایک 12 سالہ بچہ بھی تھا ، ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور تادم تحریر کسی عدالت کے سامنے پیش کر کے ان کا جرم نہیں بتایا گیا۔  پچھلے چندہ ماہ میں عوام پاکستان پر یہ دوسرا ریاستی دھاوا ہے 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کے جلوس پر بھی رات گئے ہی خونی کھیل مبنیہ طور پر کھیلا گیا تھا۔ یہ جو ہارڈ سٹیٹ کی مثال سپہ سالار دے رہے ہیں  شاید یہی ہے ۔

پہلے اسلام آباد میں ریاستی یلغار اور اب کوئٹہ دھاوا پتہ نہیں کیوں ریاسست کو ماں بننے کی بجایے یہ خون آشام چڑیل کا روپ دھارنے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟ یاد رہے دو سال قبل دہلی میں بھارتی کسان سراپا احتجاج تھے اس دروان انہوں نے لال قلعہ پر چڑھائی  کر دی تھی مگر بھارتی ریاست نے ماں بن کر  سوچا تھا اور تحمل کا مظاہرہ کیا تھا۔مگر نہ جانے کیوں ہماری ریاست کی مامتا کیوں بیدار نہیں ہوتی ، ابھی کچھ دن قبل ہی ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو نوبل انعام کے لئے نامزد کیا گیا ہے ایک تو ہمارا المیہ یہ کہ ہمیں کوئی عالمی اعزاز قبول ہی نہیں ہم ڈاکٹر عبدالاسلام کے نوبل انعام کو قبول نہیں کیا ملالہ یوسف زئی کے نوبل انعام کو شک کی نطر سے دیکھا ایک ڈاکومینٹری فلم میکر شرمین عبید کے آسکر ایوارڈ کا بھی خیرمقدم نہیں کیا اب ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کے نوبل انعام کی نامزدگی کے بعد ان کو گرفتار کر کے ابھی تک لاپتہ رکھا ہوا ہے۔

مشرقی پاکستان کے بہت بڑے سانحے کے باوجود ہماری ییت متدرہ اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے پر بضد ہے جس کے سیب کھانے سے  یہ بیماری درپیش ہے ۔ شتر بے مہار عسکری اور سول نوکر شاہی کچھ اچھا کرنے کو تیار نہیں بلوچستان میں بعاوت کی آگ لگی ہے خبیر پختوانخواہ شدید ناراص ہے گلگت بلستان اور کشمیر میں بے چینی ہے جبکہ سندھی عوام دریائے سندھ میں سے نہریں نکالنے پر سراپا اجتجاج ہیں۔ پنجاب میں بھی حکمران طقبے کے حوالے رائے عامہ اچھی نہیں ہے ۔

 فارم 47 کے صدر آصف علی زرداری نے عید کے بعد بلوچستان میں کمیپ آفس بنانے کا اعلان کیا ہے ، فارم 47 کے وزریر اعلیٰ سرفراز بگٹی ان کی جماعت سے ہیں  آصف علی زرداری جب 2008 میں صدر  تھے تب بھی بلوچستان میں ان کی جماعت کے ایک غیر سنجندہ وزیر اعلیٰ اسلم رعیسانی تھے تب زردای صاحب نے آغاز حقوق بلوچستان پیکج کا اعلان کیا تھا جو بری طرح ناکام رہا تھا۔ اب بھی یہ سب سیاسی شبعدہ بازی ہے آصف علی زردای کبھی بھی عوامی سیاست کے قابل نہیں رہے، انہوں نے پیپلز پارٹی جیسی ملک گیر عوامی جماعت کو اپنی محلاتی جوڑ توڑ والی سیاست کے باعث سندھ کے چند اضلاح تک محدود کر دیا ہے ۔

حرف آخر ملک انارکی کی  کفیت میں  ہے فارم 47 کے وزراعظم شبہاز شریف ٹک ٹاکر وزیر اعلیٰ مریم نواز جن کی اپنی صوبائی سیٹ مشکوک ہے اور ان کٹھ پلتیوں کی ڈوریں ہلانے والے طاقت کے اندھے استمال میں مگن ہیں۔ ملک کا سب سے مققول سیاست دان عمران خان نا حق پابند سلاسل ہے، بلوچستان کی حقیقی نمائندہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ لاپتہ ہے  مگر ییت متدرہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی خدا جانے اس سیاسی ہڑبونگ کا نتیجہ کیا نکلے گا۔؟

حسنین جمیل 17 سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ افسانوں کی تین کتابوں؛ 'کون لوگ'، 'امرتسر 30 کلومیٹر' اور 'ہجرت' کے مصنف ہیں۔