قرارداد لاہور کے متعلق کئی دہائیوں سے ایک مخصوص بیانیہ گڑھا جاتا رہا ہے، جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ قرارداد دراصل برطانوی حکومت کی ایماء پر تیار کی گئی تھی، اور اس کے مصنف سر ظفر اللہ خان تھے۔ ولی خان نے اپنی کتاب حقائق در حقائق میں اس نظریے کو فروغ دیا، اور پرویز پروازی سمیت کچھ دیگر مصنفین نے بھی اسے دہرانے کی کوشش کی۔ لیکن جب ہم تاریخی شواہد، مسلم لیگ کے اصل ریکارڈز اور اس قرارداد کے حوالے سے موجود مستند گواہیوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔
سر محمد ظفر اللہ خان نے خود ڈان اخبار میں 25 دسمبر 1981 کو شائع ہونیوالے ایک بیان میں اس الزام کی سختی سے تردید کی:
"Sir Zafarullah has denied having ever presented a formula of dividing the sub-continent to the then Viceroy—Vehemently refuting (Wali Khan’s assertions) he stated that he only gave opinions to the Viceroy whenever asked to do so.... It is unthinkable that his opinions were passed on the Quaid-e-Azam and he accepted without hesitation.... It was unimaginable that a formula initiated on March 12 was incorporated on March 23, 1940 during those days it took more than two weeks for a communication to reach India from England."
یعنی، نہ تو سر ظفر اللہ خان نے کوئی منصوبہ وائسرائے کو پیش کیا اور نہ ہی ان کے کسی مشورے کو قائد اعظم نے بغیر کسی رد و بدل کے اپنایا۔ مزید برآں، اگر 12 مارچ کو کسی خفیہ انگریز منصوبے کو منظوری ملی ہوتی، تو 23 مارچ کو اسے مسلم لیگ کے اجلاس میں شامل کرنا عملاً ناممکن تھا، کیونکہ اس زمانے میں ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان سرکاری خط و کتابت میں کئی ہفتے لگتے تھے۔
تاریخی حقائق اس سے بالکل مختلف کہانی سناتے ہیں، عاشق حسین بٹالوی، جو خود تحریک پاکستان کے ایک اہم گواہ تھے، نے لکھا کہ قرارداد لاہور کا مسودہ 21 مارچ 1940 کی رات نواب ممدوٹ کے مکان پر تیار کیا گیا۔ اس قرارداد کی ترتیب و تدوین میں چار اہم شخصیات شامل تھیں:
1 قائداعظم محمد علی جناح
2 نواب محمد اسماعیل خان
3 سر سکندر حیات
4 ملک برکت علی
یہی اصل تاریخ ہے، جسے مسلم لیگ کے ریکارڈز بھی ثابت کرتے ہیں۔ اگر قرارداد لاہور کا کوئی خفیہ انگریز منصوبہ ہوتا، تو قائد اعظم اور دیگر مسلم لیگی رہنما اسے خود ترتیب دینے کی زحمت کیوں کرتے؟
یہ قرارداد 23 مارچ 1940 کو سہ پہر 3 بجے منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد کے سامنے پیش کی گئی۔ اس تاریخی لمحے میں بنگال کے اے۔ کے۔ فضل الحق نے قرارداد پیش کی اور مختلف علاقوں کے نمائندوں نے اس کی تائید کی:
یو پی سے خلیق الزماں
پنجاب سے مولانا ظفر علی خان
سرحد سے سردار اورنگزیب خان
سندھ سے عبداللہ ہارون
مدراس سے عبدالحمید خان
سی پی سے عبدالرؤف شاہ
بمبئی سے ابراہیم اسماعیل چندریگر
بہار سے نواب محمد اسماعیل
24 مارچ کو یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی اور یوں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ ریاست کے قیام کی بنیاد رکھ دی۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ قرارداد برطانوی منصوبہ ہوتی، تو کانگریس اور خود برطانوی حکومت اسے فوراً تسلیم کیوں نہ کر لیتے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس قرارداد نے کانگریس سمیت تمام مخالف قوتوں کو پریشان کر دیا تھا۔ برطانوی حکومت نے اسے مسلمانوں کی طرف سے ایک بڑی "بغاوت" سمجھا، اور اسی وجہ سے آنے والے برسوں میں مسلم لیگ اور قائد اعظم کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
لکھاری اکمل شہزاد گھمن صاحب نے بھی اپنی تحقیق میں یہ واضح کیا کہ قرارداد لاہور کے حوالے سے جو غلط بیانی کی جاتی رہی ہے، وہ دراصل ایک مخصوص نظریاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ ان کے مضمون میں زاہد چودھری اور نواب یامین خان کی کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ قرارداد لاہور مکمل طور پر مسلم لیگ کی اپنی سیاسی بصیرت کا نتیجہ تھی۔
اگر ہم مزید تاریخی کتب کا مطالعہ کریں تو سر سکندر حیات، شریف الدین پیرزادہ اور خالد بن مسعود جیسے محققین نے بھی قرارداد لاہور کے حوالے سے سر ظفر اللہ خان کے کردار کو رد کیا ہے۔ وارث میر نے اپنی کتاب وارث میر کا اثاثہ میں بھی واضح طور پر لکھا کہ یہ "صرف ایک شوشہ" تھا جسے بعد میں ایک مخصوص طبقے نے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا گیا ۔
یہ بیانیہ پھیلانے والے دراصل پاکستان کے وجود پر سوالیہ نشان لگانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقائق ہمیشہ اپنے آپ کو ثابت کر دیتے ہیں۔ قرارداد لاہور کسی بیرونی سازش کا حصہ نہیں بلکہ ایک سیاسی، سماجی اور تاریخی ضرورت کا اظہار تھی، جو مسلمانوں کے دیرینہ خواب کو حقیقت میں بدلنے کا پہلا مضبوط قدم ثابت ہوئی۔
یہ کہنا کہ قرارداد لاہور کسی انگریز کے کہنے پر سر ظفر اللہ خان نے لکھی، ایک بے بنیاد مفروضہ ہے، جسے بار بار دہرایا تو جا سکتا ہے۔ لیکن تاریخی حقائق کبھی تبدیل نہیں ہو سکتے، پاکستان کی بنیاد کسی بیرونی طاقت کے اشارے پر نہیں، بلکہ مسلمانوں کی اجتماعی جدوجہد اور قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں رکھی گئی۔
تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں ہمیشہ ہوتی رہی ہیں، لیکن جب ہم اصل دستاویزات، مسلم لیگ کے آرکائیوز اور مستند مورخین کی تحقیق کا مطالعہ کرتے ہیں، تو حقیقت صاف ظاہر ہو جاتی ہے۔ قرارداد لاہور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک نئی امید تھی، اور یہی قرارداد 1947 میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنی۔یہی وہ تاریخی حقیقت ہے، جو کسی بھی پروپیگنڈے سے زیادہ مضبوط اور ناقابلِ تردید ہے۔