جمعرات 26 فروری 2026 کی رات جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی، جب پاکستان نے پہلی مرتبہ واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ اب سرحد پار دہشتگردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کی ریاستی بریفنگ کے مطابق فضائی اور اسٹرائیک آپریشنز کے ذریعے افغانستان کے اندر متعدد عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کابل، قندھار اور پکتیا کے فوجی و عسکری مراکز شامل تھے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں 133 طالبان جنگجو ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جب کہ متعدد عسکری چوکیوں اور انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا۔ یہ کارروائیاں اچانک نہیں تھیں بلکہ دو دہائیوں پر محیط ایک ایسے بحران کا نتیجہ تھیں جس کی بنیادیں سوویت جنگ، ڈاکٹر نجیب اللہ کے قتل، بھارتی مداخلت، افغان داخلی تقسیم اور طالبان کی بدلتی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔
افغانستان تاریخی طور پر ایک مرکزی ریاست کم اور نسلی و علاقائی طاقتوں کا مجموعہ زیادہ رہا ہے۔ پشتون، تاجک، ازبک اور ہزارہ طاقتوں کی اپنی اپنی جغرافیائی گرفت رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کابل کی حکومت کبھی بھی پورے افغانستان پر مکمل رٹ قائم نہ کر سکی۔ طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد توقع تھی کہ وہ ملک کو متحد کریں گے، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف دیتا رہا کہ افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان جیسے گروہ حملے کر رہے ہیں، مگر کابل انتظامیہ نے عملی کارروائی نہیں کی۔ نتیجتاً پاکستان نے “انٹیلی جنس بیسڈ سلیکٹو آپریشنز” کے تحت ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں دہشتگرد کیمپوں کو نشانہ بنایا۔
سنہ 1996 میں سابق افغان صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کا قتل افغانستان کے ریاستی انہدام کا نقطہ آغاز تھا۔ جب طالبان کابل میں داخل ہوئے تو نجیب اللہ اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ میں موجود تھے، مگر انہیں گھسیٹ کر قتل کیا گیا۔ یہ واقعہ صرف ایک سیاسی قتل نہیں تھا بلکہ افغانستان میں ریاستی تسلسل کے خاتمے کی علامت تھا۔ اس وقت بھارت اور دیگر علاقائی طاقتوں نے طالبان کی مخالفت میں شمالی اتحاد کی پشت پناہی کی، مگر افغانستان کو مستحکم کرنے کے بجائے اسے مستقل پراکسی میدان بنا دیا۔ 1992 میں جب ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو انہوں نے افغانستان چھوڑنے کی کوشش کی اور بھارت سمیت چند ممالک ممکنہ جلاوطنی کی منزل کے طور پر زیرِ غور آئے۔ تاہم کابل کی بدلتی ہوئی جنگی صورتحال اور مجاہدین کے کنٹرول کے باعث وہ ہوائی اڈے تک محفوظ طور پر نہ پہنچ سکے اور اقوامِ متحدہ کے کمپاؤنڈ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
بھارت نے 1990 کی دہائی سے افغانستان کو سٹریٹجک گہرائی کے بجائے پاکستان کے خلاف جغرافیائی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا۔ وہی بھارت بعد میں افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے نام پر سیاسی اثرورسوخ قائم کرتا رہا۔ مگر یہ اثرورسوخ افغان ریاست کو مستحکم کرنے کے بجائے داخلی تقسیم کو مزید گہرا کرتا گیا۔ بھارت کی پالیسی کا بنیادی نکتہ یہ رہا: افغانستان کو مستحکم نہیں بلکہ پاکستان مخالف رکھنا۔ اسی سوچ نے افغان سرزمین کو علاقائی پراکسی جنگوں کا مرکز بنایا۔
طالبان کے بانی ملا عمر کا مشہور جملہ تھا کہ “پاکستان پر حملہ افغانستان پر حملہ ہوگا”۔ اس دور میں طالبان پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک ہم آہنگی رکھتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ تجارت، سفارت اور عالمی رسائی پاکستان کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مگر 2021 کے بعد طالبان کی نئی قیادت نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا۔ پاکستان کے مطابق افغان سرزمین پر موجود گروہوں نے اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں حملے کیے، جن کے شواہد پاکستان نے پیش کیے۔
دوحہ معاہدے کا بنیادی اصول یہ تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر پاکستان کے مطابق یہی شرط عملی طور پر پوری نہ کی گئی۔ سرحدی حملوں، خودکش دھماکوں اور دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا، جس کے بعد پاکستان نے دفاعی حکمتِ عملی تبدیل کی۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں سفارتی برداشت ختم اور عسکری ردعمل شروع ہوا۔
روس، چین، ایران اور امریکہ سمیت متعدد عالمی حلقے پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی خطے کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ طالبان آج جس پوزیشن پر کھڑے ہیں وہ ایک واضح تضاد ہے: ماضی میں پاکستان کو اسٹریٹجک اتحادی کہا، آج سرحدی جھڑپوں میں براہِ راست فریق بن گئے، عالمی قبولیت چاہتے ہیں مگر علاقائی اعتماد کھو رہے ہیں۔ افغانستان کی داخلی نسلی تقسیم اور کمزور ریاستی ڈھانچہ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
26 فروری 2026 کی جنگ دراصل ایک اعلان ہے کہ جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ریاستیں اب پراکسی برداشت کرنے کے بجائے براہِ راست ردعمل دے رہی ہیں۔
اگر افغانستان اپنی سرزمین کو واقعی غیر جانبدار بناتا ہے تو خطے میں استحکام ممکن ہے۔ بصورتِ دیگر، تاریخ بتاتی ہے کہ افغانستان ہمیشہ عالمی طاقتوں اور علاقائی کشمکش کا میدان بنتا رہا ہے — اور اس بار اس کی قیمت پورا خطہ ادا کرے گا۔