Get Alerts

پیکا ایکٹ وقت کی ضرورت یا حکومت کی حماقت

آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے، جس کا مقصد حکومت کے کاموں پر نظر رکھنا، عوام کے حقوق کا دفاع کرنا، اور معاشرتی انصاف کو فروغ دینا ہوتا ہے،پیکا ایکٹ 2025، حکومت پاکستان کی طرف سے آن لائن اور الیکٹرانک جرائم کے خلاف اقدامات کو مضبوط کرنے کے لئے متعارف کرایا گیا تھا، اس کا مقصد سائبر کرائمز کی روک تھام اور انٹرنیٹ پر غلط معلومات، نفرت انگیز مواد، اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی بدعنوانیوں کو قابو کرنا تھا،لیکن جب اس ایکٹ کی تشریح کی جاتی ہے، تو اس میں ایسی دفعات بھی ہیں جو آزادی اظہار اور صحافتی آزادی پر اثرانداز ہو سکتی ہیں

پیکا ایکٹ وقت کی ضرورت یا حکومت کی حماقت

تحریر:(محمد ذیشان اشرف)

آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے، جس کا مقصد حکومت کے کاموں پر نظر رکھنا، عوام کے حقوق کا دفاع کرنا، اور معاشرتی انصاف کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا اور میڈیا کا استعمال جس حد تک بڑھ گیا ہے اسی طرح حکومت کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس وقت یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ کوئی ایسا قانون بنایا جائے جس سے سائبر کرائمز کی روک تھام اور انٹرنیٹ پر غلط معلومات، نفرت انگیز مواد، اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی بدعنوانیوں کو قابو کیا جا سکے۔ اس تناظر میں حکومت نے پیکا ایکٹ 2025 اسمبلی میں پیش کیا اور پاس کروایا۔ بل سینیٹ سے بھی پاس کروا لیا گیا جس کے بعد صدرِ مملکت نے صحافیوں کے احتجاج کے باوجود بل پر دستخط کی رسمی کارروائی بھی پوری کر دی۔

پیکا ایکٹ (پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) کے تحت جھوٹی خبر پھیلانے پر 3 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے

پیکا ایکٹ 2025، حکومت پاکستان کی طرف سے آن لائن اور الیکٹرانک جرائم کے خلاف اقدامات کو مضبوط کرنے کے لئے متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کا مقصد سائبر کرائمز کی روک تھام اور انٹرنیٹ پر غلط معلومات، نفرت انگیز مواد، اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی بدعنوانیوں کو قابو کرنا تھا۔ لیکن جب اس ایکٹ کی تشریح کی جاتی ہے، تو اس میں ایسی دفعات بھی ہیں جو آزادی اظہار اور صحافتی آزادی پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔

پیکا ایکٹ 2025 کی متنازعہ دفعات

پیکا ایکٹ کی کچھ دفعات پر میڈیا اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان دفعات میں خاص طور پر آن لائن بدعنوانیوں کے لئے سخت سزاؤں اور حکومت کو بلاوجہ طاقت دینے والے اختیارات کی بات کی گئی ہے۔

1) معلومات کا غلط استعمال: پیکا ایکٹ کے سیکشن 20 اور 21 میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی فرد نے سوشل میڈیا یا دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر بے بنیاد یا غلط معلومات پھیلائیں، تو اسے سزا دی جا سکتی ہے۔ ان دفعات کو لے کر تشویش ہے کہ حکومت یا حکومتی ادارے صحافیوں اور عوام کے خلاف ان کا غلط استعمال کر سکتے ہیں، جس سے آزاد صحافت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

2) انتقامی اقدامات کا خطرہ: ایکٹ کے تحت حکومت یا کسی ادارے کے خلاف عوامی طور پر تنقید کرنا بھی مجرمانہ ثابت ہو سکتا ہے، جس سے صحافیوں، بلاگرز، یا سوشل میڈیا صارفین کے لئے خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

آزاد صحافت پر اثرات

پیکا ایکٹ 2025 کے تحت صحافت کی آزادی کو محدود کرنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے جس سے صحافتی فرائض میں خلل پیدا ہوتا ہے۔

1) سیلف سنسرشپ: صحافی اور میڈیا ادارے اس خوف سے کہ کہیں ان کے مواد کی وجہ سے قانونی کارروائی نہ ہو، سیلف سنسرشپ اختیار کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ حساس یا نازک موضوعات پر خبریں نشر نہ کی جائیں تاکہ کسی قانونی تنازع سے بچا جا سکے، ایسا ہوا تو صحافت کی آزادی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہو گا۔ 

2) صحافیوں کی حفاظت: آزاد صحافت پر حملے اور صحافیوں کو قانونی یا جسمانی خطرات کا سامنا بھی بڑھ سکتا ہے۔ جب ریاست کے پاس اتنے وسیع اختیارات ہوں، تو صحافیوں کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ تنقیدی رپورٹنگ کرنے سے گریز کریں۔ اگر تنقیدی رپورٹنگ نہ ہو تو معاشی مسائل، کرپشن اور دیگر اہم امور پر رپورٹنگ یا صحافت انتہائی مشکل ہو جائے گی۔

3) غلط معلومات کے خلاف اقدامات: پیکا ایکٹ کا مقصد اگرچہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے، لیکن اس کے ذریعے ریاستی اداروں کو غلط معلومات کے الزام میں صحافیوں یا میڈیا ہاؤسز کو نشانہ بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔

صحافتی آزادی اور جمہوریت کا تعلق

صحافت کی آزادی کسی بھی جمہوریت کی پختگی کی علامت ہوتی ہے، جب صحافی آزادانہ طور پر حکومت یا طاقتور اداروں پر سوال اٹھا سکتے ہیں اور عوام کو حقیقت سے آگاہ کر سکتے ہیں، تو ایک مضبوط جمہوری معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جب صحافتی آزادی کو محدود کیا جاتا ہے یا صحافیوں کو ریاستی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے، تو جمہوریت کمزور پڑ جاتی ہے اور عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

پیکا ایکٹ 2025 نے جہاں ایک طرف آن لائن جرائم کو قابو کرنے کے لئے اہم اقدامات کیے ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے نتیجے میں آزادی صحافت پر منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ قوانین کی تشریح اور ان کا نفاذ اس طرح سے کیا جائے کہ صحافیوں اور میڈیا کی آزادی متاثر نہ ہو۔ آزاد صحافت نہ صرف ایک حق ہے بلکہ ایک جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے جس پر ریاستی طاقت کو چیک کیا جا سکتا ہے۔

اگر پیکا ایکٹ کی موجودہ تشریحات کو نظرانداز کیا جائے اور اس کے قوانین کو صحافتی آزادی کو تحفظ دینے کی بجائے دبانے کے لئے استعمال کیا جائے، تو یہ نہ صرف آزادی اظہار رائے پر قدغن ہو گی بلکہ اس سے جمہوریت کی بنیاد بھی کمزور ہو گی۔