مصنوعی ذہانت سے لیس چینی چیٹ باٹ ”ڈیپ سیک“ نے جاپانی ٹیک فرم ’این ویڈیا‘ کو ایک ہی دن میں تقریباً 600 ارب ڈالر کا نقصان کرا دیا۔
منگل کو امریکی اسٹاک فیوچرز مستحکم رہے، جبکہ ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ ہوا اور ایشیا کے ٹیک اسٹاکس میں کمی دیکھی گئی۔ یہ سب چین کی ایک اے آئی اسٹارٹ اپ کی نمایاں پیش رفت کے بعد ہوا، جس نے امریکی برتری اور اس شعبے میں بے تحاشہ اخراجات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
Nvidia کی تاریخی گراوٹ
پیر کو امریکی چپ میکر این ویڈیا (Nvidia) کے شیئرز میں 17 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس سے کمپنی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 593 ارب ڈالر کی کمی ہوئی، جو کہ تاریخ میں کسی بھی کمپنی کے لیے سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
روئٹرز کے مطابق اسپیکٹرا مارکیٹ کے صدر برینٹ ڈونیلی نے کہا کہ، ’ہم ایک ایسے دوراہے پر ہیں جہاں تقریباً دو سال سے مارکیٹ پر چھائے بیانیے کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے اثرات کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔‘
ٹیک اسٹاکس اور ایشیائی مارکیٹوں میں مندی
این ویڈیا کی سپلائر جاپانی کمپنی ایڈوانٹیسٹ (Advantest) کے شیئرز 10 فیصد گر گئے، جس سے ہفتہ وار نقصان تقریباً 19 فیصد ہو گیا۔ دیگر کمپنیوں جیسے کہ سافٹ بینک گروپ اور فوروکاوا الیکٹرک کے شیئرز بھی شدید دباؤ کا شکار رہے، جو دو دنوں میں بالترتیب 13 فیصد اور 20 فیصد تک گر چکے ہیں۔
آسٹریلیا میں ڈیٹا سینٹرز کے شعبے سے جڑے ادارے بھی زبردست مندی کا شکار ہوئے، جبکہ تائیوان اور جنوبی کوریا کی ٹیک ہیوی مارکیٹیں تعطیل کے باعث بند رہیں۔
گلوبل مارکیٹس پر اثرات
وال اسٹریٹ پر نسداک 3 فیصد گر گیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں 1.5 فیصد کی کمی ہوئی۔ چپ میکر براڈ کام کے شیئرز میں 17.4 فیصد کمی اور سیمی کنڈکٹر انڈیکس میں 9.2 فیصد گراوٹ دیکھی گئی، جو مارچ 2020 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔
یورپ میں ٹیکنالوجی انڈیکس 3 فیصد نیچے آیا، اور چپ مینوفیکچرنگ آلات بنانے والی کمپنی اے ایس ایم ایل کے شیئرز میں 7 فیصد کمی ہوئی۔
چین کی مصنوعی ذہانت کا چیلنج
چین کے اس نامعلوم اسٹارٹ اپ ”DeepSeek“ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کم قیمت والے چپس اور محدود ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے ایک اے آئی ماڈل تیار کیا ہے، جو امریکی ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
جے پی مورگن کے ماہر جوش مائرز کے مطابق، ’یہ پیش رفت بڑی امریکی کمپنیوں جیسے OpenAI، Google اور Anthropic کے مہنگے آپریشنز پر سوالات کھڑے کر رہی ہے اور کم بجٹ میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے امکانات کو ظاہر کر رہی ہے۔‘
محفوظ اثاثوں کی طرف رجحان
مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ اثاثے جیسے کہ گورنمنٹ بانڈز، جاپانی ین اور سوئس فرانک کی طرف رجوع کیا ہے۔ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 9.5 بیسس پوائنٹس گر گئی، جبکہ تیل کی قیمتیں 2 فیصد کم ہوئیں۔
ڈالر اور دیگر کرنسیز
ڈالر نے جاپانی ین اور سوئس فرانک کے مقابلے میں معمولی اضافہ کیا، جبکہ یورو کے مقابلے میں 1.0454 پر مستحکم رہا۔
مارکیٹ میں اس وقت عدم استحکام دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ Nvidia کی گراوٹ اور چین کی مصنوعی ذہانت کی صنعت کی غیر متوقع پیش رفت ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو اور یورپی سینٹرل بینک کی جانب سے رواں ہفتے شرح سود کے فیصلے بھی مارکیٹ کے رجحانات کو متاثر کریں گے۔