بولی وُڈ کی نئی آنے والی فلم دھرندر کا ٹریلر جب ریلیز ہوا تو سوشل اور روایتی میڈیا پر ایک بھونچال سا مچ گیا۔ ہر طرف دھرندر فلم کی کہانی اور موضوع پر چرچا ہونے لگا ہے۔
فلم دھرندر 5 دسمبر کو بھارت سمیت دنیا بھر کے تقریباً 5 ہزار سنیما گھروں میں ریلیز کر دی جائے گی۔
فلم کی اسٹار کاسٹ میں رنویر سنگھ، سنجے دت، اکشے کھنہ، آر۔ مادھون اور ارجن رام پال شامل ہیں۔ فلم کے اسکرپٹ رائٹر اور ڈائریکٹر آدتیہ دہر ہیں جو متعدد فلموں کی کہانیاں اور اسکرین پلے لکھ چکے ہیں۔ بطور ہدایتکار یہ ان کی دوسری فلم ہے۔ 2019 میں وہ اُڑی: دی سرجیکل اسٹرائیک جیسی سپر ہٹ فلم بنا چکے ہیں، جس کے ہیرو وِکی کوشل تھے۔
دھرندر فلم بھارت کی نہیں، ہمارے کراچی کے لیاری کی کہانی ہے۔ گو کہ کہانی بھارت کے را ہیڈکوارٹر سے شروع ہو گی مگر اس کے تانے بانے اور زیادہ تر حصہ کراچی کے لیاری سے ہی جڑا ہوا ہے۔ اسکرین پلے کا 80 فیصد سے زائد کراچی کی گلیوں پر مشتمل ہے۔
اداکار آر۔ مادھون فلم میں اجیت ڈوول (سابق را چیف اور موجودہ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر، بھارت) کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ رنویر سنگھ ممکنہ طور پر را انٹیلیجنس افسر ہیں۔ سنجے دت ایس پی چوہدری اسلم، اکشے کھنہ رحمان ڈکیت، اور ارجن رام پال آئی ایس آئی کے میجر کا کردار کر رہے ہیں۔ یہ تینوں کردار پاکستانی ہیں اور کافی جاندار دکھائے گئے ہیں۔
سنجے دت نے بڑی مہارت سے ایس پی چوہدری اسلم کا کردار نبھایا ہے—یوں لگتا ہے جیسے چوہدری اسلم دوبارہ زندہ ہو کر آگئے ہوں۔
اکشے کھنہ ایک بڑا اداکار ہے؛ وہ رحمان ڈکیت کے رول میں پوری طرح سمایا ہوا ہے اور نہایت ظالم لُک میں نظر آتا ہے۔
جہاں تک ارجن رام پال کا تعلق ہے، اس کا کردار ’میجر اقبال‘ بھی نہایت سفّاک دکھایا گیا ہے۔
ٹریلر کے آغاز میں جملہ آتا ہے: “71 کے بعد کا زمانہ تھا… جنرل ضیاء الحق کہا کرتے تھے…” حالانکہ 1971 کے بعد بھٹو صاحب کا دور تھا؛ ضیاء الحق تو 1977 میں آئے۔ یہ غالباً ایک غلطی ہے—شاید فلم دیکھ کر واضح ہو جائے۔
ارجن رام پال کو آئی ایس آئی کا بےانتہا بااختیار میجر دکھایا گیا ہے۔ ماضی میں آئی ایس آئی کے ایک طاقتور ترین افسر میجر عامر ہوا کرتے تھے جنہیں بےنظیر بھٹو کی حکومت گرانے کی سازش کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔
مبینہ طور پر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کہیں ارجن رام پال وہی کردار تو نہیں نبھا رہے؟ کیونکہ فلم میں پیپلز پارٹی کے جلسے کے مناظر اور بےنظیر بھٹو کی تصاویر بھی نظر آتی ہیں۔ اور رحمان ڈکیت کا تعلق بھی لیاری پیپلز امن کمیٹی سے تھا۔
یہ ہماری کہانی ہے—جو ہمارے کسی فلم میکر کو بنانی چاہیے تھی۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں آزادیِ اظہار پر پابندیاں ہیں۔